( 3 ) منصورہ احمد، ایک متنازعہ شخصیت، ایک معتبر شاعرہ
منصورہ احمد کی یہ بھی ایک انفرادیت ہے کہ بقول احمد ندیم قاسمی کے ”منصورہ کی بیشتر نظموں کا انجام ایک سوال ہوتا ہے“ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کی نظموں کے اختتام پر جو سوال ہوتے ہیں وہ معنی خیز بھی ہوتے ہیں اور قاری کو جھنجھوڑتے بھی ہیں۔ چند سوال کہ جن پر ان کی نظمیں اختتام پذیر ہوئیں ملاحظہ ہوں
سوچ رہی ہوں ایسا کیوں ہے؟
۔ ۔
تم کو لا کے کہاں بٹھاؤں؟
۔ ۔
آج ہاتھوں پر دیے رکھ کر جلا پائے گا کون؟
۔ ۔
کیسے کہے کوئی؟
۔
شام آنے سے پہلے سورج کو کیوں دفناؤں۔ ؟
۔ ۔
بولو جگنو تھام سکو گے؟
۔ ۔
کس کا ہاتھ ہے شاہ والا؟
۔ ۔
ان سب کی جوانی کون جیتا ہے۔ ؟
۔
کدھر جاؤں۔ ؟
۔
کوئی ہے۔ ؟
۔ ۔
میں اس کو ڈھونڈے آخر کہاں جاؤں۔ ؟
۔ ۔
تو میری زندگی آغاز کب ہوگی؟
۔
اپنے سینے سے لگائے گا؟
۔
ہمارے لفظ کب تک تکذیب کی سولی اتریں گے۔ ؟
۔
مگر یہ کیسے ممکن ہے۔ ؟
منصورہ احمد کی نظموں میں بہت خوبصورت بلکہ کہیں کہیں تو انوکھے سوال بھی ملتے ہیں ”ایک سوال“ میں ایک نہیں کئی سوال ہیں۔
ایک سوال کے ایک اقتباس میں بھی آپ کو کئی سوال نظر آئیں گے ملاحظہ ہوں۔
تم نے تو رستے دیکھے ہیں
یہ تو بتاؤ
کیا اس سے مجھ تک آنے والے سب رستوں پر
کرچی کرچی ہجر اگا ہے؟
کیا ہر موڑ پہ
آدھی زندہ تتلی کی
پاگل چیخوں کا شور بپا ہے؟
کیا اس نے بھی بارش کی اک بوند کی خاطر
میری اکلوتی گڑیا کو
جلتی آگ میں جھونک دیا ہے؟
اپنے گھر کو لوٹ آنے والی ننھی چڑیو!
کچھ تو بتاؤ!
جبکہ ”مرے مالک“ میں سوال بھی انوکھا ہے اور سوال کرنے کا انداز بھی دیکھیے
مرے مالک
تجھے تو علم ہی ہو گا
جو بچپن سے بڑھاپے میں چلے جاتے ہیں
ان سب کی جوانی کون جیتا ہے۔ ؟
”تم اور سورج“ بھی منصورہ احمد کی مختصر اور خؤبصورت نظموں میں سے ایک ہے۔ اور یہ وہ نظم ہے جس کو پڑھ کر وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ منصورہ احمد تقابلی جائزے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ اور تقابلی جائزے میں جب تک تنقید کا عنصر شامل نہ ہو تو یقیناً تشنگی رہ جاتی ہے مگر آپ خود فیصلہ کریں کہ منصورہ احمد کی تم اور سورج کیسی مثال ہے
۔ تم اور سورج۔ ۔
تم اور سورج اک جیسے ہو
دونوں آنگن میں اترو تو جھلمل ہونے لگتی ہے
دونوں کی حدت سے دل کی برف پگھلنے لگتی ہے
دونوں آنکھ کی وسعت سے بڑھ جاتے ہو
دونوں آنکھیں چندھیاتے ہو
دونوں آگ میں جھلساتے ہو
منصورہ احمد کی خوبصورت نظموں میں قدرت اور فطرت کے حسین مظاہر کا ذکر شدت کے ساتھ ملتا ہے
عجب لہجہ ہے اس کا۔ ۔ منصورہ احمد
پانیوں پر جھلملاتی چاندنی جیسا
مرے دل کا سمندر جب بھنور کی زد میں آ جائے
سبھی تاریک لہریں گھیر کر مجھ کو
کسی پاتال کا رستہ دکھاتی ہوں
تو وہ ایسی صفت لہجہ
مجھے پھر ساحلوں پر کھینچ لاتا ہے
مجھے کہتا ہے دیکھو
اس بھنور کے پار بھی دنیا میں کچھ لمحے دھڑکتے ہیں
انہیں بھی اپنی سانسوں میں پردہ دیکھوں
یہ لہریں جو کہ اندھیاروں میں دیو آثار لگتی ہیں
انہیں تم چاندنی میں دیکھنا یہ کس طرح
کرنوں سے مل کر ماجرے تخلیق کرتی ہیں
یہ لہریں جب روپہلے نور کی ندی میں ڈھلتی ہیں
تو مستی میں مچلتی آسمانوں کو لپکتی ہیں
اماوس جب بھی آئے چاندنی کو یا مگر لینا
مرے چاروں طرف میلوں پہ چلتی دھوپ پھیلی ہے
مگر اس کی یہ باتیں بارشوں کی بوندیوں جیسی
مرے دل کی دراڑوں میں
ہری فصلی اگائی ہیں
میں سر سے پاؤں تک
شبنم سے بھیگی پتیوں میں ڈوب جاتی ہوں
گواہی۔ ۔ منصورہ احمد
وہ سیڑھی جو مرے دل سے
تمہارے دل کے گنبد پر اترتی ہے
شکستہ ہے
وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھلتی ہے
مری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اٹی ہے
زنگ خوردہ ہے
گواہی دے نہیں سکتے نہ دو
لیکن مرا اک کام تو کر دو
مری پہچان میں الجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے
مجھے دے دو
کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی گواہی دے
کوئی آواز دیتا ہے۔ ۔ منصورہ احمد
کوئی آواز دیتا ہے
حریر و پرنیاں جیسی صداؤں میں
کوئی مجھ کو بلاتا ہے
کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے
اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے
اور ان میں ڈوبتا جائے
بہت ہی دور سے آتی صدا ہے
میں لفظوں کے معانی کی گواہی دے نہیں سکتی
مگر ہر لفظ میں گھنگرو بندھے ہیں
حریم جان میں ان کے پاؤں دھرتے ہی
کئی بے چین پازیبیں دھڑکتی ہیں
لمحوں میں ایک دیوالی سی سجتی ہے
کوئی آواز دیتا ہے
حریر و پرنیاں جیسی صداؤں میں
کوئی مجھ کو بلاتا ہے
صدیوں پیچھے۔ ۔ منصورہ احمد
سنتے ہیں کہ نسلوں پہلے
چین کی باغی شہزادی نے
اپنی دنیا تک جانے کے پاگل شوق میں
آنگن کی دہلیز الانگی
اور گلیاں شہ راہیں ناپتی
اک پھلواری تک جا پہنچی
رسموں کے ٹھیکے داروں نے
جرم تمنا کی پاداش میں حکم سنایا
اب دنیا میں آنے والی ہر ہوا کو
سیاست۔ ۔ منصورہ احمد
جب ہم چھوٹے چھوٹے سے تھے
ہم سائے میں ایک بڑی بی رہتی تھی
گلی محلے کے سب بچے اس کو ماسی کہتے تھے
ماسی کی اک عجب ادا تھی
گلی محلے کے جس بچے پر بھی اس کا داؤ چلتا
مکوں اور دھمکوں سے
ادھ موا سا کر کے خود چھپ جاتی
فریادی بچے کی آہ و زاری سن کر
رستہ چلنے والے یا بچے کے اپنے آ جاتے تو
