اقتصادی بحران اور ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے سیدنا عمر ؓ کے اقدامات: (حصہ اول)


مصنف حبشی، عبد الطیف، منیر احمد خان کے طویل ریسرچ پیپر کا خلاصہ ان لوگوں کے لئے کہ جن کا خیال ہے کہ ”ریاست مدینہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی بلکہ یہ ایک چھوٹی سی قبائلی بستی تھی“ اور آج کے معاشی بحران، مسائل اور مشکلات سے نکلنے کا راستہ کیا ہو سکتا ہے؟

رسول ﷺکے بعد حضرت ابو بکر ؓ کو آپ کا جا نشین مقرر کیا گیا۔ حضرت ابو بکر ؓ کی وفات کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے۔ آپ کا دور خلافت ہر لحاظ سے تاریخی اور مثالی ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے اپنے دور خلافت میں آپ کی صلاحیتوں کو اچھی طرح جانچ لیا تھا۔ کیونکہ آپ کے زمانے میں حضرت عمر ؓ مشیر خاص تھے یہی وجہ تھی کی جب حضرت عمر ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق کی طرف سے اپنے لئے نامزدگی کا اعلان ہوا اور انہوں نے معذرت کرنا چاہی اور عرض کیا کہ مجھے خلافت کی حاجت نہیں تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا:

اگر تمہیں اس (خلافت ) کی ضرورت نہیں ہے تو اس (خلافت) کو تمہاری ضرورت ہے۔ آپﷺ نے آئندہ فتوحات اسلام کے غلبہ اور امن و امان کے قیام کی پیشن گوئی فرمائی تھی۔ صادق و مصدوق کی پیشن گوئی حضرات خلفاء خصوصاً دور فاروقی میں پوری ہوئی۔ چونکہ آپﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے اس وقت کی دو بڑی طاقتوں روم و فارس کو فتح کرنا بھی شامل تھا ”

حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں فارس، عراق، جزیرہ خراسان، بلوچستان، شام، مصر وغیرہ کے علاقے فتح ہوئے اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں روم و فارس پر اسلامی پرچم لہرا دیا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں جس طرح ملکی نظم و نسق کو مدبرانہ انداز سے چلایا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، جدید مغربی دنیا کے متعصب مستشرقین بھی ان کی انتظامی صلاحیتوں اور ان کے کارناموں کے اعتراف پر مجبور ہیں۔ دنیا کے سارے نظام بظاہر یہ کوشش کرتے ہیں کہ حکومت اور عوام کو قریب لایا جائے اور حاکم و محکوم کی تمیزیں ختم کی جائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوری نظام ہو یا غیر جمہوری یہ تمیزیں آج تک ختم نہیں ہو سکیں۔ انسانی تاریخ میں صرف خلافت کا زمانہ ہے جس میں یہ تمیزیں ختم کر دی گئیں اور خلیفہ ہر اعتبار سے عوام کا نمائندہ تھا۔ آج صدیاں گزر جانے کے باوجود انسانی تاریخ زمانہ خلافت (عمر فاروق ؓ ) کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

دور فاروقی میں خوشحالی و فارغ البالی :

مدینہ اور جزیرہ نما عرب کے مختلف گوشوں میں مسلمان فتح نصرت کی خبروں سے مسرت اندوز ہو رہے تھے جو عراق و شام میں ان کی فوجوں سے پیمان وفا باندہ چکی تھی۔ مال غنیمت کا خمس بارگاہ خلافت میں پہنچتا اور خلیفہ المسلیمین اسے مسلمانوں میں تقسیم فرما دیتے جس سے ان کی زندگی میں آسودگی اور ان کی بدویانہ تنگی و خشکی میں تمدنی فراخی و تازگی سرسرانے لگی، وظیفوں اور روزینوں کے اس سلسلے نے ان میں اتنی سکت پیدا کر دی کہ وہ یمن اور شام کی تجارتی اشیاء میں سے من بھائی چیزیں خرید سکیں اور جہازوں کے ذریعے مصر سے آنے والی نعمتوں کا ذخیرہ فراہم کر سکیں۔ جو اس سے پہلے انہیں کبھی نصیب نہ ہوئی تھیں۔ اس فراخ دستی و فارغ البالی نے انہیں زندگی سے زیادہ قریب کر دیا۔ شوق جہاد ان کے دلوں میں تیز ہو گیا اور وہ اس دین قیم سے چمٹ گئے جس نے دنیا اور آخرت کی نعمتیں ان پر عام کر دیں۔

اقتصادی بحران (قحط سالی) اور اس کے اسباب:

سیدنا عمر بن خطاب ؓ کی مدت خلافت میں عوام عیش و فراغت کی یہی زندگی بسر کر رہے تھے کہ اچانک اسلامی سلطنت ابتلا و آزمائش سے دوچار ہوئی اور اس میں کوئی تعجب نہیں کیونکہ ابتلاء و آزمائش کے دور سے تمام اقوام، ممالک، جماعتوں، اور افراد کو ہمیشہ گزرنا پڑتا ہے، یہ ایک قدیم سنت رہی ہے۔ امت مسلمہ بھی دیگر اقوام کی طرح ایک امت ہے۔ اس میں بھی اللہ کی سنت عادلہ قائم و جاری ہوئی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

بہر حال دور فاروقی کی سب سے عظیم آزمائش ”عام الرمادہ“ (یعنی) اقتصادی بحران یا قحط سالی کی شکل میں منظر عام پر آئی ہم اس مقام پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان بحرانی و ہنگامی حالات (Emergency) میں عمر ؓ کا کیا تعامل رہا۔ اور کس طرح آپ نے جائز اسباب و سائل اور تدابیر کو اختیار کر کے اور اللہ تعالیٰ سے دعا وگریہ و زاری کر کے ان آزمائشوں سے سرخرو ہوئے؟ چنانچہ 18 ہجری میں جزیرہ عرب میں سخت قحط پڑا، لوگ خوراک کے لئے ترس گئے۔

بھوک کی شدت اور خوراک کے فقدان کا یہ عالم تھا کہ درندے بھاگ بھاگ کر انسانوں کے پاس پناہ لیتے تھے۔ آدمی بکری ذبح کرتا تھا لیکن کھا نہ پاتا کیونکہ وہ اس قابل نہ ہوتی۔ خشک سالی کی وجہ سے بہت سے مویشی بھوک کی تاب نہ لا سکے اور مر گئے۔ اس سال کا نام ”عام الرمادہ“ رکھا گیا۔ اس لئے کہ ہوا مٹی دھول کو راکھ کی طرح خوب اڑاتی تھی، سخت قحط پڑا، ایک لقمہ کھانا بھی ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ دور دراز کے لوگ دیہی علاقوں سے بھاگ بھاگ کر شہروں میں جاتے یا ان کے قریب قیام کرتے اور اس عظیم مصیبت سے نجات پانے کے لئے امیر المومنین کی طرف سے کسی حل اور پیش قدمی کے منتظر تھے جبکہ حضرت عمر ؓ اس مصیبت کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والے اس کے خطرناک نتائج سے سب سے زیادہ آ گاہ تھے۔

بہر حال حضرت عمر ؓ نے اس اقتصادی بحران اور ہنگامی حالت و کیفیت سے نمٹنے میں جو حکم عملی اختیار کی ہم اس کو وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔

دار الخلافہ مدینہ میں پناہ گزینوں کا کیمپ :

”عام الرمادہ“ (قحط سالی) میں اہل عرب چار جانب سے مدینہ پہنچنے لگے، اور حضرت عمر ؓ نے اپنے امرا کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ وفود کی ضروریات و مفادات کو پیش نظر رکھیں، میں نے ایک رات آپ کو فرماتے ہوئے سنا ”شام کا کھانا ہمارے پاس کتنے لوگ کھاتے ہیں، ان کو شمار کرو“ اگلی رات شمار کیا گیا تو کھانے والوں کی تعداد سات ہزار تھی، اور جب بیمار مردوں نیز عورتوں و بچوں کو بھی شمار کیا گیا تو ان کی تعداد چالیس ہزار تھی پھر تھوڑے ہی دنوں بعد یہ تعداد بڑھ کر ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی۔

اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ عمر فاروق ؓ اپنے امرا کو ذمہ داریاں سونپتے ہیں اور پناہ گزینوں کا کیمپ تیار کرے ہیں، اور انتظامی عملہ پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریوں کو بلا کم وبیش نبھاتا ہے، دوسرے کی ذمہ داری و عمل میں دخل اندازی بالکل ہی نہیں کر گا مدینہ کے قرب و جوار آپ نے اپنے افسران کو یہ ذمہ داری دے کر بھیجا کہ جو لوگ دور دور سے خشک سالی اور شدت بھوک سے متاثر ہو کر حکومتی تعاون اور عطیات لینے آئے ہیں ان کے حالات کا جائزہ لیں، چنانچہ وہ لوگ ان میں کھانا اور سالن وغیرہ تقسیم کرتے اور جب شام ہوئی تو سید نا عمر ؓ کے پاس سب لوگ اکٹھے ہوتے اور ان کے حالات سے واقف کراتے، اور آپ ان کی دوسرے دن کی رہنمائی کرتے۔

Facebook Comments HS