کتابیں خریدنا کیوں ضروری ہے؟


اگر چہ مجھ میں کتاب پڑھنے اور سمجھنے کی وہ اہلیت و صلاحیت موجود نہیں جو اہل علم اور اہل ذوق لوگوں میں پائی جاتی ہے لیکن کتاب خریدنے کی جو لت لگی ہے وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ آج سے کوئی دس سال پہلے جب میں دوسرے سمیسٹر میں تھا تو کتاب پڑھنے اور خریدنے سے متعلق اپنے لئے کچھ اصول بنائے تھے جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں :

1۔ میں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اگر کوئی پروفیسر کسی کتاب کا ایک چیپٹر کاپی کرنے کا کہے تو پوری کتاب خرید لوں گا۔

2۔ اگر پروفیسر کسی کتاب کا ریفرنس دے تو بھی اس میں ضرور کچھ اہم ہو گا اس لئے اسے اپنی لائبریری کا حصہ ضرور بناؤں گا۔

3۔ کبھی بھی پائریٹڈ کتاب نہیں خریدوں گا چاہے وہ کتاب کتنی بھی مہنگی کیوں نہ ہو۔
4۔ چاہے دس کتابیں خریدوں اور ایک ہی پڑھ سکوں، تب بھی خریدنے کے عمل کو ختم نہیں کروں گا۔

5۔ جس طرح لوگ پینٹنگ، بندوق، پالتو جانور، وغیرہ رکھنے کے شوقین ہوتے ہیں، میں بھی مرتے دم تک کتابیں جمع کرنے کے شوق کو جاری رکھوں گا۔ اس لئے یونیورسٹی کے زمانے میں ایک وقت کے کھانے کے پیسے بچا کر ان سے کتابیں خریدتا تھا جو کہ آج بھی جاری ہے۔

ان اصولوں کو بنانے کی وجوہات درج ذیل تھیں۔

1۔ اپنی تعلیمی یا معلوماتی ضرورت کی کسی چیز کو اپنی لائبریری کی کتابوں میں سے نکال کر پڑھنے اور اس میں سے نوٹس بنانے میں جو مزہ ہے وہ لنڈے میں آپ کی مرضی اور سائز کی کوئی چیز ملنے میں بھی نہیں ملتا ہے۔ (لنڈے کی مثال جگہ کوئی اور حسین و جمیل مثال دینا چاہتا تھا لیکن اسلامی ریاست کا باشندہ ہونے کی وجہ سے اجتناب کیا)

2۔ جب کوئی کتاب لکھتا ہے تو اس میں اس کی دن رات کی محنت ہوتی ہے۔ وہ اپنا خون پسینہ بہا کر کتاب لکھتا ہے۔ اس کی کتاب کو کاپی کرنا، پی ڈی ایف میں پڑھنا، اس کی پائریٹڈ کاپی خریدنا یا اس سے مانگ کر اسے تنگ کرنا نہ صرف اس کے ساتھ ظلم ہے بلکہ میرے نزدیک مردار کھانے سے بھی بد تر ہے۔

3۔ اپنے بہن بھائیوں اور آنے والی نسلوں کے لئے کتابوں سے بڑھ کر نہ کوئی تحفہ ہو سکتا ہے نہ ہی جائیداد۔

4۔ کسی مصنف کی کوئی کتاب خریدنے سے اس کی مالی معاونت بھی ہوتی ہے اور اس میں مزید اچھی کتابیں لکھنے کا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس نے اپنا سرمایہ لگا کر اور دن رات کی نیندیں حرام کر کے وہ کتاب لکھی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی حوصلہ افزائی کے لئے کتاب خریدنا ایک نیک عمل ہے۔

5۔ ایک جگہ یہ پڑھا تھا کہ آپ کے ارد گرد موجود کتابیں آپ کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ آپ نے کتنا کم پڑھا ہے۔ یہ سوچ آپ کو آپ کی کم علمی اور جہالت کا احساس دلاتا رہے گا۔ اس سے مزید پڑھنے کی خواہش اور تمنا پیدا ہوگی۔

خلاصہ کلام:

کتابیں پڑھنے سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ راحت پانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہیں۔ یہ راحت دنیا میں کہیں اور مل ہی نہیں سکتی۔ اس لئے چاہے آپ سال میں ایک ہی کتاب پڑھ سکیں لیکن ہر مہینے ایک کتاب ضرور خریدیں۔ یہ آپ کے لئے بھی اور آپ کی آنے والی نسلوں کے لئے بھی زبردست تحفہ ہوں گی۔

Facebook Comments HS