مراقبے کے بعد: ( تجزیہ اور فن)

یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ استاد جب نالائق سے نالائق بچے میں اعتماد کی لہر پیدا کرے، تو وہ بڑے سے بڑا آدمی بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میری قلم نگاری سے استاد کی کتاب ”مراقبے کے بعد“ کا تجزیہ ہونے جا رہا ہے۔ ایف سی کالج شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر شاہد اشرف کی کتاب مراقبے کے بعد ”منظر عام پر آئی تو مجھے اس پر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ وہی اعزاز ہے جو نالائق ہونے کے باوجود اعتماد کی لہر نے اس کو کرنے کا موقع دیا۔
جب اس کتاب کا دیباچہ پڑھ رہا تھا تو مجھے جس بات نے زیادہ متوجہ کیا، وہ کتاب میں موجود زندگی کی تلخ حقیقتیں اور ان کا احاطہ ہے۔ جو صرف سادہ مگر جاندار انداز کی حامل ہیں۔ مصنف ڈاکٹر شاہد اشرف کا قلم زندگی کے اصل تخلیق، تحقیق، فیصلہ سازی، تجرباتی اور کہانی پن کی کشتی میں سوار ہو کر زندگی کے اردگرد حائل انتشار، افراتفری اور بگاڑ کو قارئین و ناقدین کی توجہ کا مرکز بناتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب مائیکرو فکشن پر مبنی ہے لیکن پس منظر میں مکمل سراپا زندگی اور فنی چابکدستی کا ثبوت بھی ہے۔ اس کتاب کا ارتقائی سفر میرا ذاتی تجربہ ایک ایک حرف اور لفظ سے پالا کرتا ہوا زندگی تخلیقات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا جو تخلیق کار کے ذریعے آج کی نسل کی آبیاری کا فریضہ سرانجام دینے کے متبادل ہے۔
موصوف کی کتاب کا پہلا عنوان ”پھل“ کا جائزہ لے لیں بس تو سیدھی سی بات ہے میرے اور آپ کے آنگن پر دستک دیتی معلوم ہوتی ہے۔ آج کی ذخیرہ اندوزی افراتفری اور میرے معاشرے کی اندرونی کہانی ہے جو ہم نام کے انسان اور باتوں میں نہ جانے کیسے کیسے حیوانی روپ لیے انسانیت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مصنف کے قلم نے کیا خوبصورت لکھا:
” وافر مقدار میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے درختوں نے پھل دینا کم کر دیا ہے۔ اگلے سال نیت درست ہوئی تو درخت پھر سے زیادہ مقدار میں پھل دینے لگ جائیں گے۔“
کتاب کے پہلے عنوان کو پڑھنے کے بعد ایک انوکھا پن محسوس ہونے لگا جیسے جیسے کتاب کی پرت کو بائیں سے دائیں کرتا گیا ایک سے بڑھ کر ایک لفظ اپنے متحرک ہونے کا ثبوت دینے لگا۔ موصوف کے قلم نے نہ صرف صفحہ قرطاس پر لفظ مجسم کیے بلکہ ان کے مجسم ہونے کا وافر مقدار میں ثبوت بھی پیش کیا۔ جیسے کتاب میں موجود موضوع ”منافق“ جس نے خاص کر میرے ملک کے تعلیمی اداروں کی پالیسی اور منافق زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ جب اس موضوع کا مطالعہ میرے ہاتھوں میں آیا تو فوراً مجھے اپنے شہر کا ماضی یاد آ گیا جہاں پر میں بھی 2020 میں بطور استاد پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہا تھا۔
اس ادارے کا نام دا ریڈر اسکول حافظ آباد تھا۔ یہ لوگ براہ راست اپنی زبانوں سے اقرار کرتے ہیں کہ علم انبیاء کی میراث ہے، علم دینے والا دیگر لوگوں سے افضل ہوتا ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جو تمام شعبہ جات، ہنر، مہارت اور فن کو پیدا کرتا ہے۔ مگر بچوں اور ان کے والدین سے انہیں استادوں کے نام پر بھاری فیس بٹورتے ہیں۔ لیکن ان استادوں کو کچھ نہیں دیتے صرف اپنے قبیلہ اور بینک بیلنس پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ مصنف نے اس موضوع پر انکشاف فرمایا ہے وہ لکھتے ہیں :
” پہلے ماہ کی تنخواہ کا چیک موصول کرنے کے بعد بوجھل قدموں کے ساتھ اساتذہ ٹولیوں میں اظہار افسوس کرتے ہوئے نماز جمعہ پڑھنے کے لئے ادارے کی مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ سنتیں ادا کیں امام مسجد نے حقوق العباد کی اہمیت اجاگر کی۔ خطبہ ختم ہوا اور تکبیر پڑھنے سے پہلے ادارے کا سربراہ امامت کے لئے آگے بڑھا۔“
میرا ذاتی کہنا ہے کہ:
” گناہ کو گناہ نہ سمجھنا سب سے بڑا گناہ ہوتا ہے۔“
دوسری جانب اس دلچسپی کا احساس اور بڑھتا گیا جیسے جیسے کتاب کے اوراق مختصر تحریر پر مبنی تھے۔ ویسے ویسے پس منظر میں ایک بہت بڑا سبق اور ناقابل بیان منظر ملتا گیا۔ اس ادبی سفر میں آگے بڑھا تو مزید ایک منفرد تحریر پڑھی جس کا موضوع ”دریا کے دوسرے کنارے پر“ اس کے آغاز میں صرف عام مفہوم لگا، لیکن جوں جوں میں تحریری سفر کو مزید مضبوطی اور ارادی طور پر اپناتا گیا اس کا مفہوم و مطلب تمام دنیا کے اختلاف فراموش کر کے میرے ساتھ ہم کلام ہونے لگا۔
زندگی کا حسن، اپنائیت کا احساس بھی راز کھولے جا رہا تھا۔ مختصر یہ کہو کہ جس بھی موضوع کو چھونے کی آرزو کی اس نے ایک سے بڑھ کر ایک خیر خواہ اور معاشرہ کی نبض سے آگاہ کیا۔ سب موضوعات اپنی مثال آپ اور آج کے زمانہ کی عکاسی کس نے کسی سے رنگ میں کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کتاب میں موجود ان کا ایک موضوع ”خواب“ ہے۔ موجودہ حالات میں دیکھیں تو صرف یہی باقی رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام پر لگاتار پابندی عائد ہو رہی ہیں۔ خواب میں ہر چیز ہے جو گاؤں، شہر، گھر، گلیاں اور فضا سبھی سے آشنا کرواتا ہے۔ اس افراتفری اور مصروف ترین زندگی میں صرف یہی باقی رہ چکا ہے۔ ڈاکٹر اختر شمار کے بقول:
” جب سب ختم ہو جاتا ہے صرف خیال باقی رہ جاتا ہے۔“
خیال سے کائنات وجود میں آ گئی۔ ذہن میں خیال آیا تو انسان ( آدم) کی تخلیق ممکن ہوئی۔ یہ بات تو ٹھیک طور پر میرے سامنے آئی جب اس کتاب کے ورق پچاس پر پہنچا جہاں پر ایک تحریر کا عنوان ”مراقبے کے بعد“ پڑھنے کو ملی۔
اس تحریر کو پڑھنے کا ارتقا ہوا تو یہ انکشاف ہوا کہ ایک باطنی بھی آنکھ ہوتی ہے جو عام نظر نہیں آتی اور وہ صرف خاص بندوں کے پاس ہوتی ہے جو خدا کے قریب اچھے خیالوں کے مالک اور رحم دل، سخاوت، خیرخواہی اور مثبت کردار کے مالک ہوتے ہیں، جو خالق اور مخلوق کے مابین ایک جامع تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بات مصنف کے قلم کے ذریعے بھی کچھ یوں عیاں ہوتی ہے صرف اس تحریر کا آخری جملہ ہی دیکھ لیں :
” اب اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا وہ نابینا ہو گیا ہے۔“
میرے ارد گرد ماحول میں بھی کچھ اس سے فرق نہیں نظر آتا چاروں اطراف نابینوں کی ٹولیاں نظر آتی ہیں۔ صبح سے شام تک مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک اندھا ملتا ہے جو مالک کائنات کی حکمت کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس ماحول میں مسلسل بددیانتی، ملاوٹ، فریب، بغل میں چھری اور منہ میں رام رام لیے دوسروں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ اصل میں وہ دوسروں کو بے وقوف نہیں بنا رہے بلکہ وہ خود نابینا ہو چکے ہیں۔
محترم استاد ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے بقول:
”پاکستان زمینوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کمینوں کی وجہ سے غریب ہے۔“
ان کے پاس وہ دیکھنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اگر سادہ لفظوں میں بیان کروں کہ کتاب کے جس موضوع کو بھی چھونے کا ارادہ کیا اس نے مجھے کسی نہ کسی رنگ میں ہلا کر رکھ دیا جو کہ آج کے زمانہ تقریباً تمام چیزوں اور کاموں سے عاری ہو چکا ہے۔ مصنف کی قلم نے ایک ایک چیز کو بالترتیب بیان کیا ہے۔ ان کے دیگر موضوعات کی بات کروں جن میں ”خون“ ، ”مفکر“ ، ”استاد“ ، ”سلیقہ“ اور دیگر جتنے بھی ہیں سبھی اپنے انداز اور رنگ میں ایک متحرک خیال اور جاندار سبق لیے ان لوگوں کی تلاش میں ہیں جو عمدہ خیال اور باطنی آنکھ کے مالک ہیں۔
کامیابی کے لئے باطن کا سفر ضروری ہے جو تمام دنیا داری سے بالا تر اور تیسری آنکھ کی بصیرت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ کتاب کے آخری عنوان پر پہنچا تو مجھے وہی خیال، سوچ اور فکر کا محور ملا جو ہر موضوع کو پڑھنے کے بعد کا ہے۔ ارتقائی عنوان سے اختتامی عنوان تک مسلسل خیال کا چرچا ملا کہ عمدہ خیال ہی عمدہ ادب اور زندگی کو تخلیق کرنے کا سبب بنتا ہے۔ آخری موضوع ”لنگر خانے میں“ جو صرف آٹھ لائنوں پر مشتمل ہے لیکن یہ مکمل اور جامع خیال پیش، لکھا ہوا ہے :
” کھانا کھا کر لنگر خانے سے باہر نکلا اور چندہ بکس کے پاس پہنچا۔ جیب سے بٹوا نکالا اور دس ہزار روپے بکس میں ڈال کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ جن کے چہروں پر کچھ دیر پہلے حیرت دکھائی دیتی تھی اب وہ ممنونیت سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔“
مطلب خیال عمدہ کام بہت عمدہ اچھی سوچ اچھی دنیا یہ بنیادی مقاصد ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں ورنہ حیوان ہیں۔ آنکھوں سے نکلنے والے آنسو کی رنگت ایک ہی طرح کی ہوتی ہے مگر خیال کا فرق ہے جس کی بنا پر وہ نکلتے ہیں۔ اردو ادب کے نامور شاعر نذیر قیصر کے بقول:
خالی دعا سے کیا ہوتا ہے
اچھا خیال دعا ہوتا ہے
ڈاکٹر شاہد اشرف کی کتاب بھی کچھ اسی طرح کے خیالات و واقعات اور آج کی نوجوان نسل کو اس سے باخبر کرواتی ہے میرے نزدیک یہ ایک بہترین ورثہ ہے۔ جو آدمی سے انسان اور مراقبے کا انسانی زندگی میں مقام و مرتبہ بتاتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے جو بے حد ہی کارآمد اور صحت مند بھی ہے۔

