نائجیریا: عالم دین سے جھگڑا، ہجوم نے ایک شخص کو زندہ جلا دیا
گذشتہ ماہ سوکوٹو شہر میں ایک عیسائی طالبہ کو مسلمان طلبہ نے مار مار کر آگ لگا دی تھی جنہوں نے اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ابوجا میں مارے جانے والے شخص کی شناخت پولیس نے ایک مقامی تحفظ امن کے رکن کی حیثیت سے کروائی ہے جو لوگبی ایریا میں فیڈرل ہاؤسنگ اسٹیٹ میں مقیم تھا۔
پولیس کو یہ شخص جائے وقوعہ پر ملا تو وہ شدید جھلسا ہوا تھا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔بی بی سی ابوجا کے رپورٹر کرس ایوکور کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ نائیجیریا میں ہجوم کی جانب سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں مشتعل ہجوم آخر قانون ہاتھ میں کیوں لیتا ہے؟
انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں مرتے شخص کے ساتھ سیلفیاں
’میرا بیٹا اس علاقے کو بچانے گیا جس سے اسے محبت تھی، مگر اسے زندہ جلا دیا گیا‘
’فیکٹری میں کچھ لوگ خاموش تماشائی بن گئے، باقی انھیں قتل کرنا چاہتے تھے‘
ہجوم کے ذریعے تشدد کا فروغ بہت خطرناکدو ہفتے قبل ابوجا کے مضافاتی علاقے میں کمرشل موٹر سائیکل چلانے والوں اور تاجروں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔کچھ دن پہلے، ہجوم کے تشدد کے نتیجے میں ملک کے تجارتی مرکز لاگوس میں ایک 38 سالہ ساؤنڈ انجینئر کی موت واقع ہوئی تھی۔انسانی حقوق کے کارلنوں کا کہنا ہے کہ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے متواتر واقعات کو فوجداری نظام انصاف پر عدم اعتماد کی وجہ تقویت ملتی ہے۔


