دفاعی بجٹ میں کمی اور پرویز مشرف کی واپسی کا مقدمہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ملک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کے بارے میں مباحث کو مسترد کیا ہے۔ ان کہنا ہے کہ اگر مہنگائی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کو پیش نظر رکھا جائے تو درحقیقت فوجی مصارف میں کمی واقع ہوئی ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد ہے جو گزشتہ سال 2.8 فیصد تھا۔ اس دلیل سے پاک فوج کے ترجمان نے ملک بھر میں دفاعی بجٹ میں ساڑھے گیارہ فیصد اضافے کی خبروں اور ان پر سامنے آنے والے مباحث کو بے بنیاد بتانے کی کوشش کی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ اعداد و شمار کے مطابق جو حقائق پیش کر رہے ہیں، وہ بالکل درست ہوں لیکن قومی اخراجات کا تعین کرتے ہوئے مجموعی قومی پیداوار کا حوالہ نامناسب ہے۔ دفاعی اخراجات یا دیگر شعبوں پر ہونے والے مصارف پر غور کرتے ہوئے یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ کہ حکومت قومی وسائل سے کتنی رقم جمع کرتی ہے اور پھر انہیں کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں حقائق کا جائزہ لیا جائے تو کوئی خوشگوار صورت حال سامنے نہیں آتی۔ نئے مالی سال کے قومی بجٹ میں محاصل سے جمع ہونے والے رقم کا تخمینہ 9004 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں سے دفاعی مصارف کے لئے 1530 ارب روپے مختص ہوں گے، قرضوں کی ادائیگی پر 3950 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں پر 800 ارب روپے صرف کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتنی کم آمدنی والا کوئی ملک کیوں کر اتنی بھاری رقم دفاع جیسے غیر پیداواری شعبہ پر صرف کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ یا ملک میں کیوں ایسی معاشی پالیسیاں ترتیب دی گئیں کہ اس پر قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ حکومتی آمدنی کا تقریباً نصف قرضوں پر سود و اقساط کی ادائیگی کے لئے صرف کرنا پڑتا ہے اور دفاع سمیت متعدد دیگر اہم اخراجات پورے کرنے کے لئے آئی ایم ایف جیسے اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
تاہم ملک کے ایک ٹیلی ویژن شو میں پاک فوج کے ترجمان کے تفصیلی انٹرویو کا اہتمام صرف ایک اس معاملہ پر فوج کا موقف بیان کرنے کے لئے نہیں کیا گیا تھا تاکہ قوم کو یہ باور کروایا جا سکے کہ فوج تو پہلے سے کہیں زیادہ ’کفایت شعاری‘ سے کام لے رہی ہے، اس لئے لوگ اس حوالے سے ’گمراہ کن‘ مباحث سے متاثر نہ ہوں۔ اگر محض حکومت کے پیش کردہ ایسے بجٹ پر فوج کو اپنی وضاحت دینا ہی اہم ترین موضوع ہو تو یہ ایک قومی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ یہ بجٹ بظاہر ملک کی ایک آئینی طور سے منتخب حکومت نے تیار کیا ہے اور منتخب قومی اسمبلی اس پر ’غور و خوض‘ کے بعد اسے منظور کرے گی۔ وزیر خزانہ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں بجٹ تجاویز میں کچھ رد و بدل سامنے آ سکتا ہے۔ لہذا یہ سوچنا یا سمجھنا نامناسب ہو گا کہ پاک فوج ملک کی خود مختار پارلیمنٹ اور منتخب حکومت کے فیصلوں کے ’دفاع یا وضاحت‘ کا عزم لے کر میدان میں اتری ہے۔ فوج کے موجودہ ترجمان ہی ایک سے زائد بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ پاک فوج کا ملکی سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سیاست دان یا میڈیا فوج کو سیاسی مباحث میں دھکیلنے کی کوشش نہ کریں۔ اس لئے اس بیان کے بارے میں حسن ظن کا مظاہرہ کرتے ہوئے، یہ خواہش کرنی چاہیے کہ فوج واقعی ملکی سیاست سے خود کو مکمل طور سے علیحدہ کر لے اور سیاست دان اپنے فیصلوں کے لئے غیر منتخب اداروں کو ’جواب دہ‘ ہونے کی بجائے براہ راست عوام کے سامنے اپنا اعمال نامہ پیش کریں تاکہ ملک میں جمہوری عمل کا دائرہ مکمل ہو سکے۔
