پنجاب میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور پولیس کا کردار

ہندوستان میں مغل دور میں اورنگ زیب عالمگیر کی وفات تک امن و امان باقی رہا درمیان میں شیر شاہ سوری مختصر عرصے کے لئے بادشاہ بنے تو انہوں نے لوگوں کی محفوظ نقل و حرکت پر خصوصی توجہ دی۔ کلکتہ سے پشاور تک بنی جرنیلی سڑک پر سفر بہت محفوظ تھا اس دور میں راہزنی اور ڈکیتی پر سخت ترین سزائیں دی جاتی رہیں۔ جرنیلی سڑک کے ساتھ ساتھ ڈاکووں کی لاشیں لٹکا دی جاتی تھیں۔ اس لئے ڈاکووں کو ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ وارداتیں ڈالیں اس طرح کاروبار زندگی بھی رواں رہا اور ہندوستان اس وقت دنیا کا ایک امیر ترین خطوں میں سے ایک تھا۔
مگر اٹھارہویں صدی عیسوی کے ہندوستان میں جب کمزور اور نا اہل حکمران تخت پر براجمان ہوئے ہر طرف طوائف الملوکی پھیل گئی۔ مرکزی حکومت کا کنٹرول ختم ہو گیا۔ ہر جگہ جس نے زور پکڑا چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا ڈالیں۔ ڈاکووں اور ٹھگوں کے گینگ دندناتے پھرتے تھے۔ گاؤں کے گاؤں ڈکیتی کی زد میں آ جاتے کوئی شاہراہ محفوظ نہیں تھی۔ اس لئے لوگوں نے کاروبار کرنے اور سونا جمع کرنے میں دلچسپی بھی چھوڑ دی۔ کاروبار کم ہونے سے ملک بھر میں غربت اور بدامنی پھیل گئی اور اس کے بعد انگریزوں نے آ کر تمام ہندوستان پر قبضہ کیا اور ان ڈاکووں اور ٹھگوں کو سختی سے کچل کر امن و امان قائم کیا۔ اور لوگوں کو ایسا ماحول مہیا کیا کہ وہ سکون سے اور آزادی سے اپنا کاروبار کریں اور اس کے ساتھ شہری دوسری تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اس طرح تاریخ گواہ ہے جب اقتدار کسی نا اہل اور کرپٹ ٹولے کو ملا عوام پر افتاد آن پڑی۔
ہم اس وقت اگر اخبارات پر نظر دوڑائیں تو بڑے بڑے شہروں میں جرائم کی بے شمار خبریں سامنے آجاتی ہیں۔ ان سب خبروں میں سے جو زیادہ خوفزدہ کر دینے والی خبریں وہ ہوتی ہیں جن میں ڈاکووں کے مسلح گینگ لوگوں کے گھروں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ اہل خانہ کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیتے ہیں بعض اوقات تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ قیمتی سامان جو زندگی بھر کی پونجی ہوتی ہے اس کو لوٹ لیا جاتا۔ چھوٹے بچے جب ایسے منظر دیکھتے ہیں تو ساری عمر کے لئے ٹراما کا شکار رہتے ہیں تو بعض کیسز میں یہ شرمناک خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ خواتین کی عزت پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے اور مردوں کو مزاحمت پر قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ اس طرح کے ناقابل معافی جرائم کو مکمل طور پر روکنا شاید ممکن نہ ہو لیکن اب جس تواتر جس آسانی اور جس تعداد میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں وہ ہمارے حکمرانوں کے لئے اور پولیس کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ واقعات کا تسلسل تھمنے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں کے پوش ایریاز میں ایسی سنگین وارداتیں عام ہو چکی ہیں۔ پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں کا کاروبار چمک رہا ہے مگر ان پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں کے اہلکار بعض اوقات ملوث نکلتے ہیں۔
