فلم ریویو: کملی


مصنف: فاطمہ ستار
ڈائریکٹر:سرمد سلطان کھوسٹ
کاسٹ: صبا قمر، ثانیہ سعید، نمرہ بچہ، عمیر رانا، حمزہ خواجہ

دوستو میں نے سوچا تھا کہ اس بار فلم دیکھتے ہی جلد از جلد ریویو لکھ کر بھیج دوں گی تاکہ وہ جلدی سے آپ سب تک پہنچ جائے لیکن۔ کچھ چیزیں انسان کو اپنے سحر میں ایسے جکڑ لیتی ہیں کہ وہ خود بھی اس سحر سے اس احساس سے باہر نہیں نکلنا چاہتا یہی میرے ساتھ شاہکار فلم ”کملی“ کو دیکھنے کے بعد ہوا ہے، پچھلے دو دنوں میں، میں نے کئی بار سوچا کہ اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کون سے الفاظ لکھوں جو اس کی ٹیم کی محنت کا حق ادا کر پائیں اور ہر بار میرے ذہن میں یہی الفاظ آئے ”واہ کیا بات ہے، کمال ہے“ ۔

کچھ فلمیں انسان کو رلاتی ہیں کچھ ہنساتی ہیں کچھ غصہ دلاتی ہیں اور کچھ ڈرا دیتی ہیں اور یہ سارے احساسات وقتی ہوتے ہیں فلم ختم بات ختم لیکن ایسی فلمیں بہت کم ہوتی ہیں جو دیکھنے والے کے اندر طوفان لے آتی ہیں اس کے احساسات کو جگا دیتی ہیں اس کی انسانیت کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، فلم کے پیغام کو دیکھنے والے پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ بور کیے بنا اس کے ذہن میں سوال اٹھاتی ہیں، یہ فلمیں دیکھ کر کہیں آپ مسکراتے ہیں کہیں رو دیتے ہیں لیکن اصل چیز جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ آپ ہر ہر لمحہ اپنے اندر کچھ محسوس کرتے ہیں۔ آپ ان باتوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ہمیشہ سے آپ کے اردگرد تھیں لیکن آپ نے کبھی ان پر توجہ نہیں دی تھی ایسے میں زندگی کے بہت سے راز آپ پر آشکار ہوتے ہیں جو آپ کو اندر سے بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

اس فلم کی رائٹر فاطمہ ستار  نے یہ دلوں میں اترتی ہوئی کہانی لکھ کر قلم کا حق ادا کر دیا ہے، زبان کا استعمال اور الفاظ کا چناؤ بہت زبردست ہے۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے ٹیلنٹ سے کون واقف نہیں، اداکاری ہو یا ڈائریکشن سرمد اپنی ذمہ داری بہت اچھے سے نبھاتے ہیں۔ فلم ”کملی“ میں انہوں نے ہر ہر ایکٹر سے بہترین کام لیا ہے ان کے اندر سے فلم کے کرداروں کو باہر نکال کر لائے ہیں۔ یہ فلم دیکھتے ہوئے دیکھنے والوں کی توجہ ادھر ادھر جا ہی نہیں پاتی کیونکہ کہانی اور اداکاری اسے اپنے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ فلم کی کاسٹنگ پر بہت سوچ بچار کی گئی ہے ہر اداکار اپنے کردار میں ایک دم فٹ نظر آتا ہے اور کسی کو بھی دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ اس کی جگہ فلاں اداکار کو ہونا چاہیے تھا۔

فلم کے ہیرو حمزہ خواجہ کے بارے میں ذہن میں یہ خیال آتا تھا کہ نیا بندہ ہے پتا نہیں کیسا کام کیا ہو گا لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حمزہ خواجہ نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے اور کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی نیا اداکار ہے، ان کی اداکاری ان کا بولنے کا انداز پوری طرح ان کے کردار کے مطابق ہے۔

ثانیہ سعید کو آج تک بہت سے کرداروں میں دیکھا ہے لیکن یہ کر داران کے بہترین کرداروں میں شامل کیا جاسکتا ہے اتنی خوبصورت اداکاری ثانیہ سعید ہی کر سکتی ہیں، ایک ہی کردار میں اتنے ڈھیر سارے شیڈز دکھانا کہ دیکھنے والا ان سے نفرت بھی محسوس کرے غصہ بھی ہو اور ان کے لیے اپنے دل میں درد بھی محسوس کرے، ایسا کردار نبھانا یقیناً کوئی آسان کام نہیں ہے۔ نمرہ بچہ کو دیکھ کر لگا کہ یہ کردار ان کے سوا کون نبھا سکتا تھا بھلا، مختلف زبانوں کو ایک ہی وقت میں بہترین طریقے سے بولنا اور کردار کو زندہ کر دینا، کمال بات ہے۔ عمیر رانا نے اپنے مختصر کردار میں بہت ہی کم الفاظ کے باوجود اپنی اداکاری اور اور تاثرات سے بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ فلم میں جس کوئی ایک سین کے لیے بھی پردے پر دکھائی دیا ہے اس کی محنت نظر آتی ہے۔

