مثبت خود کلامی ہماری زندگی پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟
یہ تحریر میری ان لوگوں کے نام ہے جو اس وقت برین ٹیومر یا کسی دوسری مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ دراصل اس تحریر کے ذریعے میں ان میں وہ تحریک پیدا کرنا چاہتی ہو جس سے ان کی قوت ارادی مضبوط ہو۔ اس تحریر کے ذریعے میں ان سب کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ انسان کو کوئی بیماری اس کو اتنا جلدی نہیں مارتی جتنا ان کی سوچ ان کو اندر ہی اندر مار دیتی ہے۔ اگر انسان کی قوت ارادی مضبوط ہو اور جینے کی امنگ ہو تو انسان بیماری کو ہرا سکتا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کہنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن جس پر گزر رہی ہوتی ہے اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ کیسے سہ رہا ہے۔ اس بات کو میں اچھی طرح سمجھتی ہوں لیکن کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی کو کینسر ہوا اور وہ کینسر کی لاسٹ اسٹیج پر تھا لیکن وہ صحت یاب ہو گیا اور بیماری سے لڑ گیا۔
ایسا بہت کم ہوتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ کینسر جیسی مہلک بیماری کو صرف کچھ ہی لوگ ہرا پاتے ہیں۔ وہ ان کی قوت ارادی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر اور بیماری کو چیلنج کر دیتے ہیں کہ میں جیت کر دکھاؤں گا اور یوں وہ پھر سے زندگی کی طرف واپس آ جاتے ہیں۔ اب اس قوت ارادی کو اپنے اوپر اپلائی کیسے کیا جائے۔
دو طرح کی suggestions ہوتی ہیں۔ ایک autosuggetions اور دوسرا heterosuggestions۔ Autosuggestions وہ جو ہم خود کو دیتے ہیں یعنی خود سے خود کلامی کرنا خود سے باتیں کرنا اور خود کو محسوس کرانا کہ جو آپ اپنے لئے سوچ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں آپ ویسے ہی ہیں اور آپ کے ساتھ ویسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ autosuggestions مثبت بھی ہو سکتی ہیں اور منفی بھی۔ منفی جملے مثال کے طور پر
میں اب زیادہ جی نہیں پاؤں گا٬ میں اب ٹھیک نہیں ہو سکتا٬ میں تو کچھ کر نہیں سکتا وغیرہ وغیرہ۔
اور مثبت خود کلامی مطلب میں دن بہ دن بہتر ہوتا جا رہا ہوں ٬ میں صحت مند ہوں اور صحت مند اور خوش باش زندگی جی رہا ہوں ٬ ہر وہ چیز جس کی مجھے ضرورت ہے بغیر کسی جدوجہد کے مجھے مل رہی ہے۔
ان autosuggestions کو affirmations کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ Heterosuggestions وہ جو دوسرے آپ کو دے رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر
تم کبھی کچھ نہیں کر سکتے ٬ تم تو بے وقوف ہو۔ یہ منفی کلام ہیں جو ہم دوسروں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح ہم دوسروں کے لئے مثبت الفاظ کا چناؤ بھی کر سکتے ہیں جیسے :
تم بہت اچھے ہو٬ تم بہتر ہوتے جا رہے ہو۔ وہ لوگ جن کے گھر میں کوئی فرد کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جائے یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو اور مایوس کن رہتا ہو ان کو چاہیے کہ وہ ان سے مثبت کلامی کریں۔ جیسے : تم دن بہ دن بہتر ہوتے جا رہے ہو٬ تم بہت خوبصورت ہو٬ تم اچھی باتیں کرتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ بالکل اسی طرح بیمار کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ سے مثبت خود کلامی کرے جیسے : میرے جسم کا ایک ایک حصہ اپنا کام بہت اچھے سے سرانجام دے رہا ہے ٬ میں بہت خوبصورت ہوں ٬ میں ایک صحت مند زندگی گزار رہا ہوں۔
ہمارے لفظوں کا ہمارے جسم پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ناکہ صرف اس سے ہماری جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی ان منفی اور مثبت کلامی کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔
ہمارا ذہن منفی چیزوں کو سوچنے کا اتنا عادی ہو چکا ہوتا ہے کہ اگر اس سے کوئی مثبت بات کہی جائے تو وہ اس سے انکار کرتا ہے بہت resistance پیدا ہوتی ہے لیکن آپ یہ سوچ لیں اور یقین کر لیں کہ آپ خود سے جو بول رہے ہیں وہی صحیح ہے اور باقی سب غلط ہے اور خود کے لئے اچھا محسوس کرنا شروع کر دیں۔ آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کے لفظوں کا آپ کی جسمانی اعضا اور صحت پر جادوئی اثر ہو گا۔ ہم اپنے لیے جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔
اگر آپ مایوسی کا شکار ہیں تو اس سے نا صرف آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوگی بلکہ آپ اپنی زندگی میں برے اور مایوس کردینے والے حالات کو ہی کھنچے گے۔ اگر آپ کی زندگی میں کبھی کوئی برا واقعہ یا حادثہ درپیش آ جاتا ہے تو ان سے نکلنے کی کوشش کریں اور خوش باش رہنا سیکھیں کیونکہ ہماری منفی سوچوں کا ہماری زندگی اور صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔


