گرینڈ ڈائیلاگ کیسے ممکن ہو سکے گا؟
ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان کا سیاسی مقدمہ سیاسی تنہائی یا کسی ایک فریق سے حل نہیں ہو گا۔ اگر بحران نے حل ہونا ہے تو یہ ایک اجتماعی عمل ہو گا جس میں تمام فریقین کو ایک مشترکہ ایجنڈا پر متفق بھی ہونا ہو گا اور اس پر کھڑا بھی ہونا ہو گا۔ قومی سیاست میں اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر بہت سے سیاسی فریقین یا اہل دانش سمیت رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد یا ادارے قومی سطح پر بحران کے حل کے لیے ایک قومی گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کرتے رہے ہیں۔
لیکن ماضی اور حال میں ہم نے سیاسی جماعتوں کی سطح پر دیگر فریقین کے ساتھ مل کر کوئی بڑا قومی ڈائیلاگ کو نہیں دیکھ سکیں۔ اگرچہ سیاسی محاذ پر ”میثاق جمہوریت“ کے ماہدہ کی دلیل دی جاتی ہے مگر اس میں دو مسائل تھے۔ اول یہ میثاق عملاً دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون تک محدود تھا اور اس کو قومی میثاق بنانے یا اس میں دیگر جماعتوں کو شامل کرنے کی کوئی سنجیدہ طرز کی کوششیں ہمیں دیکھنے کو نہیں مل سکیں۔ دوئم 2006 میں ہونے والا یہ میثاق اور اس کا ایجنڈا قومی سیاست میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی کو پیدا کر سکا جو ہماری قومی ضرورت بنتا تھا۔
اس وقت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ قومی بحران کو بنیاد بنا کر یہ اعتراف کیا ہے کہ قومی سطح پر کوئی بھی جماعت تن تنہا ان مسائل سے نہیں نمٹ سکے گی۔ ان کے بقول اگر واقعی قومی بحران کو حل کرنا ہے تو ہمیں تمام فریقین کی سطح پر ایک بڑے ”گرینڈ ڈائیلاگ“ کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ایسی ہی ایک تجویز پیپلز پارٹی کے سینٹر رضا ربانی بھی دے چکے تھے اور ان کے بقول سیاست دانوں سمیت دیگر فریقین کو شامل کرنا اور قومی ڈائیلاگ کو یقینی بنانا ہی قومی ضرورت بنتا ہے۔
لیکن ماضی اور حال میں قومی سطح کی سیاست میں جو بڑی سیاسی تقسیم، محاذ آرائی، ٹکراؤ اور ایک دوسرے کے بارے میں عدم برداشت کی پالیسی نے ہمارے قومی مسائل کی سنگینی کو اور زیادہ خطرناک کر دیا ہے۔ ایسی بداعتمادی کے ماحول میں محض سیاسی فریقین ہی نہیں بلکہ ریاستی اداروں یا ادارہ جاتی سطح پر بھی ہم ایک سیاسی تقسیم اور ٹکراؤ یا اختلافات کی جھلکیاں دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہی بنتا ہے کہ قومی سیاست میں مفاہمت کی سیاست اور معیشت کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے ”گرینڈ ڈائیلاگ“ کون کرے گا، کیسے کرے گا اور کیوں تمام فریقین اس پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوں گے اور کون اس میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا۔
اس وقت دلچسپ قومی سیاسی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف عمران خان اور ان کی جماعت تحرک انصاف کھڑی ہے تو دوسری طرف ماضی کی تمام حزب اختلاف کی جماعتیں جو آج حکومت میں ہیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ دونوں سیاسی قوتیں ایک دوسرے پر سیاسی برتری کی جنگ کو جیت کر اپنی سیاسی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فوری طور پر گرینڈ ڈائیلاگ کی دی جانے والی تجویز پر عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے مسترد کر دیا ہے۔
ان کے بقول سب کچھ ہو سکتا ہے اور اس میں گرینڈ ڈائیلاگ بھی ہو سکتا ہے مگر پہلی اور آخری شرط یہ ہی ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے پہلے موجودہ حکومت ”فوری نئے قومی انتخابات“ کی تاریخ کا اعلان کریں اور اس کے بعد تمام امور پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ اب قومی گرینڈ ڈائیلاگ ہونا ہے اور اس میں اگر عمران خان یا ان کی جماعت اس کا حصہ نہیں بنتی تو مفاہمت کا یہ عمل کیسے آگے بڑھ سکے گا۔ عمران خان یا ان کی جماعت کو باہر نکال کر قومی گرینڈ ڈائیلاگ اول تو ہو نہیں سکے گا اور اگر ہو گا تو تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر اس کی کوئی ساکھ نہیں ہوگی۔
ماضی میں قومی گرینڈ ڈائیلاگ میں سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں کے ساتھ اسٹیبلیشمنٹ، بیوروکریسی یا عدلیہ کو حصہ بنانے پر رائے عامہ تقسیم رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے سیاسی قوتوں کو قد کاٹھ کمزور ہو گا اور ریاستی اداروں کی شمولیت سے قومی سیاست اور جمہوریت کا مقدمہ کمزور ہو گا۔ کیونکہ پہلے ہی قومی سطح پر اسٹیبلیشمنٹ طاقت کی حیثیت رکھتی ہے اور جب اس کو اس قومی بحث کا حصہ بنا دیا گیا تو وہ اپنی برتری مزید ثابت کر سکتی ہے۔
جبکہ اس کے برعکس کچھ لوگ ”قومی ڈائیلاگ“ کی بحث کو ہی اسٹیبلیشمنٹ کے اپنے ایجنڈے سے ہی جوڑ کر دیکھتے ہیں اور ان کے بقول یہ ایجنڈا ان ہی کا پیش کردہ ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب ”قومی گرینڈ ڈائیلاگ“ کے بارے میں رائے عامہ یا سیاسی تقسیم پہلے سے ہی گہری موجود ہو یا اس کو خاص طور پر پس پردہ قوتوں کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے گا تو اس پر ”اعتماد سازی“ کا فقدان مل بیٹھنے کے معاملات کو بھی پس پشت ڈال سکتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ سیاسی حالات، سیاسی طریقہ کار، حکمرانی کا نظام، طاقت کے مراکز میں موجود تقسیم یا ٹکراؤ، ایک مخصوص طبقہ کی فیصلہ سازی میں اجارہ داری، حکومتوں کو کمزور کرنا، گرانا یا بنانے کا کھیل سب ہی طور طریقے ہمیں آگے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ محض قومی سیاست ہی نہیں بلکہ قومی معیشت کے بحران نے ہمیں زیادہ مشکل مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں بنیادی طور پر سیاسی دروازوں کو بند نہیں رکھا جاتا بلکہ بات چیت، مفاہمت اور قومی مفاد کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی پالیسی ہی کامیابی کی کنجی ثابت ہوتی ہے۔
سیاسی جماعتوں اور قیادت کا کام ہی مخالف فریقین سمیت دیگر فریقین کو جوڑ کر بحران کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہماری قومی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں سیاست، جمہوریت، آئین، معیشت اور انصاف کا نظام کا فریم ورک ہی وہ ہے جو ہمیں آگے بڑھانے کی بجائے عملاً پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن کے پاس عقل و دانش یا مسائل کا حل ہے تو ان کے پاس فیصلہ کی طاقت نہیں اور جن کے پاس فیصلے کی طاقت ہے وہاں غیر سنجیدگی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔
پاکستان کو اگر واقعی آگے بڑھنا ہے تو اسے ایک نیا سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی یا انصاف پر مبنی فریم ورک کی ضرورت ہے جو ملک میں حقیقی حکمرانی کے نظام میں افادیت سمیت شفافیت اور جوابدہی کا نظام قائم کرسکے۔ یقیناً یہ کام ایک بڑے مکالمہ کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہ مکالمہ روایتی انداز میں نہیں بلکہ تمام فریقین کو شامل کر کے غیر معمولی اقدام کے طور پر کچھ عملاً کرنا ہو گا۔ ایسا کام جو ہمیں ایک بڑا سیاسی روڈ میپ دے سکے گا اور اس کو بنیاد بنا کر تمام فریقین اپنے اپنے سیاسی و قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرسکیں گے۔
قومی ڈائیلاگ کی ضرورت اس لیے بھی بنتی ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو بھی اور ملک سمیت اس کے اداروں کو بھی ٹکراؤ کی سیاست یا پالیسی سے باہر نکالنا ہو گا۔ کیونکہ اس وقت ہم جس ٹکراؤ کی سیاست کی جانب بڑھ رہے ہی جہاں مفاہمت کی بجائے ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا اور الزامات کی بنیاد کو مخالفین کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا قومی مفاد کے برعکس ہے۔ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے کچھ بنیادی اصول اور فریم ورک پر اتفاق رائے درکار ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہمیں آگے کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔
لیکن فوری مسئلہ تو تنا و، ٹکراؤ اور بداعتمادی کا ماحول ہے اس کو ختم کیے بغیر کسی بھی سطح کے مکالمہ کے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔ ایک اور مسئلہ سیاسی جماعتوں کا اپنا سیاسی نظام ہے جو عملاً غیر جمہوری، شخصیت پرستی اور ذاتی مفاد پر مبنی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ اگر قومی ڈائیلاگ کی شکل یہ ہونی ہے کہ سیاسی فریقین سب کو تو درست کرنا چاہتے ہیں یا سب کو جوابدہ بنانا چاہتے ہیں مگر خود انفرادی سطح یا جماعتی یا حکومتی سطح جوابدہی یا اپنے اندر اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہوں گے تو مسائل کا حل کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہو گا۔
سب کو اپنی اپنی سیاسی انا پرستی یا ایک دوسرے پر سیاسی غلبہ جنگ یا ریاستی و قومی مفاد کے مقابلے میں ذاتیات پر مبنی اقتدار کی جنگ سے خود کو بھی باہر نکالنا ہو گا اور دوسروں کو بھی نکال کر آگے بڑھنے کے لیے مکالمہ کو ہی بنیاد بنانا ہو گا۔ لیکن یہ کام محض ایک قومی سطح پر مبنی ڈائیلاگ یا اس میں طے ہونے والے فریم ورک سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک طویل منصوبہ بندی پر مبنی نظام کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی جو لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی کے خاکہ کو پیش کرسکے۔


