لاش: قاتل اور وارث


نئے مالک نے آتے ہی شور ڈال دیا کہ گھر میں کوئی مر گیا ہے مگر کہاں مرا ہے اس کا اندازہ نہیں ہو پا رہا اور لاش کی تلاش جاری ہے۔ پوچھنے والوں نے پوچھا کہ حضور! پہلے مالک نے تو ہمیں اس بارے بالکل بھی مطلع نہیں کیا تھا تو آپ کو کیسے آتے ہی معلوم ہو گیا کہ گھر میں کہیں کوئی مر گیا ہے اور لاش ڈھونڈنے کا کام جاری ہے۔ لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور ادھر ادھر باتیں ہونے لگیں مگر کسی میں جرات نہ ہو سکی کہ مالک سے پوچھ ہی لے کہ لاش نہیں مل رہی تو آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔

مگر یہ لاش ایک جھوٹ تھا یا کہ سچ، کسی کو ابھی اس بارے مصدقہ معلومات نہیں تھیں۔ وقت گزرتا گیا اور تین، ساڑھے تین سال گزر گئے کہ گھر کا مالک بدل گیا اور پہلے بھی ایسے ہی مالک بدلتے رہے ہیں، حالاں کہ مالک کی گھر میں رہنے کی مدت پانچ سال ہوتی ہے۔ یہ مالک آیا تو اس نے مزید شور ڈال دیا کہ گھر میں لاش کی سڑاند بڑھ گئی ہے اور اس قدر زیادہ تعفن ہے کہ سانس لینا محال ہو رہا ہے۔ پوچھنے والوں نے پھر پوچھا کہ جناب!

آپ سے پہلے آنے والوں نے بھی لاش کا ذکر کیا تھا مگر لاش کو برآمد نہیں کر پائے تو کیا آپ ایسا کر سکیں گے؟ جب کہ آپ نے تو لاش کی تصدیق کے ساتھ ساتھ بدبو کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا کہ میرے سمیت سب کا نظام تنفس بھی متاثر ہو رہا ہے، تو حضور! لائیے، دکھائیے، پیش کیجیے کہاں ہے لاش؟ درون خانہ اس پر بات چیت شروع ہو گئی کہ لاش کو عوام میں پیش کرنا چاہیے کہ نہیں تو ہر طرف سے یہی جواب آیا کہ ایسی باتیں عوام میں پیش نہیں کی جاتی بلکہ انھیں تو ایسی باتوں سے نابلد رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں انتشار نہ پھیلے، وہ ہراس نہ ہوں یا فساد نہ پھیلے۔

ایک حامی نے تو یہ بھی کہ دیا کہ اگر ان کو اپنے برے اور کم تر حالات کا بتائیں گے کہ گھر میں سڑاند اٹھ رہی ہے، تعفن نے جینا حرام کر دیا ہے اور بدبو نے ہماری قوت شامہ چھین لی ہے تو عوام ہمیں مالک کیسے تسلیم کریں گے؟ اس بات پر تو سب کے کان کھڑے ہو گئے اور سب نے چپ سادھ لی اور بیان جاری کر دیا کہ لاش اور سڑانڈ کہاں ہیں ہمیں تلاش بسیار سے بھی کوئی نشان نہیں مل سکا لہٰذا ہم اس مفروضے کو مفروضہ سمجھتے ہوئے رد کرتے ہیں۔

بس! اس بیان کا جاری ہونا تھا کہ کسی نے اندر کی خبر ایک نووارد کو دے دی۔ نووارد کے ہاتھ تو جیسے ماچس لگ گئی اور اس نے جنگل کو جلانے کی ٹھان لی اور دعویٰ کر ڈالا کہ لاش موجود ہے اور اب گل سڑ کر بوسیدہ ہو رہی ہے اور ہمیں اس سے نا آشنا رکھا جا رہا ہے ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لاش ہے۔ لہٰذا لاش کو منظر عام پر لا کر اس کا حل ڈھونڈا جائے نہیں تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

بس! اس کے بعد عوام اس نووارد کے حامی ہو گئے اور لاش کو منظر عام پر لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور حالات بہت کشیدہ ہو گئے اس آنے والے مالک کو بھی چوتھے سال گھر کی راہ دیکھنی پڑی اور اس نووارد کو گھر کا مالک بنا دیا گیا۔ اس نے آتے ہی لاش کو نکال گھر کے باہر لا پھینکا۔ لاش کے گھر سے باہر آنے پر ہمسائیوں کو تشویش لاحق ہوئی اور جہاں سڑانڈ سے وہ متعفن ہوئے جاتے تھے انھوں نے پہلے اس بدبودار گھر کا اعتبار کرنا چھوڑ دیا اور پھر پہلے مالکوں کا بھی اعتماد جاتا رہا۔

