برصغیر کے مسلمانوں کا یرغمال مذہبی رجحان


ہندوستان میں 1857 کے بعد مسلمانوں کی (علامتی ہی سہی) حکومت کے خاتمے اور انگریز کے قابض ہونے کے بعد مسلمانوں کا اعتماد اور حوصلہ شدید مجروح ہوا ان کا احساس حکومت اور احساس ملکیت جاتا رہا اور جس برتے پر وہ پراعتماد طور پر مملکت کے امور میں شریک کار تھے وہ جاتا رہا اور انہوں نے نفسیاتی طور پر ہتھیار ڈال دیے، عوام تو سرے سے ڈھے گئے

سیاسی قیادت یا کوئی اجتماعی تنظیم سازی تھی ہی نہیں، لے دے کر مذہبی علماء ہی قائدین کے طور پر بچے تھے سو ان علماء نے بھی اپنے مراکز یعنی مسلم آبادیوں میں قائم مساجد کو بھی فعال، کشادہ اور معاشرتی مرکز کی حیثیت سے قائم رکھنے کے بجائے ایک سمٹتے سمٹاتے اور دفاعی مرکز کی حیثیت دے کر اس میں محصور ہونا مناسب سمجھا جس کی وجہ سے مسلمان نا صرف مزید خوفزدہ نفسیات کا شکار کر خود تک محدود ہوتے گئے بلکہ باقی سب طبقات کے بارے میں بھی شدید بدگمانی ہو کر ہندوستان کی اجتماعی معاشرت سے کٹتے چلے گئے

ان کو لگا کہ ان حالات میں ان کا مذہبی وجود اور شناخت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو رہی ہیں اس لئے ان مفروضی خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے انہی حالات کے تناظر میں اس ہی دور میں مدرسہ دیوبند اور اس سے وابستہ اصلاحی تحریک بھی سامنے آئی اور احمد رضا خان صاحب بریلوی کے خیالات بھی منصہ شہود پر سامنے آئے درحقیقت یہ دونوں طبقہ فکر مسلمانوں کو سیاسی طور پر منظم کرنے اور ان کو ان کے وجود اور اہمیت و طاقت کا احساس دلا کر ان کا معاشرتی مقام دوبارہ انہیں واپس دلانے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ ان کی اپیل اور طریقہ کار مذہبی تھا اس لئے انہوں نے مساجد و مدرسوں و خانقاہوں کے ذریعے یہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس میں یہ دونوں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے

دونوں کا طریقہ کار البتہ الگ رہا ایک طبقہ فکر نے مقامیت کو اپناتے ہوئے اسلام کے تحفظ و ترویج کے لئے مسجد کے ساتھ خانقاہ کو اپنا مرکز بنانے کے طریقے کو اختیار کیا جبکہ دوسرے مکتب فکر کا ہدف واضح اور خالص اسلام کا تحفظ اور اشاعت بنا اور انہوں نے مسجد اور مدرسے کا طریقہ کار اپنایا

لیکن دونوں جگہ مسجد مشترک تھی اور کیونکہ باقی معاشرتی معاملات سے زیادہ اولین ترجیح مذہبی تحفظ ٹھہرا تھا تو اس رویے نے اول تو مسجد تک مسلمانوں کو سمیٹا اور پھر خود مسجد کو غیرمسلموں سے بھی سمیٹ لیا، جس کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ان کی مسجد ان کا فلاحی اور معاشرتی مرکز بننے کے بجائے محض عبادت اور اذکار تک محدود رہ گئی جو آہستہ آہستہ مسلمانوں کو باقی سماج سے کاٹتے ہوئے محفوظ تو شاید بنا سکی لیکن باقی سماج کے لئے اجنبی بھی بنا گئی

اس بیانئے کو تقویت اس امر سے بھی ملتی ہے کہ ان دونوں تحریکوں کا آغاز یو پی سے ہوا جہاں کے مسلمانوں نے مسلم اقتدار میں بہت اچھا وقت دیکھا تھا اور انگریزوں کے آنے کے بعد سب سے زیادہ سیاسی اور معاشی نقصان بھی انہیں کو پہنچا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ گو کہ یو پی میں مسلمانوں کی تعداد باقی ہندوستان میں مسلمانوں کے تناسب سے کافی بہتر تھی لیکن سب سے زیادہ متشدد اور جارح اکثریت کا سامنا بھی انہی کو رہا اور اسی دباؤ کے نتیجے میں ان کو یہ ردعمل دینا ناگزیر بھی تھا

پاکستان بننے کے بعد شاید بھارت کے مسلمانوں کا احساس عدم تحفظ برقرار ہے اور وہ اسی ڈگر پر چلتے رہنا چاہیں لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو اس احساس عدم تحفظ اور بطور مسلمان کسی محاصرے میں ہونے کی کیفیت سے باہر نکلنے کی اشد ضرورت ہے، یہ سمجھنا اور سمجھانا ہو گا کہ یہ دونوں ملک آزاد ہیں اور یہاں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا معمول کی زندگی کی طرف واپس آیا جائے اور معاشرت اور مذہب میں مناسب توازن قائم کیا جائے، مساجد کو کمیونٹی سینٹر کے درجے پر لایا جائے اور مدارس کے نصاب میں عصری علوم کو بھی برابری کا درجہ دے کر وہاں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے لاکھوں لوگوں کو بھی معاشرے کا فعال اور کار آمد حصہ بنانے پر توجہ دی جائے

آزاد پاکستان کے آزاد مسلمانوں میں اب اس کی ضرورت پہلے سے بہت زیادہ ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “برصغیر کے مسلمانوں کا یرغمال مذہبی رجحان

  • 15/06/2022 at 3:25 شام
    Permalink

    بہت خوبصورت و پُر معنی تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.