آئی ایم ایف کی شرائط اور پاکستانی پریشانیاں


پاکستان میں سیاست آہستہ آہستہ صرف وہیں ہو رہی ہے جہاں اس کی ضرورت بچی ہے، اس کی دوسری جگہیں ہیں ٹی وی کے ڈبے اور سیاستدانوں کے ڈرائنگ رومز جہاں پاکستانی جماعتوں کے اجلاسوں کے اندر میں نے سنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ پر بات ہوتی ہے اور نشستن، گفتن، برخواستن کا شاندار نمونہ دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب میں ان 20 صوبائی حلقوں کی سیاست زور و شور سے جاری ہے، پیپلز پارٹی کے جناب آصف علی زرداری لاہور میں براجمان ہیں، ان کا خیال ہے کہ ان کی موجودگی میں 20 میں سے 6 حلقوں پر پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہو جائے گی تاکہ پنجاب کابینہ میں کم از کم دو اہم ترین وزراء کو لایا جا سکے۔

دوسری سیاست ان شہروں میں ہو رہی ہے جہاں سندھ کے بعض علاقوں میں مکانی انتخابات 26 جون کو ہونے کا امکان ہے ان بلدیاتی حلقوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کی کوئی اور سیاست نظر نہیں آ رہی۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس دو سیاسی محاذ ہیں۔ ایک مریم اورنگزیب کا سرکاری بیان اور دوسرا عمران خان کی پریس کانفرنسوں اور سیمینارز میں مسلسل خطاب۔ ان کے دیکھا دیکھی ہر پارٹی کے معتقدین دوسرے دن بیانات دیتے ہیں اور مل کر سیاست کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بہتر سیاست کرنا بھی ایک چیلنج ہے، لیکن اب سب سے بڑا مسئلہ ملک کا معاشی وجود ہے۔ خوراک کی کمی اور وسائل کی قلت ان تمام چیلنجز کی ماں ہے جن کو پورا کرنے کی قوت صرف عالمی مالیاتی اداروں کے پاس ہے۔ اس میں بھی شرط حائل ہے کہ اگر وہ اس پر متفق ہو جائیں۔

عالمی کساد بازاری، قحط، اور افراط زر کا قصہ کووڈ۔ 19 سے شروع ہو چکا تھا، ابھی دنیا پھر سے سنبھلنے جا رہی تھی تو روس نے بحالت مجبوری اپنی حفاظت کے لئے یوکرین کے ہاتھ پاؤں مروڑ دیے، جس کا ابتر نتیجہ یہ سامنے ٓیا ہے کہ دنیا میں یکایک 30 فیصد مہنگائی بڑھ چکی اور خوراک کی فراہمی عالمی مسئلہ بن کر سامنے ٓآئی۔ ہمارے ٹی وی ڈبے اس پر مصر ہیں کہ اس کا ذمہ دار عمران خان ہے اور خانصاحب کی ٹیم والے کچھ جلد ہی اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ اگر عمران خان مسلسل حکومت میں ہوتے تو ایسا نہ ہوتا جیسا کہ شہباز شریف کی حکومت میں نظر آیا ہے۔

دنیا اور جنوبی ایشیا کے تمام لوگ جو وسائل اور معیشت کو تھوڑا بہت جانتے ہیں، ان کے خیال میں مستقل غیر پیداواری اخراجات کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک میں خوراک اور فراہمی کے مسائل کی ابتدا گزشتہ 30 سالوں سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی لیکن لوگوں کو ڈبوں کے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ اور اصل بات اوجھل ہی رہی۔ اب خوراک کی قلت بڑھنے لگی ہے جسے عالمی زبان میں فوڈ سیکیورٹی کی اصطلاح سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب ہم سب سیاسی پالیسیوں اور خصوصاً معیشت کے بارے میں لکھیں، سیاست عوام کے وسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا معاملہ ہے، اس لیے ان پر بحث کریں اور ان کے بارے میں مقامی اور عالمی معلومات حاصل کریں۔

ایک جملہ میں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک بیرونی اور خطوں کے اثرات سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ سائبیرین ہوائیں سندھ میں سردی بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں، جیسے یوکرین اور روس کے تنازعات نے پوری دنیا کی گندم اور توانائی کے معاملات کا 25 سے 30 فیصد متاثر کیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں گندم کی اسمگلنگ بند نہیں ہو رہی ہے تاکہ گندم بیرون ملک درآمد کی جا سکے۔ حالت جنگ میں گندم کی قلت مزید چوٹوں کا باعث بنی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات ایک فطری عمل ہے۔ اب جب گندم کی کٹائی ہو رہی ہے فصل کم ہے، تو اس کا سب سے زیادہ اثر یہاں کی اکثریتی آبادی پر پڑے گا۔ ان کے گھر، تعلیم، علاج، رہائش سب ختم ہو جائے گا۔ اس لیے ہماری آبادی کو خوراک کی فراہمی کے مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔ آئیے اس کو تاریخی اعداد و شمار میں ایک بار پھر دیکھتے ہیں :

پاکستان 1960 سے 1990 ع کے 30 برسوں میں ترقی کرتا ہوا نظر ٓتا ہے، اور 1990 سے 20 20ع تک کے 30 سالوں میں تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہماری مصنوعات پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ہمیں کن اقدامات اور پالیسیوں کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے؟ یہ سب کچھ عوام سے اوجھل ہے جبکہ ٹی وی کے سارے ڈبے اوجھڑی کیمپ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان میں غذائی قلت کی وجوہات:

لفظ ”بمپر“ ٹی وی اور ریڈیو پر خزاں کے موسم سے کچھ دیر پہلے نمودار ہو گا، یعنی صوبے کے زرعی محکموں نے اپنی شاندار کارکردگی کو لفظ ”بمپر“ میں ڈال دیا ہے۔ لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ ”گندم“ کا بمپر، گنے کا ”بمپر“ تیلی بیج بمپر، آلو کا بمپر فصل، لیکن زمین کا رقبہ وہی۔ یہ بمپر دعوے عوام میں سیاسی حکومتوں کے بارے میں دلچسپی ختم کرتے ہیں۔ وقت ٓنے پر دعوے جو بمپر نہیں ہوتے تو عوام کے اذہان سے سیاسی حکومتوں کا بتدریج خاتمہ ہو جاتا ہے اور بتدریج عدم اعتماد کی یہ حد سیاسی جماعتوں کی تباہی پر ختم ہوتی ہے۔

پاکستان کے اعداد و شمار زمینی حقائق سے روگردانی کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ایک جانب اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری زرعی انواع کی کون سی فصلیں اگتی ہیں اور کون سی نہیں۔ پاکستان میں ملکی جی ڈی پی کا 2۔ 19 فیصد، ملک کی کام کرنے والی آبادی کا 5۔ 38 فیصد اور ملک کی اوسط آبادی کا 65 سے 70 فیصد تک زراعت پر دار و مدار رکھتا ہے۔ دعوے بناتے وقت اور یہ کہتے ہوئے حکومت نہ تو پانی کی کمی کا ذکر کرتی ہے اور نہ ہی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کا زراعت پر اثرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

ہمارے حکمران جھوٹ کے سہارے عالمی وبا کووڈ۔ 19 سے نمٹنے کے لیے ”عظیم قوم“ بنتے تھے، لیکن لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہونے دیتے تھے کہ ہماری زراعت پسماندگی کا شکار ہے۔ اناج سکڑ رہا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ لوگوں میں ”خوشی“ کا جو پیمانہ ہوتا تھا اس کے برعکس افسردگی اور اداسی بڑھ رہی ہے۔ اس لیے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ نہ غلہ بڑھانے کے لیے اور نہ ملک سے مال و سامان بیرون بھیجنے کے لیے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب چین، امریکا، برطانیہ، برازیل سمیت دنیا کی بڑی مارکیٹیں بند ہوں گی تو پاکستان کس طرح اپنی پیداوار کسی ملک کو کیسے بھیج سکے گا؟ اس سوال پر ہم بیٹھ گئے۔ جس سوال کی منصوبہ بندی کی جاتی تو معلوم ہوتا کہ دنیا پر ایک تازہ نظر ڈالنے اور دنیا کو نئے انداز سے گلے لگانے کا وقت ہے۔ لیکن ہماری ترجیحات معاشی اور پیداواری نہیں بلکہ مکمل طور پر غیر پیداواری ہیں جو بتدریج بدلتی رہتی ہیں۔

ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ پاکستانی معیشت میں ایک زمانے میں زراعت کا 57 فیصد حصہ تھا اور آجکل محض 18 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کی طویل قطار میں دو اعداد و شمار اہم ہیں۔

پاکستان میں زمین نہ صرف غیر سرکاری ملکیت ہے بلکہ یہ ملک میں سیاست اور سماجی جبر کا ایک بڑا ہتھیار بن چکی ہے۔ اب آپ کے پاس 16 ایکڑ زمین نہیں ہے لیکن وہ 1600 یا 16 ہزار ایکڑ ہے۔ ان کی کاشت کے لیے زمین کو پانی بھی چاہیے۔ آپ کو پانی کے لیے حکومتی مدد کی ضرورت ہے۔ اس کے بدلے میں آپ حکومت کی مدد کریں۔ قدرتی طور پر اس خشک موسم میں پانی صرف بڑے زمینداروں یا بڑے مسلح گروہوں کو مل سکتا ہے۔ تاکہ کچھ بڑے زمینداروں کی زمینیں قابل کاشت ہو سکیں۔ اس عمل کی وجہ سے پاکستان میں زرعی شعبوں میں ”خوشحال“ اور ”بدقسمت“ طبقے اور گروہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

زرعی معیشت کے لیے تجاویز

1۔ پاکستان میں زرعی اصلاحات پر غور کرنا چاہیے۔ کسی بھی خاندان کے پاس 100 ایکڑ سے زیادہ اراضی ایکوائر کی گئی ہو اس اضافی زمین کو سرکاری زمین کا حصہ بنایا جائے۔

2۔ زراعت کے میدان میں جب تمام زمیندار یکساں طاقت کے حامل ہوں گے تو تمام پانی بھی سب کو مل سکے گا۔

3۔ تمام زبانی معاہدات جو پنجاب کے لیے کیے گئے تھے ان کو دریائے سندھ سے نکالا جائے اور بدلتے موسمی حالات میں سندھ کو۔ قدرتی قلت۔ کے نام پر استحصال سے بچایا جائے

4۔ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ ڈرپ ایریگیشن سے واقفیت کے لیے جدید زرعی طریقہ کار کو لاگو کرتے ہوئے، مارکیٹ کی لاگت کو کم کر کے سولر کی لاگت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

5۔ زرعی اصلاحات میں جو زمین سرکاری زمین بن جاتی ہے اس کے بعد ”کوآپریٹو فارمنگ“ کی بنیاد پر ہر صوبے میں 20 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ان نکات کو بہتر بنانے کے لیے، پاکستان کو ”خاندانی منصوبہ بندی“ پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ چین 30 سال سے کرتا آیا ہے۔ آبادی کو 18 کروڑ تک لایا جائے۔ لیکن جو ملک 55 کھرب روپے کا مقروض ہو، اسے یہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس پر عمل درآمد کیسے ہو گا۔

جس آئی ایم ایف کا آج چرچا ہے وہ 1958 سے ہمیں قرضہ دیتا آیا ہے۔ جنرل ایوب خان نے پہلے 25 ملین ڈالر کا قرضہ لیا، واپس نہیں کیا۔ اس کے بعد 60 برسوں میں 30 کھرب اور گزشتہ ساڑھے 3 برسوں میں 25 کھرب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ عمران خان ہو یا شہباز شریف یا پیپلز پارٹی یہ قرضہ لیا پاکستان کے نام پر ہے، اتارنا بھی پاکستان کو ہے۔ پاکستان جہاں آج کھڑا ہے۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ 60 سالوں میں پاکستان کو 22 بار قرضہ دیا اور وہ سخت شرائط لاگو کرتے کرتے یہاں آئے ہیں۔

آئی ایم ایف کی سخت شرائط:

آئی ایم ایف اب پاکستان پر شرط لگا رہا ہے جو شاید 22 معاہدوں میں سب سے مشکل شرط ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چین کے مارگیج فنڈز کو آئی ایم ایف کے قرض میں لانے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور سی پیک کا سارا حساب کتاب آئی ایم ایف کے سامنے رکھا جائے گا۔

ماہرین اقتصادیات کے خیال میں اب آئی ایم ایف کسی شکاری کی طرح شکار کر رہا ہے۔ پاکستان کو کریڈٹ دیا جائے یا نہیں؟ سعودی عرب، یو اے ای، ورلڈ بینک یا اسلامی بینک، ایشین بینک کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

پہلی بار اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ گزشتہ ادوار میں معاہدوں کی بدانتظامی توانائی کے شعبے کے لیے موجودہ چیلنجز کا ایک بڑا ذریعہ تھی، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کہا کہ ”پاکستان کو بہت سے مالیاتی خطرات کا سامنا ہے اور اس طرح کے خطرات کے امکانات بہت خراب ہیں۔“ عظیم تر کوششیں اثرات کا مقابلہ کرنے یا اسے کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ”

حکومت پاکستان تمام کہانیاں عوام کے سامنے رکھے اور آگاہی مہم کے ذریعے بھوک اور مصائب اور ان نتائج کی پوری کہانی عوام کے سامنے رکھی جائے کیا معلوم بداعتمادی سے بھرپور خالی خزانے والے پاکستان کے عوام پتھر پیٹ سے باندھ کر ملک کو بچا لیں۔ خرابی اس وقت زیادہ محسوس ہوگی جب پیٹ پر بندھے پتھر کسی اور جانب سفر کریں گے!

Facebook Comments HS