نئے امریکی سفیر سے توقعات اور چیلنجز


چار سال کی تاخیر کے بعد بالآخر امریکا نے اپنا سفیر اسلام آباد بھیج دیا ہے۔ 2018 سے سفیر کا عہدہ خالی تھا اور دوسرے درجے کے سفارت کار ان دو اہم ملکوں کے درمیان تعلقات کو دیکھ رہے تھے۔

ڈونلڈ بلوم، نئے امریکی سفیر، نے 23 مئی کو اپنا عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے 27 جولائی 2015 کو یروشلم میں امریکی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ وہ 2013 سے 2015 تک امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جزیرہ نما عرب کے امور کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ 2012 سے 2013 تک کابل میں امریکی سفارتخانے میں پولیٹیکل کونسلر رہے۔ مشرق وسطیٰ کے پرتشدد دارالحکومتوں میں خدمات انجام دینے کے بعد ، وہ ایران، عراق، اسرائیل، افغانستان وغیرہ جیسے بڑے تنازعات کا خاصہ علم رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ معلومات باضابطہ طور پر عام کر دی گئی ہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر، یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل میں بلوم جو نظر آتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

اب ہم ان کی تقرری کے پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔ یہ دونوں واشنگٹن میں میڈیا کے سامنے بیٹھ کے مسکراتے اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا کرتے تھے۔

لیکن ٹرمپ نے اسلام آباد کے بجائے نئی دہلی کا دورہ کیا تھا جہاں وزیر اعظم مودی بانسری بجانے والوں، ڈھول بجانے والوں اور گلوکاروں کی فوج کے ساتھ ان کے استقبال میں کھڑا تھا۔ وہ انڈیا میں تین دن تک رہنے والے غالباً پہلے امریکی صدر تھے۔ امریکہ میں عمران خان کے پاکستان نژاد حامی اور مودی کے انڈیا نژاد حامیوں نے ٹرمپ کی الیکشن میں جیت کے لئے مہم بھی چلائی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اس سارے عرصے میں کبھی اپنے سفیر کو اسلام آباد نہیں بھیجا تھا۔

یہ اور بہت سے دوسرے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے اس عرصے میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سفارتی اعتبار سے اہمیت نہیں دی نہیں دی۔

ہمارے سفارت کاری کے مبینہ ماہرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہندوستان پر ہی زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں اور پاکستان کے دوسرے پڑوسیوں اور سمندر کو نظر انداز کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی عمران خان کے ساتھ گرمجوشی کا مقصد ایک دہائی سے زیادہ کی جنگ کے بعد افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے اپنے مشن کو مکمل کرنا تھا۔ ان فوجوں نے کابل کو پتھر کے زمانے میں ڈھکیل دیا تھا۔ پاکستان نے بھی اس مشن میں حصہ لیا کیونکہ حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کی حکومتیں کھل کر پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں تھیں۔

لیکن پاکستان اور امریکہ نے اپنے آپ کو افغان طالبان تک محدود رکھا۔ حالانکہ وہ افغانستان سے باہر اپنے سفارتی تعلقات کو بڑھا کر ایک بہتر معاہدہ کر سکتے تھے۔

بلوم کی تقرری کے تین دن بعد ، امریکی سفارت خانے نے پاکستانی اور امریکی خارجہ پالیسی سازوں کے درمیان قریبی تعاون کے 75 سال کا جشن منایا۔ انہوں نے اس جشن کو منانے کے لئے ایک تصویر شائع کی۔ یہ تصویر 5 فروری 1975 کی ہے۔ اس میں سابق امریکی صدر جیرالڈ آر فورڈ، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، ریاستہائے متحدہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر، اور دیگر افراد کو ایک آتش دان کے گرد ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔

ستر کی دہائی میں پاکستان میں امریکہ مخالف لہر بہت منہ زور اور بلند تھی۔ بھٹو عوامی اجتماعات میں امریکہ پر تنقید کرتے تھے اور موجودہ روس اور چین کے ساتھ اتحاد کر رہے تھے۔ وہ جتنا زیادہ امریکہ مخالف ہوتے گئے اتنا ہی مقبول ہوئے۔

امریکہ کی نفرت نے انہیں اتنی مقبولیت بخشی کہ وہ جنرل ضیاءالحق کی طرف سے غافل ہو گئے۔ ضیا الحق نے خود کو بھٹو سے بھی بڑا اور سچا مسلم امہ کا لیڈر ظاہر کیا۔ اور پھر بھٹو پہ اسی کے بیانیے کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ بھٹو نے اپنے آخری ایام میں مدد کے لیے مغربی سفارت کاروں اور امریکہ کے نوکر شاہ ایران کو پیغامات بھیجے گئے لیکن سب بے بس تھے۔

ضیاء الحق جو ایران کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہ ایران کو میزائل سپلائی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ یہ میزائل طالبان کی طرف سے کابل میں روسی افواج کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تھے۔ دعوتوں کے باوجود، ضیاء الحق ایران عراق جنگ کے دوران ایران کے خلاف اتحادی افواج میں شامل نہیں ہوئے۔

پاکستان کے امریکہ کے تعلقات میں افغانستان کا کردار بہت اہم ہے۔ لیکن اب وہ پرانی بات نہیں رہی۔

افغانستان میں اب کچھ نئے مہمان آئے ہیں۔ وہاں اب یورپی یونین ہے جو طالبان کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اسی طرح، چین ہے جو جنگ کے وقت آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک کی طرف سے نہتے شہریوں پر مظالم کو اجاگر کرتا ہے۔

پورا علاقائی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں مقبول سیاست دانوں اور انتہا پسندوں کی طرف سے امریکہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا رجحان بلا روک ٹوک اور بلا اشتعال جاری ہے۔ امریکہ کی مخالفت سیاست دانوں کے لیے مقبولیت کا ٹکٹ بن گیا ہے۔

بلوم کے لیے ایسے حالات کوئی نئی بات نہیں کیونکہ جن ممالک میں انہوں نے خدمات انجام دی ہیں وہ بھی اسی پاپولزم کا شکار ہیں۔ لیکن وہ کبھی پاکستان جیسے بڑے ملک میں سفارتکار نہیں رہے۔ یہاں، انہیں کئی چیزوں کو توازن میں رکھنا ہو گا۔

امریکی اور پاکستانی عوام اپنے وطنوں میں امن کے قیام میں دونوں ممالک کی کامیابی کی یکساں امید رکھتے ہیں۔ دہشت گردوں کے لیے فنڈز کا بہاؤ اتنا ہی مہلک ہے جتنا دہشت گردوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ اسی طرح معلومات کے یک طرفہ بہاؤ کے پاکستانی معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سفیر بلوم دونوں ممالک میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ان امور کو زیر غور رکھیں گے۔

بلوم کو سب سے بڑھ کے امریکہ مخالف نفرت کے سیاسی و سماجی اسباب کی بیج کنی کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت قائم ہو سکے۔ نرگسیت یہاں کے عوام کے لئے زہر قاتل ہے۔

Facebook Comments HS