اس فلم کا میوزک تو آپ سب سن ہی چکے ہیں دل کو لبھاتے یہ گانے سچوئیشن کے مطابق ڈالے گئے ہیں جن کی وجہ سے وہ فلم پر بوجھ لگنے کی بجائے فلم کا ضروری حصہ بن گئے ہیں اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس فلم کے گانے لوگوں کے ذہن اور دل میں ہمیشہ زندہ رہ جانے والے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں صبا قمر کی جو فلم کا مرکزی کردار ہیں، صبا قمر کی صلاحیتوں اور اداکاری کے بارے میں ہم سب ہی جانتے ہیں اور ان کے مداح بھی ہیں لیکن اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ فلم کا مرکزی کردار ہونے کے باوجود ہمیں فلم میں کہیں بھی صبا قمر دکھائی نہیں دیتیں سکرین پر صرف حنا نظر آتی ہے اور دیکھنے والا صرف حنا کی زندگی اس کی مسکراہٹ اور اس کے غم میں کھویا رہتا ہے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ صبا قمر بہت اچھی اداکاری کر رہی ہیں کیونکہ وہاں صبا قمر کہیں ہیں ہی نہیں وہاں تو صرف حنا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اس فلم میں صبا قمر نے حنا کے کردار کو کسی لباس کی طرح پہن لیا ہے۔ بنا کسی گلیمر کے سادہ سے لباس میں دکھائی دیتی صبا قمر اتنی ہی خوبصورت اور دل کو چھو جانے والی نظر آتی ہیں جیسا کہ کسی بہت ہی خوبصورت یا گلیمرس گیٹ اپ میں، اور ایسا ہر کسی کے ساتھ نہیں ہوتا۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے ہر ہر کردار کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں کی جا سکتی ہیں لیکن میں نہیں چاہتی کہ فلم کی سٹوری خراب ہو جائے اس لیے فلم کی کہانی کی ڈیٹیل میں جانے سے گریز کر رہی ہوں۔ بس نیچے دیے گئے خوبصورت اشعار کی صورت میں آپ کو اشارہ ہی دے سکتی ہوں مجھے یقین ہے فلم دیکھنے کے بعد آپ لوگوں کے ذہن میں بھی یہ اشعار ضرور آئیں گے

جو حال پوچھا تو ہم حال دل سنا نہ سکے
زباں پہ آئے فسانے کو لب پہ لا نہ سکے
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
باتیں جو زباں تک آنہ سکیں
آنکھوں نے کہیں، آنکھوں نے سنیں
کچھ ہونٹوں پر کچھ آنکھوں میں
ان کہے فسانے رہ بھی گئے
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
دیکھیں گے انہیں دل کہتا تھا
جب دیکھا تو دیکھا نہ گیا
کچھ نکلے، کچھ بے چین ہوئے
کچھ ارماں دل میں رہ بھی گئے
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

ایک بہت ہی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ فلموں کو آرٹ فلم کا ٹائٹل دے دیا جاتا ہے اور اصل بری بات یہ نہیں ہے کہ انہیں آرٹ فلم کہا جاتا ہے بلکہ بری بات یہ ہے کہ آرٹ فلم سے مراد ہم ایک ایسے بچے کو لیتے ہیں جو ہمیں پیارا ہو جو بے حد خوبصورت اور دل کو چھو جانے والا ہو لیکن اس کی آنکھوں میں ہم دنیا کی بد صورتی اور عام انسانوں کے دلوں میں چھپے دکھ اور ان کے مسائل کو بھی دیکھ سکتے ہوں اور یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہم جان بوجھ کر نظریں چرانا چاہتے ہیں اسی لیے ہم اپنے دل کو بہلانے کے لیے (کہ ہم نے فلم کا حق ادا کر دیا ہے ) ایسی فلمز کو بڑے بڑے ایوارڈز دے کر سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں۔

فلم ”کملی“ کے بارے میں بھی یہ سننے میں آیا تھا کہ بھئی یہ تو آرٹ فلم ہے لوگ ایسی فلمز نہیں دیکھتے، ایسی فلم پیسہ نہیں کما سکتی وغیرہ وغیرہ، گویا ہمارے ہاں آرٹ فلم کا مطلب یہ لے لیا گیا ہے کہ وہ بہت بور کرنے والی ہوگی۔ ”کملی“ آرٹ فلم ہے سیمی آرٹ فلم ہے یا بس فلم ہے، یہ جو بھی ہے میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ ایسی خوبصورت فلمیں بنتے رہنی چاہیے صرف ہمارے ملک کو نہیں بلکہ دنیا کو ایسی فلمز کی بہت ضرورت ہے۔ ”کملی“ کی پوری ٹیم کو پاکستان اور دنیا کو اتنی خوبصورت فلم دینے پر بہت ساری مبارکباد اور نیک خواہشات۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حمیرا گلزار خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments