آئی ایم ایف سے چھٹکارا کیسے ممکن؟ عوامی تجاویز


پچھلے ایک ماہ سے حکومت، ادارے، صنعت کار، بزنس مین، عوام سمیت ہر شعبے سے وابستہ لوگ ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں یا اللہ کسی طریقے سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔ اس وقت ہماری پوری ریاست صرف ایک غیر ملکی ادارے کی جانب نظریں ٹکائے بیٹھی ہے۔ شاید ان کو ہم پر ترس آ جائے اور ہمیں ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر دے دیں۔ آئی ایم ایف بھی شاید اسی انتظار میں ہے جب تک حکومت غریب کی ہڈیوں سے خون کا آخری قطرہ نہیں نچوڑ لیتی اس وقت تک ہم ڈیل فائنل نہیں کریں گے۔

پاکستان میں اس وقت سب سے سستی موت ہے باقی ہر چیز انسان کے استعمال کی مہنگی ہو چکی ہے۔ اب گندم میں رکھنے والی گولیاں بھی نایاب ہو گئی ہیں جبکہ چوہے مار سپرے اور گولیوں کا پیکٹ بھی سو روپے سے زائد مہنگا ہو گیا ہے۔ اس سے اب خود کشی بھی ممکن نہیں رہی کیونکہ چوہے مار گولیاں بنانے والوں نے زہر مہنگا ہونے کی وجہ سے ان میں زہر کم ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے گزشتہ روز میں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستانیوں سے اس کا حل پوچھا، میں حیران رہ گیا ہمارا نوجوان طبقہ کس قدر ذہین ہے۔ کیا شاندار قسم کے طریقے بتائے گئے۔ اریبہ عباسی نامی صارف نے بتایا کہ اس کے لئے لیڈر کا غیرت مند ہونا لازمی ہے اور ایسا لیڈر جو صرف اللہ سے ڈرتا ہو اور ایسی صفات کا مالک صرف سعد رضوی ہے۔ بیرسٹر چیمہ نے کہا صرف ایک کام کریں، محمد بن سلمان کی طرح ملک کی پانچ سو اشرافیہ کو اکٹھا کریں، ان کو فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرائیں، ہر ایک کو پانچ ارب کا ٹارگٹ دیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق قریبا 2800 افراد یا خاندان ایسے ہیں جن کے لئے پانچ سے دس ارب دینا کوئی بات نہیں، بس انہیں یہ بتا دیں ملک ہے تو آپ ہیں۔

ملک واحد عزیز نے کہا دفاعی بجٹ کم کریں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بڑھائیں، خصوصی طور پر بھارت کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے۔ ریونیو کا نظام بہتر کیا جائے اور ہر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ مدثر نے کہا کچھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں نواز شریف اور مشرف کے دور میں ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں۔ انہی ادوار پر غور کریں اس وقت ہم نے کیا اقدامات کیے تھے۔ حافظ اللہ نے کہا سود سے پاک معاشرہ بنایا جائے، اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جائے۔

تمام لوگوں کی مراعات بند کی جائیں۔ صحافی علی رضا نے کہا ہمیں بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور پر توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔ ایکسپورٹ بڑھائی جائے، سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ سبزیوں اور پھلوں کی ایکسپورٹ بڑھائی جائے۔ ہمیں اپنے اضافی اخراجات پر کٹ لگانا چاہیے۔ محمد قادری نے کہا پاکستان میں موجود ذخائر کی کھوج لگائی جائے اور ان کا درست استعمال کی جائے۔ عدنان مقصود  نے کہا رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس لگائیں، زراعت پر بھی ٹیکس لگائیں لیکن چھوٹے کاشتکاروں کو ٹیکس فری قراردیا جائے۔ 18 گریڈ سے زائد والوں کی مراعات پر کٹ لگایا جائے۔ ہزار سی سی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا جائے۔

انجنیئر نوید نے کہا ایک دفعہ حکومت لبیک والوں کو دیں انشاء اللہ پاکستان معاشی طور پر آزاد ہو جائے گا۔ محمد حارث شیخ نے کہا عدل اور انصاف کی حکمرانی آئی ایم ایف سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔ راحیل راجپوت نے کہا یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق سالانہ 2600 ارب صرف مراعات کی مدت میں چلے جاتے ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ سمیرا معید نے کہا اسحاق ڈار کو واپس لائیں وہ تمام گر جانتے ہیں۔

خرم ضیاء نے کہا حکومت اور عوام مل کر ایک دفعہ قربانی دیں۔ روز روز مرنے سے بہتر ایک بار مر جائے۔ عصمت اللہ خان نے کہا کسانوں کو جدید زرعی مشینری دی جائے۔ شیخ نعیم نے کہا ہمیں جماعتوں کی تفریق سے نکل کر پاکستانی بننا پڑے گا۔ سرفراز سعید نے کہا قومی مصنوعات کی معیاری پیداوار اور عالمی منڈی تک رسائی یقینی بنائی جائے اور زرمبادلہ کم خرچ کیے جائیں۔ خواجہ بہزاد نے کہا حکومت کی ملکیت غیر ضروری زمین فروخت کریں کوئی فائدہ نہ لے صرف پرائیویٹ کمپنی کو کہے چالیس فیصد فائدہ واپس حکومت دیں۔

ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا سے مین پاور معاہدہ کیا جائے۔ سہیل مسعود نے کہا بیوروکریسی، ججز اور جرنیلوں کی مراعات کم کی جائیں۔ محمد فیصل نے کہا تمام سرکاری دفاتر کو سولر پینل پر منتقل کیا جائے۔ محمد عثمان نے کہا نوجوان طبقے کو زیادہ سے زیادہ آئن لان بزنس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ سرائیکستان قومی مومنٹ نے کہا صرف سی پیک کو مکمل کریں، کالا باغ ڈیم بنائیں۔ عمران شہزاد نے کہا سستی ایل این جی لے کر تمام انرجی پلانٹس اس پر منتقل کر دیں۔ روبینہ شفیع نے کہا ہمیں سمگلنگ فوری روکنی چاہیے۔ سردار جاوید یوسف نے کہا تمام اداروں کے افسر شاہی کی شاہی خرچیاں ختم کرنی ہوں گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو چاہیے ان تجاویز پر فوری عمل کریں۔ اگر سب نہیں کر سکتے تو کم از کم جو فوری ریلیف دینے والی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

Facebook Comments HS