ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے سیدنا عمر ؓ کے اقدامات (3)


دارالخلافہ مدینہ میں امدادی سامان کی تقسیم:

مدینہ منورہ مسلمانوں کا روحانی مرکز تو ہے، یہ البتہ اس کے ساتھ ساتھ دارالحکومت بھی تھا جب قحط شروع ہوا اور اس میں شدت پیدا ہوئی، تو لوگ ہر طرف سے چل کر مدینہ منورہ آنے لگے چنانچہ امیر المومنین نے چند منتظمین (Administrators) کا تقرر کیا، جو لوگوں کی خبر گیری کر سکیں اور غذائی سامان تقسیم کر سکیں۔

ابن سعد ؓ کی روایت کے مطابق :

یعنی رمادہ کے سال میری قوم کے سو گھرانے عمر ؓ کے پاس مدینہ آئے اور جبانہ کے مقام پر ٹھہرے چنانچہ جو لوگ عمر ؓ کے پاس حاضر ہوئے وہ ان کو کھلاتے اور جو نہیں آسکتے ان کے لئے آٹا، کھجور اور سالن ان کے گھروں میں بھجواتے چنانچہ آپ میری قوم کے لوگوں کے پاس ان کی ضرورت کا سامان ماہ بہ ماہ بھجواتے رہتے تھے۔

دارالحکومت مدینہ میں ریاستی دسترخوان:

مدینہ میں جو لوگ پہلے سے رہائش پذیر تھے اور جو پناہ گزیں بن کے آئے ان میں مرد خواتین بوڑھے اور بچے کمزور بیمار ہر قسم اور ہر عمر کے افراد موجود تھے۔ ہر ایک کے پاس نہ تو پکانے کا سامان تھا نہ ہی ہر شخص پکانے کے قابل تھا۔ اس لیے حضرت عمر ؓ مدینہ منورہ میں بیت المال کی طرف سے خلافتی دسترخوان کی روایت قائم کی وہ روٹی کو روغن زیتون میں بھگو کر ثرید بناتے تھے اور ایک دن چھوڑ کر جانور ذبح کر کے اس کا گوشت ثرید پر ڈالتے تھے۔

حضرت عمر ؓ نے بڑی بڑی دیگ چڑھا رکھی تھیں جن پر کام کرنے والے لوگ صبح سویرے اٹھتے ’‘ کر کور ”تیار کرتے اور جب صبح ہوتی تو مریضوں کو کھانا کھلانے عصیدۃ (ایک قسم کا کھانا جو آٹا اور گھی ملا کر بنایا جاتا ہے ) تیار کرتے حضرت عمر ؓ کے حکم سے ان دیگوں میں تیل ڈال کر گرم کیا جاتا جب اس کی تیزی اور گرمی ختم ہو جاتی تو روٹی کی چوری تیار کی جاتی اور اس پر یہی تیل ڈالا جاتا۔

حجاز میں غذائی سامان کی تقسیم :

حضرت عمر ؓ کے لائحہ عمل کے دو حصے تھے، ایک مدینہ منورہ کے لئے دوسرا مدینہ منورہ سے باہر کے علاقوں کے لئے جس میں پورا حجاز شامل ہے۔ حضرت عمر ؓ کے پیش نظر مقصد یہ تھا کہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں قیام رکھیں، اور وہ اس بات پر اطمینان محسوس کریں کہ خلیفہ ان سے غافل نہیں اور یہ کہ طعام ان کے پاس ان کی قیام گاہ پر یہ پہنچے گا۔ دراصل حضرت عمر ؓ اس طرح لوگوں میں پلے ہوئے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے تھے۔

جس کے تحت لوگ مدینے کی طرف ہجرت کر کے آرہے تھے اور دارالخلافہ کی طرف بھاگ رہے تھے، اگر سب لوگ مدینے چلے آئے تو مدینہ میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہتی اور مصیبت دو چند ہو جاتی۔ پہلے تو صرف غذائی سامان کی غیر موجودگی کا سامنا تھا اب رہائش اور پناہ گاہ کی فراہمی بھی مسئلہ بن جاتی۔ شاید اس اقدام سے خلیفہ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جو لوگ پہلے ہی دارالحکومت میں پناہ لے چکے ہیں ان کو واپس اپنے اصل مقامات پر واپس بھجوا دیا جائے۔ جب مسلمان دیکھیں گے کہ خلیفہ باہر کے علاقوں پر زیادہ توجہ دے رہا ہے اور ان علاقوں کو دارالحکومت کے مقابلے میں اولیت دی جا رہی ہے، اور ان کے آبائی علاقے مدینہ کے مقابلے میں مقدم ہیں تو وہ خوشی خوشی ان علاقوں میں واپس جائیں گے جہاں سے بھاگ کر انہوں نے ہجرت کی تھی۔

اس لائحہ عمل کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوا کہ لوگ خصوصاً کا ماز اور بوڑھے صبر آزما سفر کی تکلیفوں اور اخراجات سے بچ گئے،

اور جو کچھ انہیں ملنا تھا، بغیر کسی اضافی خرچہ اور سفر کے انہیں اپنے گھروں میں ہی مل گیا۔

