انقلاب آن ہولڈ

ایک وقت تھا ملک بھر سے لوگ اسلام آباد گھومنے پھرنے کے لیے آتے تھے اور یہاں کے مستقل رہائشیوں پر رشک کرتے تھے کہ ان کا شہر قدرتی خوبصورتی اور بہترین انفراسٹرکچر کا حسین امتزاج ہے۔ مگر اس شہر کو کسی کی ایسی نظر بد لگی ہے کہ اب شاید ہی کوئی ایسا سال گزرتا ہو جس میں اس شہر پر سیاسی یلغار نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں یہ شہر بکھرے ہوئے کنٹینروں کی وجہ سے بے ہنگم پورٹ کی تصویر نہ پیش کر رہا ہو۔
قبلہ عمران خان کی لانگ دھرنوں اور لانگ مارچوں میں شہرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جس طرح اسلام آباد کا کوئی سال مارچ کے بغیر نہیں گزرا اسی طرح خان صاحب کا بھی 2013 کے بعد سے اپوزیشن میں کوئی سال مارچ، احتجاج، دھرنے اور ہڑتال کے بغیر نہیں گزرا، امسال ان کی منزل ایک بار پھر ڈی چوک تھا اور ڈی ڈے 25 مئی تھا۔
25 مئی کو ملک بھر میں وہی مناظر تھے جو ہم ہر مارچ میں دیکھتے ہیں۔ بطور صحافی حالات سے باخبر رہنا ضروری ہوتا ہے لیکن اب ہمیں کم از کم یقین ہوتا ہے کہ یہ کوئی صبح نو کی نوید ہے نہ اس مار دھاڑ اور ہلے گلے کی کوکھ سے انقلاب کوئی آئے گا البتہ ہر مرتبہ ان چند پر امید بے خبروں پر رحم آتا ہے جو پہلی مرتبہ یہ مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آنسو گیس سے اٹھنے والے دھوئیں کے عقب سے انقلاب کا سورج نکلے گا اور برستے ڈنڈے اور چلتی گولیاں نظام کی آخری سسکیاں ہیں جس کے بعد راج کرے گی خلق خدا، جوں ہی ٹی وی اسکرینوں پر پہلی شہادت کی خبر آتی ہیں ان کے ذہن میں انقلاب فرانس کے مناظر اور کامیاب تحریکوں کی مناظر گھومنے لگتے ہیں، حالانکہ اٹھارہویں صدی کے بجائے اگر یہ لوگ حالیہ تاریخ سے واقف ہوں تو ان کو پتا چلے کہ وطن عزیز میں لاشوں کے ایندھن سے انقلاب کی نہیں اقتدار کی راہ ہموار ہوتی ہے، خوش قسمت لیڈران کے اقتدار کی راہ۔
اگلی صبح وہی ہوا جو ہم سب نے دیکھا، عمران خان نے اچانک احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور 6 دن کی قابل توسیع مہلت دے کر واپس ہو گئے۔ وطن عزیز میں جب بھی کچھ اچانک ہوتا ہے تو فوراً چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے اور پس پردہ ’ڈیل‘ کی باتیں ہونے لگتی ہے، یار دوستوں کا خیال ہے کہ یہ عمرانی اعلان بھی کسی خفیہ مذاکرات اور اتفاق کاہی نتیجہ ہے، لیکن میں نہیں مانتا کہ عمران خان نے ’جہاد‘ کو ڈیل کر کے ختم کیا ہو گا، اور ڈیل بھی ان سے جو امریکا کے پٹھو ہیں؟ قائد انقلاب سے اس کی توقع نہیں ہے مگر ایک خیال غلط تنگ کر رہا ہے کہ کہیں جہاد کا نام بھی محض اسلامی ٹچ اور امریکی سازش کا الزام صرف قوم پرستی کا ٹچ کا تو نہیں تھا!
بہرحال وجہ جو کچھ بھی تھی اس اعلان کے بعد ’انقلاب آن ہولڈ‘ ہو گیا۔ دلچسپ حالت اس صورتحال میں ان جذباتی حامیوں کی تھی جو اعلان کے بعد یک دم میکاویلی مکتبہ فکر کے طالب علم بن کر ہمیں سمجھانے لگے کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور سیاسی داؤ زمینی حقائق کے مطابق کھیلا جاتا ہے حالانکہ یہی لوگ کل تک خمینی سے کم درجہ کے انقلاب پر راضی نہیں تھے اور حکومت گرانے کے ’بڑے‘ فائدے کے خاطر خون بہانے اور مرنے مرانے ایسی ’چھوٹی‘ قربانیوں کے حق میں تاویلیں دے رہے تھے۔
ہمارا خیال تھا کہ انقلاب آن ہولڈ ہونے کے بعد فریقین کچھ ہوش کے ناخن لیں گے اور دگرگوں ہوتی معاشی صورتحال پر توجہ دی جائی گی مگر حکومت نے ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ پٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے اعلان کی اگلی صبح عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے پر مشاورت کی۔ اس بے حسی کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جس تجربہ کار ٹیم کے متعلق ہمیں بتایا جاتا تھا اس کو معاشی حالات ٹھیک کرنے کا نہیں بلکہ خراب معاشی حالات پر صلواتیں سننے کا خوب تجربہ ہے جس کی وجہ سے وہ عوامی رد عمل سے مکمل لا تعلق ہوچکے ہیں۔

