طلعت حسین۔ ایک بے مثل اداکار و صدا کار اور باکمال افسانہ نگار

*ریڈیو، ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم کے بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز اداکار اور صدا کار اور افسانہ نگار جناب طلعت حسین صاحب جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ جناب طلعت حسین صاحب متعدد یادگار ملاقاتیں آج بھی حافظے میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے تین ملاقاتیں جناب طلعت حسین صاحب کے خوبصورت افسانوں سے متعلق ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے جناب طلعت حسین صاحب کے بہت قریب بیٹھ کر، ان سے افسانے سنے ہیں۔

Read more

استاذالاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا

دنیائے اردو ادب کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کے حامل معروف محقق، ادیب، نقاد، مفکر، مدون، مولف، مصنف، ماہر اقبالیات، ماہر امجدیات، ادیب اور استاذ الاساتذہ جناب پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی تاریخ ولادت پاکستان سے ہم رشتہ ہے اور قیام پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ 23 مارچ 1940 یوم قرارداد پاکستان بھی ہے اور پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کا یوم ولادت بھی۔ سید فخرالدین بلے کی قائم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کے

Read more

صدیقہ بیگم پاکستانی اور صدیقہ بیگم ہندوستانی ( 1 )

صدیقہ بیگم کا نام اہل ادب کے لیے یقیناً کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن قابل توجہ معاملہ یہ ہے کہ دنیائے اردو ادب سے وابستہ صدیقہ بیگم نام کی دو بہت ممتاز اور معروف شخصیات ہیں۔ ایک صدیقہ بیگم کا تعلق ہمسایہ ملک بھارت سے ہے جبکہ دوسری صدیقہ بیگم کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ سن ولادت کو مدنظر رکھا جائے تو دونوں کا تعلق برٹش انڈیا یا متحدہ ہندوستان سے بنتا ہے۔ بہت سے لکھنے والوں

Read more

ڈاکٹر توصیف تبسم : ایک روشن چراغ تھا، نہ رہا

ولادت 3۔ اگست 1928 بدایوں۔ وفات۔ 5 اکتوبر 2023۔ اسلام آباد داستان گو ؛ ظفر معین بلے جعفری ڈاکٹر توصیف تبسم (ولادت 3۔ اگست 1928 بدایوں۔ وفات۔ 5 اکتوبر 2023۔ اسلام آباد) ممتاز اسکالر، ادیب، قادر الکلام شاعر اور استاذالاساتذہ ڈاکٹر توصیف تبسم کی 95 برس کی عمر میں 5۔ اکتوبر 2023 کی صبح مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال فرما گئے۔ انا للٰہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر توصیف تبسم کے فرزند ارجمند برادر محترم جناب عارف توصیف

Read more

اشفاق احمد دی گریٹ

اشفاق احمد دی گریٹ : ( 22 اگست 1925 ء فیروز پور، صوبہ پنجاب۔ 7 ستمبر 2004 ء لاہور پنجاب) اشفاق احمد۔ تلقین شاہ سے بابا جی صوفی اسکالر تک داستان گو : ظفر معین بلے جعفری اشفاق احمد دی گریٹ : ( 22 اگست 1925 ء فیروز پور، صوبہ پنجاب۔ 7 ستمبر 2004 ء لاہور پنجاب) اللہ کریم بابا جی اشفاق احمد کے درجات بلند فرمائے۔ اشفاق احمد خاں صاحب کی برسی کے موقع پر کچھ لکھنے کا آغاز

Read more

انصاف میں پاکستان کا پہلا نمبر اور اسلامیہ یونیورسٹی

جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس مولوی مشتاق کے پیروکاران، عقیدت مندان اور مقلدین میں افتخار چوہدری، گلزار اور ثاقب جیسے سینکڑوں چہرے آپ کے سامنے آ جائیں گے۔ دنیا بھر میں اعلی اور سستا ترین انصاف فراہم کرنے والوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن اور بلند کر دیا۔ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے ملزمان کو وی وی آئی پی پروٹوکال کے ساتھ وی آئی پی محافظ دستوں کی نگرانی میں وی آئی پی گیٹ سے

Read more

عید ِغدیر اور سات صدیوں بعد سید فخرالدین بلے کا نیا قول ترانہ

حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشد سرکار حجرے نظام الدین اولیاء کے حکم کی تعمیل میں قوالی کی بنیاد رکھی تھی۔ قوالی کا مکمل نصاب بھی ترتیب دیا تھا۔ قوالی اس محفل کو کہا جاتا ہے کہ کہ جس کا آغاز قول ختم المرسلین کے اعلان ولایت سے کیا جاتا ہے۔ گویا کہ من کنت مولا ، فھذا علی مولا ۔ اور یہ قول پڑھنے والے کو قوال کہا جاتا ہے اور جس محفل میں پڑھا جائے اسے قوالی کہتے

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (آخری قسط)

  عطا الحق قاسمی کی نظم ٹریفک سگنل اپنے اندر ایک عجیب، تاثر، جاذبیت اور غم کی کیفیت سموئے ہوئے ہے۔ قاری یہ نظم پڑھ کر خود کو اداس محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر قاری حساس ہو تو وہ اپنی آنکھوں کو نمناک ہونے پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ ملاحظہ فرمائیے نظم ٹریفک سگنل نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (4)

عطاالحق قاسمی صاحب کو بحیثیت نظم گو شاعر کے بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ نظم کے ایک توانا شاعر کے طور پر بھی ان کی انفرادیت کو برملا تسلیم کیا گیا۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ نظم نگاری بھی عطاالحق قاسمی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید اردو نظم میں بھی ان کا منفرد اور جداگانہ لہجہ ان کی پہچان بنا۔ اس مناسبت سے پہلے تو ملاحظہ فرمائیے عطاالحق قاسمی صاحب کی

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 3 )

ہمارے گھر قافلے کے ماہانہ پڑاؤ میں عطا الحق قاسمی صاحب کے جگری یار بھی بڑی باقاعدگی کے ساتھ آتے تھے۔ ان میں خالد احمد، امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر اجمل نیازی شامل ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی سے عطا الحق قاسمی کی قرابت داری اور دوستی کے بہت سے قصے مشہور ہیں لیکن بیگم عطاء الحق قاسمی اور بیگم رفعت اجمل نیازی آپس میں دوپٹہ بدل بہنیں بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی عطاء الحق قاسمی نے تعلق داری کے

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 2 )

عطاء الحق قاسمی صاحب کے کچھ اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔ یہ خوبی بہت کم شعراء کے نصیب میں آئی ہے۔ عصر حاضر ہی کے ایک اور شاعر ہیں شعیب بن عزیز۔ ان کا ایک شعر بھی ایسا ہے جو موقع محل کی مناسبت سے بڑی بڑی ہستیوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری صاحب سے بھی کئی محفلوں میں ان کا یہ شعر سنا گیا۔ شعر یہ ہے اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

Read more

عطاالحق قاسمی کے تخلیقی رنگ

پی ٹی وی کے ایم ڈی، ناروے میں پاکستان کے سرکاری سفیر، ادبی مجلے معاصر کے مدیر اعلیٰ، چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل، اردو ادب کے استادوں کے استاد عطا الحق قاسمی کے ادبی اور تخلیقی رنگ بلاشبہ ہم سب نے دیکھے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پنجاب آرٹس کونسل کا قبلہ درست کرنے کے لئے جو حکمت عملی اپنائی، اس کے اثرات و ثمرات سے فن کار اور ان اداروں کے ملازمین بھی فیضیاب ہوتے رہے اور فنون

Read more

ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ (آخری قسط)

نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی کے عنوان کے تحت ڈاکٹر عرفان شاہ کو دوران تحقیق کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے ہوں گے، کیسے کیسے مسخ شدہ حقائق، گھر بیٹھے خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر خود کو تحقیق و تنقید کے شہنشاہ اور چیمپیئن سمجھنے، کہلوانے کے شوق میں جینے اور اس خواہش کو اپنے دلوں میں پروان چڑھانے والوں کی بے بنیاد اور من گھڑت کہانیوں کو رد کرنا پڑا ہو گا۔ کتنا دشوار ہوا ہو

Read more

ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ ( 2 )

میری پریشانی برادرم خالد احمد پر آشکار ہو چکی تھی انہوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ مجھے آنکھ سے کچھ اشارہ کیا جس کا مطلب ہم یہ سمجھے کہ تحمل، تحمل۔ ظہرانے سے فراغت کے کچھ دیر کے بعد برادر محترم خالد احمد ڈرائنگ روم سے اٹھ کر لان کی طرف روانہ ہوئے اور لان میں پہنچ کر مجھے آواز دے کر بلایا ظفر معین ادھر آئیے، ہم برادرم خالد احمد کے پاس پہنچے تو وہ اتنی دیر میں

Read more

ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ (1)

ممتاز ماہر تعلیم، محقق، مصنف، صحافی، مدیر، مولف اور اردو زبان و ادب کے ہر دلعزیز استاد پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ حلقۂ علم و ادب کی ایک معروف اور کثیر الجہت شخصیت ہیں۔ بزم اساتذۂ اردو سندھ کے روح رواں، فروغ نفاذ اردو کے لیے سرگرم عمل جبکہ بطور مصنف اور مولف خیر کثیر اور طبقاتی کشمکش جیسی اعلی معیاری کتب کے نام ہی کافی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ گزشتہ تقریباً چھتیس برس سے اردو ادب کے استاد کی

Read more

آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر

وطن عزیز اور محبان وطن ہی کو نہیں بلکہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کی بھی غیرت کو للکار کر ڈینٹسٹ فرمارہے ہیں کہ مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے۔ اگر اس دندان ساز میں کسی قسم کا سیاسی شعور ہوتا تو جب کشکول خان نے اپنے دور اقتدار میں دروغ گوئی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے تھے، عہد شکنی اور وہ ماہر حوریات کے پٹھو اور پنکی پیرنی کے زن مرید مالی بدعنوانی میں اپنی مثال

Read more

اٹھائے پھرتا ہوں سر اپنے تن کے نیزے پر

سینئر اور ممتاز تجزیہ کار جناب مظہر عباس کی یہ تجویز بلا شبہ قابل غور ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت تھی۔ مظہر عباس صاحب نے تو یہ مشورہ اس تناظر میں دیا کہ جو فوج کے ایک اعلی افسر کا نام لے کر عمران نیازی نے اپنی جان کو لاحق خطرہ بتایا۔ اب سے تیرہ ماہ قبل سے عمران نیازی اس نوعیت کے متعدد بیانات دے چکے ہیں اور اور سی نوعیت کے بے بنیاد الزامات لگا چکے

Read more

ابھی نوشتۂ دیوار کون دیکھے گا؟

پندرہ، سولہ برس ہی گزرے ہوں گے کہ جب 12 مئی کو شہر کراچی میں سو سے زائد افراد کو المناک انداز میں بربریت، ظلم اور درندگی کا نشانہ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں اور متعدد عمارتوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ جب کہ برسوں بعد 12 مئی 2023 کو عدالت عالیہ اسلام آباد نے متعدد مقدمات میں نامزد ملزم، ایک سیاسی جماعت کے قائد، عدل و انصاف

Read more

جلیل عالی ایک کثیر الجہت شخصیت

محترم جلیل عالی کا شمار پاکستان کے معروف شعراء اور ادباء میں ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں وہاں ان کی شہرت و مقبولیت کی خوشبو پہنچ چکی ہے۔ وہ محض جدید لہجے کے شاعر نہیں، ان کا اپنا ایک شعری انداز اور طرز احساس ہے۔ یہ انداز بیاں ان کی پہچان بنا ہوا ہے۔ آپ انہیں پورے اعتماد کے ساتھ کثیر الجہت ادبی شخصیت

Read more

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ

ممتاز تجزیہ کار جناب مظہر عباس کی یہ تجویز بلا شبہ قابل غور ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت تھی۔ مظہر عباس صاحب نے تو یہ مشورہ اس تناظر میں دیا کہ جو فوج کے ایک اعلی افسر کا نام لے کر عمران نیازی نے اپنی جان کو لاحق خطرہ بتایا۔ اب سے تیرہ ماہ قبل سے عمران نیازی اس نوعیت کے متعدد بیانات دے چکے ہیں اور اسی نوعیت کے بے بنیاد الزامات لگا چکے ہیں، عمران نیازی

Read more

طارق عزیز: ایک کثیر الجہت شخصیت (آخری قسط)

طارق عزیز سامعین کی فرمائش پر اپنا کلام سنا رہے تھے جبکہ بانو قدسیہ، اشفاق احمد، قافلہ کے مستقل میزبان سید فخرالدین بلے، منیر نیازی، صدیقہ بیگم، خالد احمد، اجمل نیازی، اختر حسین جعفری، اعزاز احمد آذر، سرفراز سید، اسلم کولسری، ابصار عبدالعلی اور دیگر تمام تر شرکائے قافلہ پڑاؤ بہت انہماک سے طارق عزیز کا کلام سماعت فرما رہے تھے۔ اپنی دو غزلیں اور ایک نظم سنانے کے بعد طارق عزیز نے کہا مجھے فی الحال تو اپنا یہی

Read more

(2) طارق عزیز، ایک کثیر الجہت شخصیت

ایک روز احمد ندیم قاسمی صاحب ریڈیو پاکستان سے اپنا ہفتہ وار کالم پڑھ کر فارغ ہوئے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق سیدھے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اقامت گاہ (جی۔ او۔ آر۔ تھری) پہنچے ان کے ہمراہ خالد احمد بھائی اور نجیب احمد صاحب بھی تھے اور کچھ ہی دیر بعد طارق عزیز صاحب اور عارفانہ کلام پڑھنے میں بے مثل مقبولیت پانے والے اقبال باہو بھی پہنچے۔ اختر حسین جعفری صاحب کو پک

Read more

( 1 ) طارق عزیز، ایک کثیرالجہت شخصیت

طارق عزیز ( 28 اپریل: 1936 ء|وفات: 17 جون 2020 ء) ممتاز اداکار، صدا کار، ادیب، شاعر، کالم نویس اور نیوز کاسٹر طارق عزیز پی ٹی وی کے پروگرام نیلام گھر کے حوالے سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ جبکہ بلا شبہ بطور شاعر بھی ان کو ممتاز مقام حاصل ہے طارق عزیز عمر کے لحاظ سے سید فخرالدین بلے سے محض چھ برس اور بائیس دن چھوٹے تھے لیکن اس کے باوجود ان کو ہمیشہ فخرالدین بلے کا بے حد احترام کرتے دیکھا گیا ہے۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936 ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔

Read more

(2)ڈاکٹر خالد سعید بٹ: ایک عہد، ایک شخصیت

مجھے نیشنل کونسل آف دا آرٹس اسلام آباد کے زیراہتمام قومی سطح کی کئی تقریبات میں شرکت کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ مشتاق معینی صاحب سے اس ادارے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ صاحب کے بارے میں جتنا کچھ سنتا رہا تھا، ان سب پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ واقعی ڈاکٹر صاحب اعلیٰ پائے کی تقریبات ہی سجاتے تھے۔ ایسی تقریبات کہ جن کی فضا سے باہر آنا آسان نہیں ہوتا اور اب پھر یادوں کے

Read more

( 1 ) ڈاکٹر خالد سعید بٹ ایک عہد ساز شخصیت

پاکستان ٹیلی وژن، فلم اور اسٹیج کے معروف اداکار، ہدایت کار اور ڈرامہ نویس ڈاکٹر خالد سعید بٹ کے اس جہان فانی سے رخصت ہونے پر ان کا طویل اور کئی دہائیوں پر محیط فنی سفر آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ وہ بلاشبہ ایک مایہ ء ناز شخصیت کے مالک تھے۔ ڈاکٹر خالد سعید بٹ نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے ) کے بانی ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر جنرل لوک ورثہ، ایم ڈی این اے

Read more

10 اپریل: پچاسواں یوم دستور پاکستان

اسلامی، فلاحی، نظریاتی، جمہوری اور آزاد و خود مختار ریاست پاکستان نے قیام کے بعد ابتدائی پچیس برس تو بنا غیر متفقہ آئین کے تحت ہی گزار دیے لیکن ربع صدی گزر جانے کے بعد جب ایک بے مثال سیاسی قیادت اور حقیقی سیاسی و انقلابی لیڈر نے عوام کو عوام کے حقوق کا شعور بخشا اور اس مملکت خداداد کو پہلا متفقہ آئین دیا تو صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی۔ محسن دستور پاکستان اور ملک کے پہلے منتخب

Read more

سید عارف امام۔ اردو زبان و ادب کے عالمی سفیر ( 1 )

امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم عالمی شہرت کے حامل ہر دلعزیز قادرالکلام شاعر سید عارف امام ہمارے برادر محترم سید عارف معین بلے کے ہم نام اور ہم مزاج ہیں۔ درویشانہ طرز زندگی، فقیرانہ مزاج، قادرالکلامی، فراست، فطانت، لیاقت، ذہانت، وسیع العلمی، وسیع القلبی، وسیع مطالعہ، سحر انگیز انداز خطابت عاجزی اور انکساری کا پیکر ہیں۔ کم و بیش ربع صدی بعد اپنے دیس پاکستان ماہ رواں کی چار اور رجب المرجب کی بارہ تاریخ

Read more

(آخری قسط ) بانو قدسیہ، اشفاق احمد اور سید فخرالدین بلے فیملی = داستان رفاقت‎‎

میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ میں ہوں سورج، مجھے دیا لکھنا داستان گو : ظفر معین بلے جعفری ہر ماہ کی یکم تاریخ کو والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی رہائش گاہ پر ادبی تنظیم قافلہ کا جو پڑاؤ ڈالا جاتا تھا وہ بہت یادگار اور شاندار ہوا کرتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی، محترمہ الطاف فاطمہ، ڈاکٹر آغا سہیل، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر سلیم اختر، امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی،

Read more

( 2 ) بانو قدسیہ، اشفاق احمد اور سید فخرالدین بلے فیملی

میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ میں ہوں سورج، مجھے دیا لکھنا جو کونپلیں پھوٹیں، جو گلاب کھلے۔ اس سے ہمارا گلستان ادب مہک اٹھا۔ پھر اچانک یوں ہوا، ہجرتوں کے درمیان، کچھ اور نہیں، حوا کے نام، چہار چمن، پروا، دوسرا دروازہ، سامان وجود، اک ہنس کا جوڑا، فٹ پاتھ کی گھاس، شہر لازوال آباد ویرانے، توجہ کی طالب، آتش زیرپا، سدھراں، مردا بریشم، ایک دن، شہر بے مثال، بازگشت، چھوٹا شہر بڑے لوگ، آخر میں ہی کیوں؟

Read more

( 1 ) بانو قدسیہ، اشفاق احمد اور سید فخرالدین بلے فیملی = داستان رفاقت‎‎

میری قامت سے ڈر نہ جائیں لوگ میں ہوں سورج، مجھے دیا لکھنا اشفاق احمد اور بانو قدسیہ دو دو الگ الگ شخصیات ضرور تھیں لیکن ان میں جو فکری ہم رنگی اور ذہنی ہم آہنگی نظر آتی ہے، اس کے پیش نظر اگر انہیں سکے کے دو رخ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ وہ ایک گھریلو خاتون تھیں، ایک دن اشفاق احمد ان کا ہاتھ تھام کر انہیں کچن سے باہر لائے۔ لان میں پڑی

Read more

کمسن اسکالر، ادیب، شاعر اور کتب بینی کی دنیا کا ہیرو، سید عباس رضا زیدی

چھٹی جماعت کا طالب علم گیارہ سالہ عباس لگ بھگ دو ہزار کتب کی ورق گردانی کر چکا ہے۔ علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ، نسل در نسل لاجواب آئیے آج ہم آپ کو برطانیہ میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک علمی و ادبی خانوادے کے کمسن اسکالر سے متعارف کرواتے ہیں۔ اس بین الاقوامی شہرت کے حامل نو عمر ہیرو بلکہ کمسن اسکالر سید عباس رضا زیدی کا تعارف کروانے سے قبل ہم بہتر سمجھتے ہیں

Read more

یہ ہو بھی سکتا ہے، مجھ سا کوئی ہوا ہی نہ ہو

اس تحریر کے آغاز میں ہی ہم عنوان کے طور پر استعمال ہونے والے مصرعے کی وضاحت کر دیں کہ یہ سید فخرالدین بلے صاحب کے شعر کا مصرعۂ ثانی ہے۔ لیجے اب ہم مکمل شعر بھی پیش کیے دیتے ہیں عجائبات کی دنیا میں کچھ کمی تو نہیں یہ ہو بھی سکتا ہے مجھ سا کوئی ہوا ہی نہ ہو آج والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے انیس برس ہوچکے ہیں۔ یتیمی

Read more

برف باری۔ سید فخرالدین بلے کی دو شاہکار نظموں میں خوبصورت منظر نگاری

فراق گورکھ پوری نے صاحب طرز شاعر و ادیب سید فخرالدین بلے کو لفظوں کا مصور قرار دیا اور لکھا ہے کہ وہ رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہ عبارت جمیل الدین عالی کے کالم کی زینت ہے۔ فضائیں آج کل شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس لئے کہ برف باری نے جھیلوں اور آبشاروں کو بھی جما کر رکھ دیا ہے۔ اس یخ بستہ موسم میں مجھے سید فخرالدین بلے مرحوم کی

Read more

حضرت خدیجتہ الکبری کی منظوم سوانح حیات، 2023 کی پہلی کتاب

حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا کی منظوم سوانح زندگی منظر عام پر آ گئی، دو ہزار تئیس کی یہ پہلی کتاب سید عارف معین بلے کی تخلیق اور تحقیق کا ثمر ہے۔ ۔ عالم اسلام کی خاتون اول حضرت بی بی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا کی منظوم سوانح زندگی منظر عام پر آ گئی۔ جو معروف شاعر اہل بیت اطہار علیھم السلام سید عارف معین بلے کی تخلیق اور تحقیق کا ثمر ہے۔ یہ منظوم سوانح

Read more

شاعر اہل بیت، استادوں کے استاد۔ گوہر جارچوی

معروف شاعر اہل بیت اطہار ع اور استادوں کے استاد جناب گوہر جارچوی نے مولائے کائنات حضرت المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم اور مخدومہ کائنات بنت رسول مقبول، بتول بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی شادی خانہ آبادی کے حوالے سے جو منقبتی سہرا بعنوان علی کے ساتھ ہے زہرا کی شادی لکھا اور ایسی محبت و عقیدت کے رنگ بکھیرے، وہ آج بھی دیس دیس کی فضاؤں میں دیکھے جا سکتے ہیں اور رہتی دنیا تک

Read more

(آخری قسط) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

سید فخرالدین بلے کی لاہور منتقلی کے ساتھ ہی قافلہ کے پڑاؤ بھی لاہور منتقل ہو گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر وزیر آغا ہر مہینے کی دس یا پندرہ تاریخ کے بعد لاہور آیا کرتے تھے لیکن سید فخرالدین بلے اور ان کی قائم کردہ ادبی تنظیم کی سرگرمیاں لاہور منتقل ہونے کے بعد جب ہر ماہ کی یکم تاریخ کو سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ پر قافلہ کا پڑاؤ ڈالا جانے لگا تو ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی

Read more

(3) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے ، داستان رفاقت

سرگودھا سے ملتان منتقلی کے بعد بھی ڈاکٹر وزیر آغا اور دیگر احباب سے مسلسل رابطہ قائم رہا۔ ڈاکٹر انور سدید تو کوٹ ادو میں پوسٹنگ ہونے کے باعث اکثر و بیشتر ہی سید فخرالدین بلے سے ملنے آ جایا کرتے تھے۔ بسا اوقات تو ہر مہینے بھی لیکن ڈاکٹر وزیر آغا بمشکل چار پانچ مرتبہ ہی ملنے کے لیے بنفس نفیس تشریف لائے ہوں گے۔ ان چھ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب، سید انجم معین بلے

Read more

( 2 ) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

ڈاکٹر وزیر آغا کی تصانیف کی فہرست طویل ہے جن میں، مجید امجد کی داستان محبت، تنقید اور احتساب، تنقید اور جدید اردو تنقید، دوسرا کنارا، اک کتھا انوکھی، غالب کا ذوق تماشا، مسرت کی تلاش، نظم جدید کی کروٹیں، شام اور سائے، دن کا زرد پہاڑ، اردو شاعری کا مزاج، عبدالرحمن چغتائی کی شخصیت اور فن، چمک اٹھی لفظوں کی چھاگل جیسی شاندار تصانیف قابل ذکر ہیں۔ بے شک یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجید امجد کی

Read more

( 1 ) ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت

سال 2022 کو دنیائے اردو ادب میں ڈاکٹر وزیر آغا صدی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا عمر میں والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے سے تقریباً آٹھ برس بڑے تھے لیکن ہم نے ہمیشہ انہیں والد گرامی کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور سید فخرالدین بلے کی داستان رفاقت کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس حوالے سے کوئی حتمی بات کہنا ہمارے لیے دشوار ہے البتہ ہم نے اپنے ہوش

Read more

فیض احمد فیض اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت (آخری قسط)

نظم : مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ نظم نگار : فیض احمد فیض مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے یوں نہ تھا میں نے فقط

Read more

فیض احمد فیض اور سید فخرالدین بلے، داستان رفاقت ( 3 )

ہمارے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے کی بیٹھک ہمیشہ آباد رہتی تھی۔ لاہور، سرگودھا، راولپنڈی، کوئٹہ، قلات، خضدار، بہاولپور اور ملتان میں، ہم جہاں جہاں بھی رہے، ہمارے گھر بڑے بڑے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، ڈاکٹر سید عبداللہ، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، انتظار حسین، منشا یاد، بشریٰ رحمان، مرتضیٰ برلاس، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وزیر آغا، شہزاد احمد، جون ایلیا، محسن بھوپالی، محسن نقوی، مصور صادقین،

Read more

بیاد فیض احمد فیض، ہم دیکھیں گے ( 2 )

سال 2022 کے آغاز سے ہی ملک کی غیر یقینی سیاسی صورت حال میں عدلیہ کے فقیدالمثال طرز انصاف نے ایک تاریخ رقم کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عدالت عظمی کے غیر جانبدار رویوں اور حکمت عملی اور جمہوریت بہترین انتقام ہے کی اصطلاح کے داعی سابق صدر جناب آصف علی زرداری نے مثبت اقدامات کے ذریعے ثابت کیا کہ ان کی قیادت میں سابقہ متحدہ حزب اختلاف ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کی خاطر کسی بھی بڑی سے

Read more

بنیاد فیض احمد فیض ، ہم دیکھیں گے (1)

فیض احمد فیض نے بریگیڈیئر صدیق سالک کی خواہش کے احترام میں سید فخرالدین بلے سے ذاتی طور پر گزارش کی تھی کہ آپ کی اعلی ظرفی اور عفو و درگزر کے حوالے سے مثالیں دی جاتی ہیں۔ آپ کی مزاحمتی بلکہ تمام تر شاعری کے مداح ہیں ہم سب بھی اور صدیق سالک بھی، احمد ندیم قاسمی صاحب بھی اور حبیب جالب، فارغ بخاری اور محمد طفیل بھی۔ بلے صاحب آپ کا ہمارا بہت پرانا ساتھ ہے۔ دیرینہ مراسم

Read more

ایک زرداری سب سے یاری

سیاست میں مفاہمت، مثبت رویوں اور نظریاتی فکر کا فروغ، مذہب کارڈ کے استعمال سے اجتناب، لسانی منافرت پر مبنی سیاست سے پرہیز ذاتیات پر حملہ آور ہونے کی پالیسی کی مخالفت، بدترین دشمن کا بھی ذکر شائستگی کے ساتھ کرنے، دھیمے اور مہذبانہ لہجے میں گفتگو کے ماہر، جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دینے والے پاکستان کی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا جن کی لغت میں ہے ہی نہیں، دوستوں کے دوست، نفرتوں کی آگ بجھانے کے

Read more

سید محمد انجم معین بلے۔ فن، شخصیت اور خدمات

سید محمد انجم محمد بلے نے مصورانہ اور شاعرانہ جلوے دکھانے کے بعد فرانس یاترا لکھ کر سفرنامہ نگاری میں بھی خود کو یکسر منفرد ادیب تسلیم کروایا۔ یہ سفر نامہ بہت سے حوالوں اور زاویوں سے منفرد قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سفر نامے کا قاری سفرنامہ شروع کرتے ہی یہ راز بھانپ جاتا ہے کہ یہ کسی عام ناظر کی لکھی ہوئی منظر کشی نہیں ہو سکتی بلکہ سفرنامہ نگار نے مصورانہ بصارت سے کام لیا ہے اور

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ (10)

جب احمد ندیم قاسمی صاحب نے اپنی شاہکار نظم ایک درخواست مکمل فرمائی تو حاضرین محفل نے قاسمی صاحب سے دعائیہ نظم خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے عطا فرمانے کی گزارش کی۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ (9)

احمد ندیم قاسمی صاحب اور علامہ سید غلام شبیر بخاری صاحب کی حسین یادوں پر مشتمل باتوں کو تمام تر شرکائے قافلہ پڑاؤ بہت محو ہو کر سن رہے تھے۔ اداکار محمد علی صاحب نے بھی اپنی یادوں کا دفتر کھول دیا اللہ جانے کب کب اور کہاں کہاں کی باتیں انہیں یاد آ گئیں۔ شوٹنگ کے سلسلے میں انہیں اپنے بلوچستان کے دورے بھی یاد آ گئے اور فخرالدین بلے بھائی صاحب کے ہاں کوئٹہ، قلات اور خضدار میں

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 8 ) آٹھویں قسط۔

حضرت کلیم عثمانی کے ملی نغمے پر شرکائے قافلہ پڑاؤ نے بھرپور انداز میں داد دی۔ کلیم عثمانی صاحب نے احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کریم قافلہ سالار سید فخرالدین بلے صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور پروردگار عالم قافلے کا سفر جاری رکھے۔ آمین۔ ہم سب آج یہاں بلے ہاؤس میں یکجا ہوئے ہیں اور اکٹھا کر بٹھانے کا اہتمام فخرالدین بلے صاحب نے قافلہ کے زیراہتمام کیا۔ آج ہم سب اپنے اندر وہی جذبہ، جوش اور ولولہ کر رہے ہیں کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھا اور جو انیس سو پینسٹھ کی مسلط کردہ جنگ کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 7 ) ساتویں قسط

داستان گو : ظفر معین بلے جعفری سید فخرالدین بلے صاحب کا شکیل بدایونی کو عاجزانہ انداز میں یہی جواب ہوتا تھا کہ میں کسی کے جذبوں کی ترجمانی نہیں کر سکتا، صرف اپنی فکر کو شعر کا ملبوس دے سکتا ہوں۔ کوئی اور نوجوان ہوتا تو سوچتا اب میرے گیت لتا، آشا اور محمد رفیع کی زبان پر ہوں گے۔ غیر معمولی شہرت میرے قدم چومے گی لیکن بلے اس طرح نہیں سوچتا تھا۔ نہ کبھی ایسا سوچا جناب

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 6 ) چھٹی قسط

جیسے ہی سید فخرالدین بلے صاحب نے اپنی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ مکمل کی اس کے ساتھ ہی اس نظم پر شرکائے قافلہ پڑاؤ کی جانب سے گفتگو کا آغاز ہو گیا۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب اور کلیم عثمانی صاحب کو متوجہ فرماتے ہوئے کہا کہ مختار مسعود صاحب، مشتاق احمد یوسفی صاحب اور میرے علاوہ دیگر بہت سے محبان سید فخرالدین بلے علیگ کو یہ بھی ایک اعزاز حاصل ہے کہ

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 5 ) پانچویں قسط

داستان گو : ظفر معین بلے جعفری آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر پر ابھی داد و تحسین اور واہ واہ، سبحان اللہ، کیا کہنے کا سلسلہ جاری تھا اور اس سے قبل کہ فرمائش کے مطابق سید فخرالدین بلے صاحب اپنا کچھ مزید کلام عطا فرماتے اچانک احمد ندیم قاسمی صاحب نے گفتگو کا آغاز فرما دیا اور چند ایک ایسے واقعات بیان فرمائے کہ جو حاضرین محفل کے لیے حیران کن تھے۔ قاسمی صاحب نے

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 4 )

جب جناب اختر حسین جعفری اپنا کلام سنا چکے تو اشفاق احمد خاں صاحب نے اختر حسین جعفری صاحب کی جاندار اور جذبہ ء حب الوطنی سے بھرپور شاعری سے ہی سرا ملاتے ہوئے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے چند پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو فرمائی اور ان کے بعد علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ صاحب نے بھی تحریک پاکستان میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا کردار کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔ محترمہ بانو قدسیہ آپا

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم ”مٹی کا قرض“ ( 3 ) تیسری قسط

برادر محترم قبلہ خالد احمد صاحب نے ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب کو متوجہ اور مخاطب فرمایا اور چند جملوں میں شاعر کرب آنس معین کی شاعری کا تجزیہ پیش فرمایا اور پھر ایک کے بعد ایک کر کے آنس معین کے بارہ، پندرہ اشعار پڑھ ڈالے اور اس دے قبل کہ ڈاکٹر اجمل نیازی انہیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ قافلہ پڑاؤ جشن آزادی پڑاؤ ہے جناب خالد احمد صاحب نے آنس معین کی شہرہ آفاق اور شاہکار نظم پیش

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم مٹی کا قرض ( 2 ) دوسری قسط

قافلہ کے جشن آزادی پڑاؤ میں اداکار محمد علی نے وطن عزیز سے متعلق حضرت جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، ابو الاثر حفیظ جالندھری، عطا شاد، سید فخرالدین بلے اور خالد احمد کے کلام سے انتخاب تحت اللفظ میں پیش کرنے سے قبل فرمایا کہ ہماری اور ہمارے بعد آنے والی نسل میں ارض پاک سے ٹوٹ کر محبت کرنے کا جو جذبہ اور ولولہ اور جوش ہے میں نے دنیا کے بیشتر ممالک میں جاکر جائزہ لیا مجھے

Read more

قافلہ کا جشن آزادی پڑاؤ اور سید فخرالدین بلے کی شاہکار نظم مٹی کا قرض ( 1 ) ۔ پہلی قسط

بین الاقوامی شہرت کی حامل ادبی تنظیم قافلہ کے زیر اہتمام جشن آزادی پاکستان کے حوالے سے پروقار انداز میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ نظامت کے فرائض معروف صحافی اور راوی نامہ کے عنوان سے گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے مسلسل کالم نگار کی حیثیت سے جانے پہچانے جانے والے سرفراز سید المعروف شاہ جی انجام دے رہے تھے۔ حضرت احمد ندیم قاسمی صاحب اور شاعر پاکستان جناب کلیم عثمانی صاحب، جناب اختر حسین جعفری، جناب خالد احمد صاحب،

Read more

حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے

حضرت جوش ملیح آبادی، احمد ندیم قاسمی، اختر حسین جعفری، علامہ اختر حسین جعفری، استاد سبط جعفر زیدی، حضرت حفیظ تائب، حضرت جون ایلیا ء، طفیل ہوشیار پوری، ڈاکٹر مقصود زاہدی، علامہ سید غلام شبیر بخاری، صہبا اختر، جناب خالد احمد، حضرت قیصر بارہوی، محسن نقوی، ڈاکٹر ریحان اعظمی، ڈاکٹر آغا سہیل، سجاد حیدر خروش، علامہ ناصر عباس، علامہ عرفان حیدر عابدی، اسرار زیدی، ڈاکٹر اجمل نیازی، بیدار سرمدی، ڈاکٹر عاصی کرنالی، ابصار عبدالعلی، ظفر علی راجا، قائم نقوی، شاہد

Read more

( 4 ) سید فخرالدین بلے اور شہزاد احمد کی نصف صدی پر محیط داستان رفاقت

This is the Part 4 which is the Last one Part of the article (ولادت:۔ 16۔ اپریل 1932۔ امرتسر) (وفات: یکم۔ اگست 2012۔ لاہور) شہزاد احمد کے 10 ویں یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر داستان گو : ظفر معین بلے جعفری مجلس ترقی ادب کے سربراہ کی حیثیت سے شہزاد احمد صاحب کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا یقیناً نا انصافی ہوگی اور انہوں نے جس طرح چیلنج سمجھ کر اس ذمہ داری کو قبول کیا اور نبھایا

Read more

(3) سید فخرالدین بلے اور شہزاد احمد کی نصف صدی پر محیط داستانِ رفاقت

( 3 ) سید فخرالدین بلے اور شہزاد احمد کی نصف صدی پر محیط داستان رفاقت (ولادت:۔ 16۔ اپریل 1932۔ امرتسر) (وفات: یکم۔ اگست 2012۔ لاہور) شہزاد احمد کے 10 ویں یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر داستان گو : ظفر معین بلے جعفری شہزاد احمد نے جہاں بحیثیت شاعر اور محقق اور تنقید نگار کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کروایا وہیں نفسیات اور فلسفہ کے موضوعات پر انتہائی اہم مضامین سپرد قلم کیے اور متعدد اہم

Read more

( 2 ) سید فخرالدین بلے اور شہزاد احمد کی داستان رفاقت

(شہزاد احمد کے 10 ویں یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر) مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی خواہش کے احترام میں ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد آ گئے تھے اور ان کی پوسٹنگ وزارت مذہبی امور میں تھی، بیک وقت تین جرائد۔ ماہنامہ ہم وطن اسلام آباد۔ ماہنامہ اوقاف اسلام آباد۔ ماہنامہ یاران وطن اسلام آباد کے بانی مدیر اعلی کی حیثیت

Read more

( 1 ) سید فخرالدین بلے اور شہزاد احمد کی نصف صدی پر محیط داستان رفاقت

(ولادت:۔ 16۔ اپریل 1932۔ امرتسر) (وفات:۔ یکم۔ اگست 2012۔ لاہور) شہزاد احمد کے 10 ویں یوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر داستان گو : ظفر معین بلے جعفری جناب شہزادؔ احمد صاحب سے ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے گھریلو اور بے تکلفانہ مراسم تھے۔ رات گئے بھی وہ ہمارے ہاں تمام تر تقریبات میں نجی محافل میں شریک رہتے لیکن عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بعد ان کی طبیعت ٹھکانے نہیں رہتی۔ اکثر

Read more

۔ احمد ندیم قاسمی (ماہ و سال کے آئینے میں)

ولادت : 20 /نومبر 1916 ء رحلت۔ 10 جولائی 2006 تحریر و تحقیق:۔ ظفر معین بلے جعفری حیات و معاملات حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا آنس معین خاندانی نام : احمد شاہ ادبی نام : احمد ندیم قاسمی تخلص: ندیم والد کا نام : پیر غلام نبی عرف نبی چن (وفات 1924 ء) ولادت : 20 /نومبر 1916 ء مقام : انگہ، تحصیل خوشاب، ضلع سرگودھا، پنجاب سن۔

Read more

(2)جولائی 5 یوم سیاہ اور یوم وفات مسعود اشعر

( 2 ) جولائی۔ 5۔ یوم سیاہ اور یوم وفات مسعود اشعر مسعود اشعر اور سید فخرالدین بلے داستان رفاقت (مسعود اشعر : ولادت: 10 فروری 1930 ء۔ وفات: 5 جولائی 2021 ء) داستان گو : ظفر معین بلے جعفری ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی قائم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کے زیر اہتمام جناب مسعود اشعر صاحب کی سال گرہ بہت ڈرامائی انداز میں منائی گئی۔ شاید ماہ فروری کی آٹھ تاریخ تھی اور شام

Read more

( 1 ) جولائی 5۔ یوم سیاہ اور یوم وفات مسعود اشعر

مسعود اشعر اور سید فخرالدین بلے داستان رفاقت (مسعود اشعر : ولادت: 10 فروری 1930 ء۔ وفات: 5 جولائی 2021 ء) داستان گو : ظفر معین بلے جعفری جب ضیاء الحق ملتان کے کور کمانڈر تھے تو مسعود اشعر فیملی اور ضیاء الحق فیملی دونوں فیملیز کی بہت قربت تھی۔ ضیاء الحق کا ملتان میں تعیناتی کے دوران ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ سید فخرالدین بلے صاحب اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ امروز مسعود اشعر صاحب کے دفاتر میں آنا جانا تھا۔

Read more

صفدر ھمدانی کا کوئی ثانی نہیں (2)۔

محترم صفدر ہمدانی نے نشریات کی دنیا میں اپنی آواز کا خوب جادو جگایا۔ اسکرپٹ رائیٹنگ کی بنیاد پر ارباب علم و ادب سے خوب داد سمیٹی۔ لاہور میں رہتے ہوئے بھی ہوا کے دوش پر ان کی آواز دیس دیس میں پہنچی اور یہ علم و عرفان کے دیپ جلاتے اور آگہی کی روشنی گھر گھر پہنچاتے رہے۔ یہ وہ ہستی ہیں، جنہیں کئی ممالک کے نشریاتی اداروں سے وابستگی کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے جنوں نے زندگی

Read more

صفدر ھمدانی کا کوئی ثانی نہیں

محترم صفدر ہمدانی ایک زندہ دل ادبی شخصیت ہی نہیں، ایک جیتی جاگتی محفل اور متحرک ادارہ بھی ہیں۔ ادب، ثقافت، صحافت، براڈ کاسٹنگ، صدا کاری، تحقیق، مرثیہ خوانی، ریڈیو اکیڈمی کے استاد اور سفر نامہ نگاری کی دنیا میں انہوں نے جو نام، مقام اور احترام کمایا ہے، وہ ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ادب، ابلاغیات اور براڈ کاسٹنگ کے جن جن شعبوں میں محترم صفدر ہمدانی صاحب

Read more

پروفیسر جاذب قریشی اور بلے فیملی (داستان رفاقت).

تین۔ اگست۔ 1940۔ کلکتہ۔ اکیس۔ جون۔ 2021۔ کراچی تحریر: ظفر معین بلے جعفری پروفیسر جاذب قریشی استادوں کے استاد تھے۔ نامور شاعر، مایۂ ناز ادیب، منجھے ہوئے نقاد، جنگ کے کالم نگار، اپنی ذات میں ایک انجمن اور خدا جانے کیا کچھ تھے۔ ان کی شخصیت کے بہت سے رنگ اور پہلو تھے۔ کچھ دنیا کے سامنے آ گئے اور کچھ سے آج کی نسل ابھی واقف ہی نہیں۔ ساری زندگی ادب کی خدمت میں نہیں گزری۔ بہت سے کام

Read more

نظم۔ چادر اور چار دیواری۔ 1980۔ نظم نگار : فہمیدہ ریاض

تیرہ برس پہلے کی بات ہے جب صدیقہ بیگم کراچی آئیں۔ کئی ادیبوں اور شاعروں نے ان کے اعزاز میں ضیافتوں کا اہتمام کیا۔ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا، بلکہ انھوں نے اپنے تمام ادبی پروگراموں کو میری مشاورت سے حتمی شکل دی۔ ہر محفل میں انھوں نے مجھے ساتھ ساتھ رکھا۔ صدیقہ بیگم کے اسی دورہ کراچی کے دوران ہی کا ایک دل چسپ اور یادگار واقعہ یاد آ رہا ہے۔ کہیں سے حضرت مشتاق احمد یوسفی صاحب علیگ کو بھنک پڑ گئی کہ محترمہ صدیقہ بیگم آئی ہوئی ہیں۔

Read more

( 3 ) منصورہ احمد، ایک متنازعہ شخصیت، ایک معتبر شاعرہ

منصورہ احمد کی یہ بھی ایک انفرادیت ہے کہ بقول احمد ندیم قاسمی کے ”منصورہ کی بیشتر نظموں کا انجام ایک سوال ہوتا ہے“ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کی نظموں کے اختتام پر جو سوال ہوتے ہیں وہ معنی خیز بھی ہوتے ہیں اور قاری کو جھنجھوڑتے بھی ہیں۔ چند سوال کہ جن پر ان کی نظمیں اختتام پذیر ہوئیں ملاحظہ ہوں سوچ رہی ہوں ایسا کیوں ہے؟ ۔ ۔ تم کو لا کے کہاں بٹھاؤں؟

Read more

منصورہ احمد: ایک متنازع شخصیت، ایک معتبر شاعرہ (2)

محترمہ ادا جعفری، کشور ناہید، زہرہ نگاہ، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض اور اسی درجے کی چند اور شاعرات کے قلم کی جنبش جب سست روی کا شکار ہو گئی یا یوں کہیے کہ ان کی شاعری منظر عام پر آنا جب کم ہو گئی تو دلداگان شعر و ادب نے شاعرات کے تخلیقی جوہر کی کمی کا شدت سے احساس کیا ایسے میں اچانک متعدد شاعرات سامنے آئیں۔ ان میں ایک نام پروین شاکر کا بھی تھا جبکہ سارہ

Read more

( 1 ) منصورہ احمد، ایک متنازعہ شخصیت، ایک معتبر شاعرہ

منصورہ احمد علمی اور ادبی حلقوں کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان کی شخصیت کم و بیش تیس پینتیس برس موضوع بحث رہی اور وہ بھی مختلف زاویوں اور حوالوں سے۔ خود اپنی ذاتی حیثیت میں بھی اور احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی کی حیثیت سے بھی۔ حلقۂ ندیم اور حلقۂ فنون اور مخالف دھڑوں کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار حلقوں میں بھی۔ قاسمی صاحب کی گرتی ہوئی صحت کے باعث ”فنون“ کی بہت حد تک ذمہ

Read more

اختر حسین جعفری اور سید فخرالدین بلے

اختر حسین جعفری جدید اردو نظم کے قدآور شاعر تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ جدید اردو نظم کے انتہائی معتبر شاعر ہیں۔ اس لیے کہ وہ جہان ادب میں آج بھی زندہ ہیں۔ آسمان ادب کا ”اختر“ ڈوبا نہیں ٔ بلکہ جھلملا رہا ہے اور خوب جگمگا رہا ہے۔ وہ یقینی طور پر اختر صبح تھے اس لیے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوتے بھی ہمیں ”آخری اجالا“ دے گئے ہیں۔ ”آخری اجالا“ دراصل کلیات

Read more

سید سلطان احمد اجمیری اور سید فخرالدین بلے

ممتاز مذہبی و روحانی اسکالر اور معروف صحافی و ادیب سید سلطان احمد اجمیری فطرتاً درویش صفت اور فقیرانہ مزاج کی حامل شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اگر انہیں بے حد وسیع المطالعہ اور وسیع المشاہدہ تسلیم کیا جائے تو ان کی شخصیت کے بہت سے پہلووٴں کو سمجھنا قدرے آسان ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ حد درجہ کم گو ہونے کے باوجود مذاہب عالم۔ مذہب اسلام۔ تاریخ اسلام اور تصوف۔ عالمی ادب کے ہی نہیں

Read more

ڈاکٹر اسلم انصاری اور سید فخرالدین بلے: داستان رفاقت

پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری کا 30 اپریل 2022 کو ماشا اللہ 83واں یوم ولادت منایا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق اور قادر الکلام شاعر ہیں۔ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر اسلم انصاری کی تعلق داری دوستانہ روابط اور مراسم بلکہ رفاقت کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ پورے وثوق سے ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آنکھ کھولنے کے بعد سے

Read more

محسن نقوی اور سید فخرالدین بلؔے فیملی داستان رفاقت (2)

سید محسن نقوی کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن ان کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہذا بحیثیت ایک شاعر انھوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947 ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے

Read more

محسن نقوی اور سید فخرالدین بلے فیملی: داستانِ رفاقت (1)

پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب جیسے عظیم المرتبت اسکالرز اور ادبیات کے اساتذہ سے فیض پانے والے سید محسن نقوی کا پچھترواں یوم ولادت۔ 2022۔ کے کیلینڈر کے پانچویں مہینے کی پانچ تاریخ کو منایا جا رہا ہے۔ گویا کہ پروفیسر ڈاکٹر اجمل نیازی اور پروفیسر خالد سعید کی طرح اپنے آپ کو فخریہ طور پر پاکستان کا ہم عمر بتانے والوں میں سیدی محسن نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ہمیں ان تمام

Read more