لوگوں کا پولیس پر اعتبار اٹھ جانے کی ایک مثال یہ ہے کہ گلی گلی میں آہنی گیٹ لگے ہوئے ہیں گھروں والوں نے خود ہی چوکیدار رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس والے اپنا رونا روتے ہیں کہ ہم اگر کوئی مشکوک ڈاکو پکڑ بھی لیں تو وکلا عدالتوں کے ذریعے ان کو چھڑوا لیتے ہیں۔ مکمل تفتیش کے بغیر ان کو گرفتار کر لیں تو عدالتیں ٹیکنیکل بنیادوں پر ضمانتیں دے دیتی ہیں کہ پولیس کی طرف سے شناخت پریڈ درست نہ ہے یا ملزم کا حلیہ ایف آئی آر میں دیے گئے حلیہ سے نہیں ملتا۔
کئی ایسے ملزموں کو ضمانت دی گئی جن پر دس دس ڈکیتی کے کیسز تھے۔ معاشرے میں بے حسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اتنے سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کی وکالت پر دس دس وکیل پیش ہو جاتے ہیں کیا بار کونسلیں اس بات پر متفق نہیں ہو سکتیں کہ اس طرح کے کیسز جن میں ڈاکو لوگوں کی چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھس جاتے ہیں ان کیسز کی وکالت نہیں کریں گے۔ کیا یہی ڈاکو کل کو رہا ہو کر کسی وکیل یا جج کے گھر کی پرائیویسی پامال نہیں کریں گے۔
پولیس اس وقت ڈاکووں کے مقابلے میں بالکل لاچار نظر آتی ہے اس کی وجہ ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں ہو پایا۔ جیو فینسنگ، فنگر پرنٹ، پام پرنٹ، سی سی ٹی وی کی مدد سے وارداتوں کو ٹریس کیا جا سکتا ہے مگر حالیہ دنوں میں ڈاکووں نے سرجیکل ماسک اور ہینڈ گلوز کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کے بعد ان کو پکڑنا مشکل ترین ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس لیب کو پولیس مجرموں کا مکمل ڈیٹا نہیں دے رہی۔ جس سے ملزموں کی شناخت کرنا ممکن نہیں۔
اس طرح جیو فینسنگ کرنے کا عمل اتنا پیچیدہ ہے کہ سوائے بہت بڑی سفارش کے کسی کیس میں جیو فینسنگ کروانا مشکل ہے۔ اس وقت پوش ترین علاقوں میں اور شاہراؤں پر ڈاکووں کے گینگ دندناتے پھر رہے ہیں مگر پولیس افسران کو اپنی تعیناتی سے محروم ہونے کا یا کسی جزا سزا کا کوئی خوف نہیں کیونکہ پوسٹنگ ٹرانسفر کے لئے آپ کے مضبوط کنکشنز ہیں تو کوئی آپ کو ہلا نہیں سکتا۔ سیاسی آقاؤں کو خوش رکھ سکتے ہیں تو مسلح ڈکیتیوں کی ٹینشن بے شک نہ لیں۔
فیصل آباد میں حالیہ دنوں میں موٹر سائیکل سوار ڈاکو لاہور میں کاروں پر سوار ڈاکو اس طرح لوٹ مار کر رہے ہیں جیسے ہم اٹھارہویں صدی کے محمد شاہ رنگیلا یا مرہٹوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات تو آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ آپ سخت درویشی کی زندگی گزاریں، کیونکہ آپ نے جیسے ہی کوئی مال بنایا تو آپ کی کنپٹی پر پستول رکھ دیا جائے گا اگرچہ آپ اپنے گھر کے اندر تالے لگا کر بیٹھے ہوں۔ اگر ڈکیتیوں کے ذریعے مالدار بننا اتنا آسان ہوا اور پکڑے جانے کا کوئی خوف نہ رہا۔ اور افسر ان سے یہ باز پرس نہ کی گئی کہ آپ کے علاقے میں لوگوں کو کیوں لوٹا جا رہا ہے تو آنے والے وقتوں میں مکمل ڈاکو راج ہو گا۔

