دفاعی بجٹ میں اضافہ اور تعلیمی بجٹ میں کمی کیوں ضروری ہے؟

کچھ دنوں سے ملک دشمن عناصر دفاعی بجٹ میں محض 6 فیصد اضافہ پر شور شرابا کر رہے ہیں۔ اب ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ پاکستان جیسے ملک، جو کہ دشمنوں میں گھرا ہوا ہے، کے دفاع کے لئے یہ کتنا ضروری ہے۔ اگر امریکہ اپنے نکمے اور لادین فوجیوں پر ویتنام، کوریا، افغانستان اور عراق جنگوں میں کئی ناکامیوں اور شکست کے بعد بھی اربوں ڈالر خرچ کر سکتا ہے تو پاکستان جس کی فوج نے نہ صرف 1965 میں بھارت کو شکست فاش دی بلکہ 1971 میں مغربی پاکستان کی بھی حفاظت کی اور اب کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے بھی پاک کر دیا ہے تو اس کے لئے محض 6 فیصد کا اضافہ کون سی بڑی بات ہے!
اب کچھ ملک دشمن عناصر یہ اعتراض کریں گے کہ ہائر ایجوکیشن کی بجٹ میں 70 فیصد کی کمی اور دفاعی بجٹ میں 6 فیصد کا اضافہ کہاں کا انصاف ہے؟ اس بے تکی بات کے جواب میں مندرجہ ذیل گزارشات پیش کرنا چاہوں گا کہ کیوں اعلی تعلیم کی بجٹ میں کمی اور دفاعی بجٹ میں اضافہ ضروری تھا۔
پہلی بات یہ ذہن نشین کر لیں کہ برطانیہ سے تین اہم چیزیں ہمیں ورثے میں ملی تھیں : ایک ریل کا نظام، دوسری چیز سول بیوروکریسی اور تیسری اہم چیز فوج کا ادارہ۔
ریل کا نظام تو آپ کے سامنے ہی ہے۔ سول بیوروکریسی کی حالت بھی بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ اب صرف فوج ہی وہ ادارہ باقی رہ چکا ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ اول الذکر دونوں کے زوال کی وجہ پیسے اور ریسورسز کی کمی اور پروفیشنلزم کی تباہی جبکہ فوج کی ترقی کی وجہ اس کی معاشی ضروریات کی فراوانی اور اعلی درجے کی تربیت ہے۔
دوسری بات یہ کہ آپ اسے اللہ کی مہربانی سمجھیں یا اس ذات برتر کی قہر، پاکستان بقول ٹم مارشل، اپنے جغرافیہ کا قیدی ملک ہے۔ نہ یہ اپنا جغرافیہ تبدیل کر سکتا ہے نہ ہی اپنے پڑوسی۔ جغرافیہ کے ساتھ ساتھ درجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر ایک طاقتور فوج کی تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت تھی اور رہے گی:
1۔ مشرق میں لادین اور سیکولر بھارت ہے جو کہ پاکستان کو دو لخت کر چکا ہے۔
2۔ شمال مغرب میں افغانستان جس پر کوئی بھروسا نہیں جبکہ جنوب مغرب میں اہل تشیع ایران جو کہ سنیوں کے پرانے دشمن ہیں۔
3۔ جس طرح پہلے امریکہ کی خوشنودی کے لئے روس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایک طاقتور فوج کی ضرورت تھی، اب بھی چین کی خواہش پر امریکہ سے دور رہ کر ایک صالح مسلمان ملک بننے، بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے اور ”سی پیک کی حفاظت“ کے لئے فوج اتنی ہی اہم ہے۔
عالمی منڈی اور ملک میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے بھی فوج کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا دفاعی بجٹ میں اضافہ ایک خوش آئند بات ہے۔ پہلے فوج کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت اور پارلیمنٹ فتح کرنے تک محدود ہوتا تھا، اب ان کا دائرہ کار بڑھ کر صنعت و تجارت تک جا پہنچا ہے اس لئے بجٹ بڑھانا عین وقت کی ضرورت تھی۔
ایک سروے کے مطابق اب شہری علاقوں کے نوجوان فوج میں کم بھرتی ہوتے ہیں جبکہ دیہات سے زیادہ بچے کمیشن لیتے ہیں۔ صرف وہی شہری بچے کمیشن لیتے ہیں جن کے والدین فوج سے وابستہ ہوں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ اب شہری بچے اعلی تعلیم کی طرف جاتے ہیں۔ اس مسلے کے حل کے لئے اعلی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی ایک انتہائی زبردست اقدام ہے کیونکہ ایف اے اور ایف ایس سی کرنے کے بعد اعلی تعلیم تک رسائی محدود ہو جائے گی۔ جب زیادہ بچے اعلی تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے تو بھرتی کرنے کے وقت فوج کو اچھے رنگروٹ اور نتیجہ جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف جیسے نڈر، بہادر حکمران اور جرنیل مل جائیں گے۔
دفاعی بجٹ میں اضافے سے ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ نئے پراجیکٹس، نئے ہاؤسنگ اسکیمز اور نئے کینٹ ایریا بنیں گے۔ جب یہ سب بنیں گے تو ترقی یقینی ہو گی۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈی ایچ اے اور کینٹ ایریا اپنے ارد گرد کے علاقوں سے کافی ترقی یافتہ اور ماڈرن ہوتے ہیں۔ ذرا سوچئے اگر پورے کا پورا شہر کینٹ ایریا بنے گا تو وہاں کیا خوبصورت ماحول ہو گا۔ ساتھ ہی ساتھ ہر جگہ امن و امان ہو گا کیونکہ ان علاقوں میں کوئی تخریب کاری کی گنجائش ہوتی ہی نہیں۔
ان باتوں کی روشنی میں ہر ایک محب وطن پاکستانی کی یہ خواہش ہوگی کہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ ہو۔ عوامی مطالبہ یہی ہو گا کہ جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے کیونکہ ہمیں اپنی فوج سے محبت ہے۔ ہمارا دفاع پاک آرمی کے ساتھ وابستہ ہے۔ دفاعی بجٹ کی مخالفت فوج کی مخالفت ہے اور جو کوئی فوج کے خلاف بات کرے وہ یقیناً غدار ہی ہو گا۔ کوئی محب وطن پاکستانی اس کی مخالفت کر ہی نہیں سکتا ہے۔ لہذا اس میں مزید اضافہ کر کے ہمارے دفاع کو نا قابل تسخیر بنایا جائے۔