اب ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ لاش تو موجود ہے مگر اس کا قاتل کون ہے؟ اور قتل ہونے والے کے وارث کون ہیں؟ بس پھر کیا تھا اس نئے مالک کو ان دو سوالوں کا سامنا تھا کہ یہ سڑاند زدہ لاش کس کی ہے اور اس کو کس نے مارا ہے؟ مگر ان دو سوالوں کے جواب تو اس نووارد کے پاس تھے ہی نہیں اور وہ کہ دیتا تھا کہ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ یہاں کوئی مر گیا ہے مگر کس نے مارا ہے اور کون مرا ہے؟ اس کے بارے مجھے کچھ معلوم نہ تھا اور نہ ہی مجھے اندازہ تھا کہ لاش کی برآمدگی کے بعد حالات اس نہج پہ پہنچ جائیں گے۔

اب عوام کی امیدیں اس نووارد سے بھی اٹھنے لگیں اور وہ اسے کام چور، غافل اور جلد باز کہنے لگے اور سب سے بڑھ کر اس کے پاس اچھی ٹیم کا فقدان تھا جو اسے لے ڈوبا کیوں کہ اس کا تو سارے کا سارا زور اپنے رفقائے کار پر تھا، جو ایک خوش فہمی کے سوا کچھ بھی ثابت نہ ہوسکا۔ خیر لاش اب برآمد ہو چکی تھی اور سارے معاشرے میں اس کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ گھر کے حالات پتلے سے پتلے ہوتے جا رہے تھے مگر کسی کے کان پہ جوں نہ رینگتی تھی۔

یہ نووارد مالک جو لگتا تھا کہ اپنے پانچ سال پورے کرے گا مگراس نے بھی تقریباً ساڑھے تین سال ہی اس گھر میں گزارے مگر لاش کو لا گھر کے باہر رکھ دیا اور جب بھی اس سے لاش کے بارے سوال کیا جاتا تو کہ دیتا کہ یہ تو پہلے مالکوں کا کیا دھرا ہے، میں نے تو سب کچھ واضح کر دیا ہے کیا یہ احسان کافی نہیں اور اب بچہ بچہ اس لاش اور گھر کے بارے اصل معلومات سے واقف ہے۔ یہ سنتے ہی کسی نے سوال بھی کیا تھا کہ حضور! آپ کی انھی باتوں نے عوام میں ایک امنگ اور امید پیدا کر دی تھی جو پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی جس سے عوام میں سخت رنج و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس کے بارے آپ کچھ فرما دیں! تو پھر گویا ہوئے :جناب! یہ سب کچھ پہلے مالکوں کا کیا دھرا ہے میں نے جب لاش کو ڈھونڈنے کا کام شروع کیا تو گھر میں کوئی راشن، پانی اور جمع پونجی نہیں تھی اور ہم اسی جمع پونجی کو اکٹھا کرنے میں مصروف رہے۔

اب ایک اور نیا مالک گھر کا سردار بن کے بیٹھا ہے اس سے بھی پوچھا گیا کہ جناب! کیا کوئی امید ہے کہ اس لاش کو ٹھکانے لگایا جا سکے گا تو انھوں نے پہلے تو لاش کو ماننے سے ہی انکار کر دیا تو جب عوام نے لاش کو دکھا دیا تو فرمانے لگے کہ یہ سب کچھ پچھلے مالک کی کارستانی ہے لہٰذا ہم مقدور بھر کوشش کریں گے کہ لاش کو ٹھکانے لگایا جا سکے اور گھرکی حالت بہتر کی جا سکے۔ فی الحال لاش کو گھر میں ہی پڑا رہنے دیا جائے تاکہ دھیان میں رہے۔

اب لاش کو دوبارہ گھر کے اندر رکھ دیا گیا اور مال جمع کرنے کی تیاری شروع ہو گئی۔ لاش اب بھی گل سڑ رہی ہے، سڑاند، تعفن اور بدبو سے برا حال ہے۔ کوئی غیر تو کیا اپنا بھی اس گھر کی طرف رخ نہیں کرتا۔ نہ ہی لاش کے قاتل ڈھونڈے جا رہے ہیں اور نہ ہی وارث۔ ہو سکتا ہے کہ کل کو کوئی دل جلا ان مالکوں کوہی قاتل کہ دے اور پھر یہ سب لوگ لاش کے وارث بننے لگیں گے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “لاش: قاتل اور وارث

  • 17/06/2022 at 11:47 صبح
    Permalink

    ❤️❤️❤️

  • 21/06/2022 at 9:46 شام
    Permalink

    Wah bhot khoob alamti Andaz👍❤️💜

Comments are closed.