حزام بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر ؓ کے نمائندے جار کی بندرگاہ سے غذائی سامان وصول کر کے، لوگوں کو کھلاتے رہے۔ اسی طرح معاویہ ؓ نے شام سے سامان بھیجا حضرت عمر ؓ نے اس کی وصولی کے لیے شام کی سرحدوں تک آدمی بھیجے، جو حضرت عمر ؓ کے دوسرے نمائندوں کی طرف لوگوں کو آٹا کھلاتے رہے۔ اونٹ ذبح کرتے رہے، اور چوغے لوگوں کو پہناتے رہے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ایسا ہی سامان عراق سے بھیجا، تو حضرت عمر ؓ نے اس کی وصولی کے لئے، اپنے آدمیوں کو عراق کی سرحدوں کے قریب بھیجا، وہ انہی علاقوں میں اونٹ ذبح کرتے، اور لوگوں کو آٹا کھلاتے رہے، اور چوغے پہناتے رہے یہ سلسلہ یونہی جاری رہا حتٰی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ مصیبت رفع فرما دی۔

تقسیم غذا کا جدید نظام (راشن بندی) :

زمانہ قحط میں جو لوگ خود حاضر ہونے کے قابل ہوتے، وہ بذات خود آ کر دسترخوان خلافت پر کھانا کھا لیتے اور جو حاضری سے معذور تھے جیسے خواتین، بچے بوڑھے وغیرہ ان کے لیے کھانا گھر پر بھجوا دیا جاتا تھا اور بعض صورتوں میں، تو ہر مہینہ یک مشت ان کا راشن بھجوا دیا جاتا۔ یہ سامان لوگوں میں اس طرح تقسیم کیا جاتا تھا کہ اسے زمانہ جنگ کی تقیسم غذا کے جدید نظام سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ زیادہ ہوا تو زیادہ تقسیم کر دیا اور کم ہوا تو کم۔

راشن کی تقسیم اور لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے حضرت عمر فاروق ؓ کے ذہن میں ایک تجویز اور بھی تھی، جس کا اظہار انہوں نے رمادہ (قحط) کے دوران بھی فرمایا اور رمادہ کے بعد بھی، یہ تجویز در اصل مواخات کے اصول پر تیار کی گئی تھی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر عمل درآمد کا موقع ہی نہیں آیا، اور اللہ تعالیٰ نے باران رحمت کے ذریعے مصیبت ٹال دی۔ رمادہ کے زمانے میں راشن تقسیم کرتے ہوئے حضرت عمر ؓ نے فرمایا:

جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے وہ تو ہم کھلا دیں گے پھر اگر ہم نے کمی محسوس کی تو کچھ رکھنے والے ہر گھرانے کے ساتھ ان کی تعداد کے برابر ایسے لوگ شامل کر دیں گے، جو کچھ نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بارش نازل کر دے۔

مطلب یہ کہ اگر کسی گھرانے میں چار افراد ہیں اور ان کے پاس گزارہ چلانے کے لئے غذائی مواد موجود ہو، جبکہ حکومت کے پاس کچھ باقی نہ ہو تو اسے گھرانے کے ساتھ پناہ گزینوں میں سے چار افراد شامل کر دیں گے اور وہ آپس میں آدھا آدھا بانٹ لیں گے اور دونوں بچ جائیں گے کیونکہ آدھا پیٹ کھانے سے کوئی بھی ہلاک نہ ہو گا۔

ابن الجوزی کی روایت کے مطابق انہوں نے بارش کے نزول کے بعد فرمایا کہ شکر ہے بارش ہوئی اگر اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور نہ فرماتے تو میں وسعت رکھنے والے ہر گھرانے کے افراد کی تعداد کے مطابق فقرا ان کے ساتھ شامل کر دیتا کیوں کہ جس غذا پر ایک آدمی زندہ رہ سکتا ہے اگر وہ دو آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو دونوں ہلاک نہ ہوں گے۔

اقتصادی بحران (قحط) میں ادائیگی زکواۃ میں تاخیر کا جواز :

سیدنا عمر ؓ نے عام الرمادہ (قحط) میں لوگوں کے لئے زکوٰۃ کی واجبی و فوری ادائیگی موقوف کردی اور جب قحط سالی ختم ہوئی زمین ہری بھری ہو گئی تب آپ نے عام الرمادہ کی زکوٰۃ لوگوں سے وصول کی، گویا آپ نے اسے مالداروں پر قرض شمار کیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ ضرورت مند افراد کی ضرورت پوری ہو جائے اور ایسے وقت میں ایک محفوظ سرمایہ بنے، جب کہ بیت المال کا خزانہ خرچ کرنے کے بعد خالی ہو چکا ہو گا۔

یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے قحط سالی کے موقع پر صدقات کی وصولی کو مؤخر کر دیا، اور عاملین صدقات کو نہیں بھیجا، لیکن جب دوسرا سال آیا اور اللہ نے قحط سالی ختم کر دی تو سید نا عمر ؓ نے حکم دیا کہ جائیں اور مالداروں سے دو سال کی زکوٰۃ وصول کریں، ایک سال کی زکوٰۃ کو ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں اور ایک سال کی زکوٰۃ لے کر میرے پاس آئیں

ان اقدامات کے دو فوائد حاصل ہوئے :

1:قحط کے ایام میں لوگوں کو سہولت، مہلت اور رعایت حاصل ہوئی اور حکومتی عمل داروں کی توجہ امدادی کاموں پر مرکوز رہی

2:چونکہ بیت المال بالکل خالی ہو چکا تھا اور ایک بڑے اقتصادی بحران کا خطرہ موجود تھا اس لیے حضرت عمر ؓ نے زکوٰۃ کی وصولی ساقط نہیں کی بلکہ موخر کر دی اور اگلے سال مکمل وصولی کی وجہ سے عوام کی داد رسی بھی ہوئی اور بیت المال بھی آئندہ کسی اور بحران سے نمٹنے کے قابل ہوا۔

Facebook Comments HS