ریاست حیدر آباد


ریاست حیدر آباد: مسلمانوں کی ایک شاندار ریاست جس نے ٹیپو سلطان کے مقابلے میں انگریزوں کا ساتھ دیا اور غلام ہندوستان کی بنیاد رکھی

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

دکن کو مغلیہ سلطنت کا حصہ بنانے کے لیے شاہ جہاں نے اپنے بیٹے اورنگزیب کو دکن فتح کرنے کا حکم دیا تھا۔ شاہجہاں کے حکم پر اورنگزیب نے یہاں کئی علاقے فتح کیے اور ان کو مغل سلطنت کا حصہ بھی بنایا۔ تاریخ میں اورنگزیب کی دکن والی فتوحات بڑی تفصیل سے ملتی ہیں۔ اورنگزیب کا انتقال 1707 ء میں ہوا اور اس وقت تک دکن کا ایک وسیع علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ بن چکا تھا۔ تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ شاہجہاں بھی اپنے والد جہانگیر کے زمانے میں اس علاقے پر حملہ آور ہوا تھا۔ یہی وجہ ہوگی کہ اس نے بادشاہ بننے کے بعد عالمگیر کو اس علاقے کو فتح کرنے کا حکم دیا جسے وہ خود نہیں کر سکا تھا۔ عالمگیر کو یہ علاقہ اتنا پسند آیا کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری سال بھی یہیں گزارے اور یہیں پر اس کی وفات ہوئی، اس کے نام کا ایک شہر بسایا گیا، اس کا مقبرہ بھی بنایا گیا۔

مغل حکمرانوں کو دکن سے اس قدر محبت کس وجہ سے تھی، معلوم نہیں لیکن کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی۔ میرے خیال میں دکن کی خوبصورتی اور یہاں کے لوگوں کی رواداری اور خوش اخلاقی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے!

اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کمزور تو ہونا شروع ہو گئی لیکن اس کے باوجود بہت سے علاقوں پر ان کی بڑی مضبوط گرفت تھی، جن میں دکن کا علاقہ بھی شامل تھا۔ اورنگ زیب کی وفات 1707 ء سے لے کر 1857 ء تک ڈیڑھ سو سال تک ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کی حکومت کسی نہ کسی انداز میں قائم رہی۔ اس دوران بہت سی ریاستوں نے مغلیہ سلطنت سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔

مغل بادشاہ محمد شاہ نے 1713 ء میں میر قمر الدین خان، جو ایک ترکی النسل شخص تھا، کو دکن کا گورنر مقرر کیا جس کا ایک اہم شہر حیدرآباد تھا۔ اس دوران میں میر قمر الدین نے اس علاقے میں اپنے قدم مضبوط کر لیے اور 1724 ء میں جب کہ ابھی دلی میں مغل حکومت قائم تھی اس نے ریاست حیدرآباد کا اعلان کر دیا۔

مغلوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں غیر مسلم ریاستوں نے علیحدگی کا اعلان کیا وہیں طاقتور مسلمان گورنروں نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں اپنی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا جن میں ایک ریاست حیدرآباد بھی ہے۔ میر قمر الدین نے اپنے لیے آصف جاہ اور نظام الملک کا لقب اختیار کیا۔ یہ ریاست 1724 ء سے 1948 ء تک، تقریباً دو سو تئیس سال تک قائم رہی۔ تقسیم ہند کے بعد اس ریاست نے بھارت سے الگ رہنے کی کوشش کی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ تقسیم ہند کے نتیجہ میں یہ ریاست بھارت کا حصہ بن گئی اور یوں ایک شاندار ریاست کا اختتام ہو گیا۔ سابقہ والیان ریاست اب بھی خود کو ریاست کے بغیر بھی میر ہی کہلواتے ہیں۔

ریاست حیدرآباد ہندوستان کے مشرقی وسطی علاقے میں واقع تھی، 1941 ء میں اس کا رقبہ دو لاکھ پندرہ ہزار مربع کلومیٹر سے زائد تھا۔ موجودہ کے پی کے کا رقبہ ایک لاکھ ایک ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔ اس کی اپنی کرنسی تھی جس کا نام حیدر آبادی روپیہ تھا۔

انگریزوں نے جب دکن کے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی تو انھیں بہت سی مقامی ریاستوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں ریاست میسور پیش پیش تھی۔ اس ریاست کے علاوہ مراٹھے بھی انگریزوں کے خلاف تھے۔ انگریزوں کو ان لوگوں کے خلاف جنگ کے لیے مقامی مالی اور افرادی مدد کی ضرورت تھی اس کام کے لیے انھوں نے 1798 ء میں ریاست حیدرآباد کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی رو سے یہ ریاست جنگ کی صورت میں انگریزوں کی مالی اور افرادی مدد کی پابند تھی۔ اس کام کو بہتر انداز سے کرنے کے لیے 1803 ء میں انگریزوں نے حیدر آباد میں اپنی چھاؤنی بھی بنائی۔ اسے بالواسطہ حکمرانی کا ایک طریقہ بھی کہا جا سکتا ہے۔

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب انگریزوں نے ریاست میسور کو فتح کیا تو اس کے بعد انھوں نے مراٹھوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کے علاقوں پر بھی قبضہ کیا، اس دوران ریاست حیدرآباد نے بالکل خاموشی اختیار کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست حیدرآباد، انگریزوں کی ایک وفادار ریاست تھی اور والیان ریاست نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے انگریزوں سے دوستی کو ترجیح دی اور انھیں اپنے علاقے میں فوجی چھاؤنیاں بنانے کی بھی اجازت دی۔ انگریزوں نے بھی ریاست سے وفاداروں جیسا سلوک کیا۔

میرے خیال میں اگر ریاست حیدرآباد اس وقت انگریزوں کے خلاف کھڑی ہو جاتی اور مقامی ریاستیں بھی ان کا ساتھ دیتیں تو انگریز کبھی بھی دکن میں اپنے قدم نہ جما پاتے۔ جب انگریزوں نے ٹیپو سلطان کو شکست دی اور مقامی مراٹھوں کا بھی خاتمہ کر دیا تو پھر ان کے لیے دلی کو فتح کرنا مشکل نہ رہا۔ اس طرح ریاست حیدرآباد سے متعلق میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جنھوں نے انگریزوں کو دلی فتح کرنے میں مدد دی۔

یاد رہے اس وقت انگریز طاقت میں ریاست حیدر آباد کے مقابلے میں کہیں کم تھے۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ ریاست نے مزاحمت کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا؟ شاید اس کی وجہ صرف مقامی ریاستوں سے اپنی ریاست کو بچانے کی حکمت عملی ہو۔ ان کی اپنی ریاست تو بچ گئی لیکن ہندوستان ایک غیر قوم کا غلام ہو گیا۔

دکن کے علاقے میں چودہویں صدی سے ہی مسلمان ریاستیں قائم تھیں جن میں ایک ریاست گولکنڈہ بھی تھی۔ گولکنڈہ کے والی محمد علی قطب نے 1591 ء میں حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھی۔ ریاست حیدرآباد کے حکمرانوں نے اس علاقے میں شاندار کارنامے سرانجام دیے۔ ایک وقت تھا کہ یہ ریاست ہندوستان کی سب سے امیر ریاست تھی۔ اس کی سرکاری زبان اردو تھی۔ یہاں پر ایک بہت بڑا آصفیہ کتب خانہ بھی بنایا گیا۔ ابھی بھی کسی کو اردو سے متعلق کچھ جاننا ہو تو فرہنگ آصفیہ ہی سے مدد لی جاتی ہے۔

اس ریاست نے ہندوستان کی پہلی ائر لائن؛ دکن ائر لائن کی بنیاد رکھی جو ہندوستان کی سب سے پرانی ائر لائن ہے۔ ایک وقت تھا کہ ریاست کے آخری حکمران میر عثمان علی دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔ اس ریاست نے 1880 ء میں نے اپنی ریلوے سروس شروع کر دی تھی۔ ہندوستان میں پہلی مرتبہ انھوں نے اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کا تصور بھی دیا۔ اس کے علاوہ بے شمار، سکول اور ہسپتال بھی بنائے۔

یہ سب دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ریاست حیدرآباد وہ ریاست تھی جہاں سب سے زیادہ ترقی ہوئی اور لوگوں کے لیے بے حد سہولتیں بھی پیدا کی گئیں۔ سیلاب کی روک تھام کے لیے دو بڑی جھیلیں بھی بنائیں گئیں۔ اس علاقے میں مسلمان اقلیت میں تھے اس کے باوجود انھوں نے سوا دو سو سال تک اس علاقے پر بلا شرکت غیر حکومت کی۔ نظام حیدرآباد کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر حکمرانوں کو کسی طرح کی عوامی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے وقت کے حکمران، یعنی انگریزوں کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بنا کر رکھے اور وہ انگریزوں کے وفادار بھی تھے اور ان کی ہندوستان میں حکومت قائم رکھنے میں مدد گار بھی تھے۔ اس طرح انھیں دو طرفہ مدد حاصل تھی جس کی وجہ سے انھوں نے علاقے میں قابل ذکر ترقیاتی کام کیے۔

عثمانیہ میڈیکل کالج اور عثمانیہ یونیورسٹی کے ذکر کے بغیر ریاست حیدرآباد کی بات مکمل نہیں ہوتی۔ ریاست حیدرآباد کے پانچویں حکمران افضل الدولہ نے 1846 ء میں حیدرآباد میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی۔ یہ اس علاقے کا سب سے پہلا میڈیکل کالج تھا۔ آخری حکمران میر عثمان علی خان کے دور میں عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ یہ ہندوستان کی پہلی یونیورسٹی تھی جس کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ ایم ایس سی، ایم بی بی ایس وغیرہ تمام مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان دو کاموں نے ریاست حیدرآباد کو ایک نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سب کے باوجود تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ٹیپو سلطان کو شہید کیا جا رہا تھا اس وقت اس ریاست کے حکمران انگریزوں کے ایک وفادار غلام کا کردار ادا کر رہے تھے اور اسے ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے تھے۔ ہندوستان کو ایک غلام ملک بنانے میں ریاست حیدر آباد کا ایک ہم کردار ہے۔ لوگ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جب ریاست تلنگانہ کا سرکاری دن منایا گیا اس میں سلطان ٹیپو کا مجسمہ تو موجود تھا۔ کسی میر اور نظام کا نہیں تھا۔

اب بھی لوگ اسے ہی یاد رکھتے ہیں جس نے انھیں آزادی دلوانے کی کوشش میں اپنی جان بھی قربان کردی!

Facebook Comments HS