یہ خواہش کرنے کے ساتھ ہی البتہ یہ صورت حال بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ ’میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا‘ کے مصداق، فوج تو اعلان کر رہی ہے کہ اس نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے لیکن نہ تو سیاست دان فوج کو ملکی سیاسی معاملات میں ملوث کرنے سے باز آتے ہیں اور نہ ہی اس امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑا جاتا ہے کہ فوجی اعانت ہی کسی سیاسی پارٹی کی کھیون ہار بن سکتی ہے۔ لہذا سب چاہتے ہیں کہ سلسلہ جنبانی جاری رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج پر کڑی تنقید کرنے والے سیاست دان بھی اگلے ہی سانس میں خوشامدانہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے فوج کو قوم کا محسن قرار دینے میں زمین آسمان کے قلابے بھی ملاتے ہیں۔ عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے ’نیوٹرل‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے فوج کو مطعون کرنے، آرمی چیف کو براہ راست ملکی سیاست میں تبدیلی کا سبب بننے اور اپنے ساتھیوں کے ذریعے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ فوج اگر اپوزیشن کا ساتھ نہ دیتی تو اسے کبھی بھی قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ تاہم اگلے ہی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج ایک ہی صورت میں اپنی غلطی کی اصلاح کر سکتی ہے کہ وہ ’غیر جانبداری‘ کا فریب چھوڑ دے اور عمران خان کے ’جہاد‘ کا ساتھ دے کر انہیں ایک بار پھر ملک کا با اختیار لیڈر بننے میں کمک فراہم کرے۔
حکومت میں شامل اتحادی پارٹیاں اور وزیر اعظم شہباز شریف یوں تو فوج کی غیر جانبداری کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی خود مختاری کا اعلان کرتے ہیں اور یہ دلیل منوانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہی وجہ تھی کہ قومی اسمبلی آئینی و جمہوری طریقہ کے تحت ایک وزیر اعظم کو فارغ کر کے، نیا وزیر اعظم چننے میں کامیاب ہو گئی۔ اور ملکی انتظام میں کوئی ’خلل‘ واقع نہیں ہوا۔ اسے اتحادی حکومت کے ترجمان ’ووٹ کو عزت دو‘ نامی سلوگن کی کامیابی قرار دینے کی بالواسطہ کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی فوج سے یہ اپیل بھی کی جاتی ہے حکومت کے ’ہاتھ نہ باندھے جائیں‘ تاکہ وہ عمران خان کے سیاسی حملوں کا جواب دے سکے۔ ملک میں نئے انتخابات کے لئے اوقات کار کے تعین کے لئے بھی فوج ہی کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی تصویر کا یہ پہلو تمام اہل پاکستان کے لئے دلچسپی کا سبب ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف فوج سے یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ وہ تین چار ماہ میں انتخابات منعقد کروا دے۔ جبکہ شہباز شریف اپنی مخصوص لجاجت سے پندرہ سے اٹھارہ ماہ کی مدت مانگ رہے ہیں تاکہ انہوں نے عمران خان کو ہٹانے کا جو ’بوجھ ڈھویا‘ ہے، اس کی کچھ اجرت وصول ہو سکے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ عوام کو حالیہ بجٹ سے جو تکلیف ہوئی ہے، اس سے موجودہ حکمران جماعتوں کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے لہذا اسے اگلے بجٹ تک کام کرنے دیا جائے تاکہ وہ کوئی مناسب معاشی فیصلے کر کے ناراض ووٹر کو خوش کرنے کا اہتمام کرسکے۔
اس سارے منظرنامہ میں ملکی فوج کو ہی مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ قیاس کرلینا درست نہیں ہو گا کہ فوج کو اس صورت حال کا اندازہ نہیں ہے۔ تاہم اس نے ابھی تک اپنے پتے ظاہر نہیں کیے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موجودہ آرمی چیف کے عہدہ کی مدت نومبر میں ختم ہو رہی ہے۔ انہیں دیکھنا ہو گا کہ وہ کس حد تک نئے آرمی چیف کی تقرری میں شہباز شریف کے فیصلہ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہے ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی تعاون کا معاہدہ طے نہیں ہوسکا۔ اس کے بغیر ملکی سیاست کی گاڑی بہر صورت ہچکولے کھاتی رہے گی کیوں کہ معاشی معاملات بے یقینی کا شکار رہیں گے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے انٹرویو میں بالواسطہ طور سے ان امور پر اظہار خیال کیا ہے۔ یہ انٹرویو اس تاثر کو دستاویز کرتا ہے کہ پاکستانی فوج ہی ملکی سیاست میں سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے اور وہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا پورا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے غیر جانبداری کے اعلان سے پیدا ہونے والی دلچسپ صورت حال کو ’تضاد بیانی‘ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن اگر خوش گمانی سے کام لیا جائے تو اسے موسیقی میں استعمال ہونے والی انگریزی ترکیب ’فیوژن‘ یا امتزاج بھی کہا جاسکتا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ایک اہم قومی ادارے کی حیثیت سے وہ قومی معاملات طے کروانے میں اعانت فراہم کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے ایک بار پھر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے اس بیان کو مسترد کیا کہ ’قومی سلامتی میٹنگ میں کسی نے نہیں کہا تھا کہ سازش نہیں ہوئی‘ ۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے شرکا کو بریف کیا گیا کہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ واضح اور مفصل انداز میں شرکا کو بتایا گیا کہ کسی قسم کی کوئی سازش یا اس کے شواہد اور ثبوت نہیں ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ہماری ایجنسیاں 24 گھنٹے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے کام کر رہی ہیں۔
بیرونی سازش کے سیاسی نظریہ کو مسترد کرنے کے لئے عسکری قیادت کو قومی سیاست میں کسی ’اسٹیک‘ کے بغیر ایسی مستعدی دکھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان نے سی پیک کے حوالے سے فوج کی خدمات اور آرمی چیف کے حالیہ دورہ چین کو بھی اہم قرار دیا۔ حالانکہ سی پیک معاہدہ بھی کوئی دفاعی پیکٹ یا عسکری تعاون کا معاہدہ نہیں ہے بلکہ معاشی ترقی کا ایک منصوبہ ہے جس میں پاکستان چین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ سیکورٹی فراہم کرنے کے علاوہ بظاہر فوج کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انٹرویو میں سی پیک میں جنرل قمر باجوہ کی خدمات گنوانے کے ساتھ ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرنے کے لئے جنرل باجوہ کی اعلیٰ قیادت، منصوبہ بندی اور رہنمائی کو نمایاں طور سے پیش کیا گیا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کے بیان کی روشنی میں دیکھا جائے کہ اس وقت اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی امید کر رہا ہے تو اس کی وجہ سابقہ حکومت کے اقدامات نہیں ہیں بلکہ درپردہ جنرل باجوہ کی مستعد نگرانی اور تیار کردہ انتظامی ڈھانچہ کی وجہ سے پاکستان اس عالمی ادارے کی شرائط پوری کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے۔ ورنہ عام پاکستانی تو شاہ محمود قریشی کے زور دار بیانات کی وجہ سے اسی گمان میں مبتلا رہا تھا کہ اس ہوشمندانہ پالیسی کے پیچھے ان کے لیڈر عمران خان کا ’ویژن‘ کارفرما تھا۔
میجر جنرل بابر افتخار نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی شدید علالت کی وجہ سے ان کی ملک واپسی کے حوالے سے جس پریشانی، خواہش اور کوششوں کا ذکر کیا ہے، اسے اگر نواز شریف کے اس بیان کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو لطف دوبالا ہونے کے ساتھ تصویر بھی واضح ہو جائے گی: ’میری پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے‘ ۔
خود جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور سابق وزیر اعظم کی طرف سے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی آمر کے بارے میں اپنے ہی بھائی کی حکومت کو سہولت فراہم کرنے کا مشورہ کئی حوالوں سے یادگار ہے۔ یہ الفاظ ملکی سیاسی جمہوری جد و جہد میں نمایاں طور سے درج کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ آنے والے نسلوں کے لئے عبرت کا سامان فراہم ہوتا رہے۔