مجمع چیر کے سب سے پہلے ماسی آتی
رونے والے بچے کو سینے سے لگاتی
شہد بھرے لمحے میں کہتی
میرے پیارے
آنکھ کے تارے
کس نے مارا
بچہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے
ماسی کو تکتا رہ جاتا
اور قصہ ٹھنڈا ہو جاتا
ہم سب بچے
نا سمجھی میں
ماسی سے نفرت کرتے تھے
مورکھ تھے نا
ماسی کے اصلی قد کو پہچان نہ پائے
اب جا کر یہ سمجھ سکے ہیں
گھر گھر برتن مانجھنے والی اپنی ماسی
کتنی بڑی سیاست داں تھی
سنو۔ ۔ ۔ منصورہ احمد
سنو
جن کی ہنسی سے اس زمیں پر پھول کھلتے ہوں
جنہیں نغمے پہ اتنی دسترس ہو
کہ پنچھی ان کی لے پر چہچہاتے ہوں
انہیں تو اس طرح چپ چاپ ہو جانا نہیں سجتا
سنو
ساری زمیں گمبھیر چپ اوڑھے ہوئے ساکت کھڑی ہے
تم اتنی ہی کرو اک بار ہنس دو
زمیں کی منجمد سانسوں میں
پھر سے زندگی چلنے لگے گی
پہلے دن سے لوہے کے جوتے پہناؤ
یہی ہوا اور ہوتا آیا
سب نے دیکھا
سرخ سجیلے چہروں والی
اور گدرائے جسموں والی دوشیزائیں
آنگن کی دیوار پکڑ کر چل پاتی تھیں
سوچ رہی ہوں
صدیاں کیسے اتنا پیچھے لوٹ آئی ہیں
چین کی سرحد کیسے میرے گھر آنگن تک آ پہنچی ہے
لوہے کے جوتوں میں جکڑے میرے پاؤں
آنگن کی دہلیز الانگ کے
اپنی دنیا تک جانے سے انکاری ہیں
”یہاں سے آسماں دیکھو“ جو کہ بلا شبہ ایک انوکھے خیال کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں منصورہ احمد نے دھول، پلکیں، صحرا، کلیاں، شاخوں، شاخوں پہ ہلکا بور، پت جھڑ، چاند، سمندر، روز و شب، ساحل، جزیرہ، زندگی، بدن، گھاٹیاں، آنکھ، خوشبو، خلا، گرداب، بیل، آنگن، آسمان اور زمین جیسے مظاہر قدرت و فطرت کے ذکر سے ثابت کیا ہے کہ فطرت اور قدرت کی ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر قائم یہ کائنات اور اس کائنات کا ہر رنگ اور روپ انہیں کس قدر عزیز ہے۔
ادب کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے میرا اکابرین و ناقدین ادب اور اکادمی ادبیات جیسے اداروں کے کرتا دھرتا جو بھی ہیں ان سے سوال یہ ہے کہ منصورہ احمد کا ایک مجموعہ کلام منظر عام پر آ چکا اور اس منصورہ احمد کا اب تک جتنا بھی کلام منظر عام پر آ چکا ہے اس پر اہل نظر اور نقادان فن اپنی آرا ٔ دے چکے ہیں اور اگر ان تمام تر آرا ٔ کو یکجا کیا جائے تو دو یا تین ضخیم کتابیں مرتب کرنا تو ہرگز بھی دشوار نہیں تو منصورہ احمد کا شعری سفر۔ 8۔ جون 2011 کو اس کی سانسوں کے ساتھ ختم کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ منصورہ احمد اپنی زندگی میں ہی اپنا دوسرا شعری مجموعہ آسمان میرا ہے پبلش نہ بھی کروا سکی تو کم از کم مرتب ضرور کرچکی تھی۔


