بارش ٹوٹی جھونپڑی پر زیادہ برستی ہے
ہمارے ملک پاکستان کی گورنمنٹ جو کہ ہر طرح سے مڈل کلاس طبقے کے لوگوں کو آئے دن کوئی نہ کوئی مشکلات کا سامنا کرواتی ہے۔
عمران خان کے گورنمنٹ کہ بعد جناب میاں شہباز شریف کہ آتے ہی پیٹرول اور دیگر چیزوں کہ ساتھ ساتھ بجلی کا اضافہ غریب عوام پر بوجھ بن گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب آخر غریب عوام کہ لیے ہی کیوں؟
کیوں کہ ہمارے یہاں شروع سے ہی ایک چین چلتی آ رہی ہے جو کہ اب تک قائم ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں فرینک شمیڈٹ جو کہ ایک جرمن الیکٹریکل انجینیئر تھا اور اس کو کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین بنایا گیا۔ بجلی چوری روکنے کہ لیے ان کو ٹاسک دیا گیا کہ دیکھا جائے کون کون بجلی کی چوری میں ملوث ہیں۔ چھہ مہینے کی سروے کہ بعد ایک رپورٹ وفاقی حکومت کے پاس بھجوائی گئی جس میں بتایا گیا کہ پچاس فیصد حکومتی ادارے خود بجلی چوری میں ملوث ہیں، چالیس فیصد صنعت کار یعنی انڈسٹریل والے بجلی چوری کرتے ہیں اور دس فیصد کچی آبادیاں اور غریب طبقہ بجلی کی چوری میں ملوث ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ آپریشن کچی آبادیوں اور غریب طبقے سے شروع کی جائے تو فرینک نے کہاں کہ یہ تو نا انصافی ہے اگر ہم غریب عوام کے بجائے 90 فیصد حکومتی اداروں اور صنعت کاروں کہ خلاف آپریشن کریں تو اس سے ہم باقی کے 10 فیصد غریب عوام کو مفت بجلی کا ریلیف دے سکتے ہیں۔
مگر ایسا کرنے سے روکا گیا اور ایک دن فرینک اس ملک کو خیرآباد کر کہ واپس جرمن چلا گیا اور جاتے جاتے کہا کہ اس ملک میں ظلم حکومتی ادارے اور صنعت کار کرتے ہیں اور رگڑا غریب عوام کو دیا جاتا ہے تو یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
اس طرح جرنل پرویز مشرف کی دؤر حکومت سے لے کر آج تک بجلی کی چوری میں ملوث اداروں کے خلاف آپریشن کرنے کہ بجائے ہر آئے دن کچی آبادیوں اور غریب عوام کے خلاف آپریشن کیا جاتا۔ تین سے چار مہینے کے بل کی ادائیگی نہیں ہوتی تو وجہ جانے بغیر بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور ہر روز بجلی بڑھانے کہ بجائے اگر چوری میں ملوث لوگوں کہ خلاف آپریشن کیا جائے تو کئی فیصد بجلی کی بچت ہو سکتی ہے جس سے غریب عوام کو ریلیف دی جا سکتی ہے۔


