آپ میرے اس موضوع سے ایک دم چونک گئے ہوں گے اور ایہام گوئی کا بھی شکار ہو گئے ہوں گے کیونکہ جو زیر بحث لیا گیا ہے کیوں کہ اس کو جاننا بے حد ضروری ہے آج کے اردگرد ماحول کا جائزہ لیں تو نیکی کی بھرمار اور کثرت کا اندازہ آپ کو کافی حد تک ہو گا۔ جس معاشرے اور ماحول کا میں اور آپ آج حصہ بن چکے ہیں اس کا وجود اور بنیاد مکمل طور پر خراب اور بد نیتی پر مبنی ہے۔ چاروں اطراف صبح سے لے کر شام تک صرف اور صرف ایک خیال کی گردش گھومتی ہے جو اگلے کو دھوکہ دینے اور ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کے متبادل ہے۔ آپ کسی بھی میدان زندگی کا ذکر کر لیں اس کا سسٹم مکمل طور پر جامد ہو چکا ہے۔ کرپشن، بدعنوانی اور دھوکہ دہی نے اپنی گرفت میں ایسے لے لیا ہوا کہ چھوڑ نے کا نام ہی نہیں لیتا۔ سیاسی میدان سے لے کر مذہبی افکار تک مسلسل چلتے آئیں آپ کو مسلسل اور شاندار انداز میں صرف اور صرف خراب سسٹم کی خراب نیکی نظر آئے گی۔

اب اس خراب سسٹم اور اس میں موجود ان نیکیوں کا تذکرہ جان لیتے ہیں۔ جو مسلسل اور شام تک اپنا رنگ و اثر دکھاتی ہیں۔ اکثر گھر سے نکلتے وقت یا بازار میں آتے جاتے، اسکول کی چار دیواری کے اندر ہو یا باہر، تعلیم، تجارت، علم اور عالم طبقہ جو اپنے آپ کو اقبال کے شاہین، حقیقت کے پجاری، حقوق و فرائض کے کھوجی، اور دوسروں سے عمدہ اپنے آپ کو سمجھنے والے لوگ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کا حصہ ہیں جو ان کے بغیر ادھورا ہے۔ میں بھی اسی نظام پر اپنی بات مرکوز کروانا چاہتا ہوں۔

وہ نظام جہاں جوتا آگے ہو تو نماز نہیں ہوتی اور پیچھے رکھیں تو جوتی نہیں ہوتی۔ سر سے پگڑی اتری ہو تو بے وقوف قرار دیا جاتا ہے اگر بابا ننگا ہو تو پہنچی ہوئی ہستی قرار دی جاتی ہے۔ میں اس نظام کی خبر واضح کرنا چاہتا ہوں جہاں پورے سال کی کمائی صرف ایک مہینے ( رمضان) میں کی جاتی ہے اور اس کو ثواب کی نیت میں رکھا جاتا ہے۔ میں اس خراب سسٹم کی خراب نیکی پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں، جہاں حرام کی کمائی سے حلال گوشت تلاش کیا جاتا ہے۔ انصاف کے علمبردار انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر بولیوں میں انصاف فروخت کرتے ہیں۔ اسی حرام کی کمائی سے طواف کعبہ کرنے جاتے ہیں۔ میں اس خراب سسٹم کی خراب نیکی کا ذکر کر رہا ہوں جہاں سرکاری دفاتر میں بیٹھے بڑی بڑی سیٹوں پر براجمان لوگ جب غریب مزدور سے رشوت مانگتے ہیں رشوت کے پیسوں کو چاہے پانی کا نام دے کر انسانیت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔

مجھے مستنصر حسین تارڑ کی بات یاد آتی ہے :

” یہ وہ لوگ ہیں جو بائیں ہاتھ کا استعمال گناہ سمجھتے ہیں اگر یہی بات ہے تو دعا بھی ایک ہاتھ سے مانگا کرو۔“

میں اسی نظام کا تجزیہ کرنا چاہتا ہوں جہاں امیدیں انسانوں سے لگا کر شکوہ خدا سے کرتے ہیں مگر کمال کرتے ہیں۔ میں اپنے استاد ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا ذکر نہ کروں تو میری بات نامکمل ہوتی ہے وہ اس معاشرے کی خراب نیکی کا عکس اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

” پاکستان میں موسم خراب نہیں بلکہ ان کے ذہن خراب ہیں۔“

میرے ملک میں فخر کی نگاہ سے چہرہ دیکھا جاتا ہے اور وہ صرف پیسے کی بنا پر ہے جب کہ دنیا کا گھٹیا ترین تعارف پیسہ ہے۔ یہی وجہ ملک کا نام حج کرنے میں ہر سال اول درجہ رکھتا ہے مگر ایمانداری اور دیانتداری میں 140 نمبر پر جا چکا ہے۔ جو اس نظام کے خراب ہونے کی خراب نیکی کی وضاحت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد ورک لکھتے ہیں :

” عمروں کے گناہ کبھی عمروں سے معاف نہیں ہوتے۔“

اس خراب سسٹم کی خرابی نیکیوں کا اثر نسل در نسل چلتا چلا آ رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں پر کوئی بتانے والا نہیں اگر میں اپنے مذہبی رہنماؤں کا تذکرہ نہ کروں تو میرے خراب سسٹم کی خراب نیکی ادھوری رہ جاتی ہے۔ وہ حلوہ، گوشت، مٹن، دہ یکی، بڑا بنگلہ اور گاڑی پر یقین رکھتے ہیں بڑے بڑے چوغہ پہن کر گلیوں، بازاروں اور کوچوں میں سلام کرواتے ہیں۔ داڑھی رکھ کر اگلے کی داڑھی مونڈ دیتے ہیں بعد میں شکوہ قسمت پر لگا دیتے ہیں۔ المختصر یہ کہ یہ لوگ کریں تو ماشاء اللہ، اگر کوئی اور کرے تو استغفراللہ۔

میں اس خراب سسٹم کی خراب نیکی پر توجہ دلانا چاہتا ہوں، جب بچپن میں چلنا نہیں آتا تھا تو ہاتھ تھام کر چلاتے تھے مگر اب چلنا آیا تو راستے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنے میں مگن نیک ثواب کی ہے۔ ایک ریاست متعدد قانون غریب، امیر کا الگ الگ قانون خاص بات تو یہی ہے کہ حکومت ادھر کرتے ہیں جائیدادیں لندن، پیرس، نیویارک میں بناتے ہیں۔ سربراہ آرمی پاکستان ریٹائر ہونے کے بعد دیگر ممالک میں جانشین کرتے ہیں۔ یہ اس خراب سسٹم کی خراب نیکی ہے جو کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر ایک کپ چائے پر اپنا ایمان فروخت کر دیتے ہیں ان کی نظر میں پھر بھی کافر یورپ والے ہیں۔

میں اس خراب سسٹم کی نیکی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں، جہاں کتابیں فٹ پاتھ پر اور جوتے شیشوں میں سجائے جائیں۔ میں اس غلیظ سسٹم کی بات کرنا چاہتا ہوں، جہاں جج سے حساب مانگو تو توہین عدالت، مولوی/ پادری سے مانگو تو کافر، اور اگر اس ملک کے جرنیل سے پوچھو تو غدار۔ یہ وہ خراب سسٹم کی خراب نیکی، جو صرف کھوکھلے نعروں، مردہ ضمیر اور محمد شاہ رنگیلا کی تصویر۔ جس کے کان ہوں وہ سن لے جس کی آنکھ ہے وہ دیکھ لے۔