عمران خان: شخصیت ، کارکردگی اور عزائم


یادش بخیر، نیوٹرل ایمپائر کی جدوجہد۔ اگر آپ پاکستانی ہیں تو آپ نے کافی بار سنا ہو گا، ’میں وہ ہوں جو کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائرز لے کے آیا‘ ، ’میں نے نیوٹرل ایمپائرز کے لیے جدوجہد کی‘ ، وغیرہ وغیرہ! آئیے اس کی گرد بھی جھاڑ لیتے ہیں۔ قصہ یوں ہے کہ 1980 سے 1990 کی دہائی میں انڈیا میں کپل دیو اور سنیل گواسکر اور پاکستان کی طرف عمران خان اور جاوید میانداد نے طوفان برپا کر رکھا تھا۔ اس وقت تک ایمپائر میزبان ملک سے ہوتے تھے۔

پاکستان انڈیا جاتا تو انڈیا کی ٹیم کے ساتھ ساتھ جانبدار ایمپائرز سے بھی میچ پڑ جاتا اور اگر انڈیا پاکستان آتا تو بالکل یہی صورتحال انڈیا کو درپیش ہوتی۔ لیکن یہ الزام ہر بار اس وقت سطح پر زور و شور سے ابھر کر آتا جب کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا یا انڈیا کا دورہ کرتی۔ اس جملے میں انڈیا کا ذکر اتنا ہی وزن رکھتا ہے جتنا ہاتھی کے ساتھ دم کا۔ نتیجتاً کھیل کو کنٹرول کرنے والے ادارے آئی سی سی کو کھیل کی ساکھ بچانے کے لیے 1987 میں ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان میں نیوٹرل ایمپائرز کو متعارف کروانا پڑا اور فیئر پلے کے بہت سارے نئے قوانین اور سخت سزائیں متعارف کروانا پڑیں۔

تو خان صاحب اس حد تک حق بجانب ہیں کہ نیوٹرل ایمپائرز اور ڈسپلن کے قوانین کے متعارف ہونے کے پیچھے سب سے بڑی انفرادی وجہ عمران خان صاحب اور ان کے نیچے کھیلنے والی ٹیم تھے۔ خان صاحب لگ بھگ بیس سال تک کرکٹ کھیلنے کے بعد اپنے کریئر کے آخری سال ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے خوش قسمت کپتان تھے۔ کیونکہ اس وقت صرف خوش قسمتی باقی تھی کارکردگی اور خاص طور پر ورلڈ کپ کھیلنے والی کارکردگی چالیس سالہ خان میں موجود نہیں تھی۔

اور اگر ٹیم میں شمولیت کی بنیاد کارکردگی ہو تو کپتانی تو درکنار، خان صاحب کی ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی تھی۔ اس بات پر مہر تصدیق ان کی کھیل کے تینوں شعبوں میں بحیثیت کھلاڑی بری کارکردگی نے ثبت کی۔ بہرحال وسیم اکرم، انضمام الحق، مشتاق احمد، معین خان اور عاقب جاوید کی بے مثال کارکردگی کی وجہ سے پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا۔ خاص طور پر سیمی فائنل اور فائنل میں اگر انضمام الحق، وسیم اکرم اور معین خان کارکردگی نہ دکھاتے تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔

بعد ازاں عمران خان صاحب ورلڈ کپ جیتنے کا سارا سہرا اپنی چرب زبانی، چیریٹی اور مستقبل کے عزائم کی آڑ میں اکیلے اپنے سر باندھنے میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ جتنا عرصہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلی لگ بھگ اتنے ہی سال برطانیہ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلی۔ پوری دنیا کی خواتین میں اور خاص کر گوریوں میں بہت مقبول تھے اور ہول سیل کے حساب سے گوریوں کے ساتھ خان کا نام ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہا، سیتا وائٹ، ایما سارجنٹ، سٹیفنی بیچم، گولڈی ہان، کیرولین کیلیٹ، کرسٹین بیکر، زینت امان، جمائما گولڈ سمتھ، ریحام خان اور بشری وٹو، یہ چند نام صرف تحدیث نعمت کے لیے پیش کیے ہیں جن کو خان کے ساتھ قربت حاصل تھی۔

ان تمام مصروفیات کے سبب مغربی میڈیا نے عمران خان کو ’پلے بوائے آف کرکٹ‘ کا نام دیا۔ اس ماضی سے بے خبر قوم کو آج عمران خان سے یہ گلہ ہے کہ وہ خواتین کے بارے میں نہایت قابل اعتراض رائے زنی کرتے ہیں۔ کیا اس طرح کی زندگی گزارنے والے شخص سے رشتوں کے تقدس کی امید رکھنا چاہیے؟ کیا ساری زندگی مغرب میں گزارنے والے شخص سے اسلامی شعائر و حوالہ جات اور معلومات میں دامن کی تنگی کا گلہ جائز ہے؟ کیا مغرب کے لحاظ سے بھی ایک اخلاق باختہ اور معیوب زندگی گزارنے والے شخص سے اسلامی اور مشرقی روایات، اور بہن بیٹی کے تقدس کی پا مالی کا گلہ بنتا ہے؟ کیا ایسے شخص سے روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تقدس اور حرمت کی پاسداری کی امید کی جانی چاہیے؟ ہاں بناوٹ اور مصنوعی پن کو نہ چھپا سکنے کا گلہ ضرور بنتا ہے۔ بری اداکاری کا شکوہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال آخرالذکر تینوں خواتین کو خان صاحب سے نکاح کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سب سے پہلا قرعہ فال لندن کے گولڈ سمتھ خاندان کے نام نکلا۔ یہ لندن میں آباد ایک نہایت مالدار اور با اثر خاندان ہے۔ 1995 میں 43 سالہ عمران خان نے اکیس سالہ جمائما گولڈ سمتھ سے نکاح کر لیا۔ دو بچے ہوئے اور 2004 میں جمائما اور عمران خان صاحب کی علیحدگی ہو گئی اور وہ واپس برطانیہ چلی گئیں۔ بچے بھی جمائما کے زیر کفالت ہیں اور لندن میں ہی ہیں۔

ٹیریان خان، عمران خان کے زیر کفالت ایک امریکن بچی ہے جو بقول سیتا وائٹ عمران خان اور اس کی بیٹی ہے۔ سیتا وائٹ جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، نے عمران خان کے انکار کے بعد امریکی عدالت میں پیٹرنٹی سوٹ کیا اور امریکی عدالت نے بچی کو عمران خان کی بیٹی قرار دیا اور کفالت کی ذمہ داری بھی عائد کردی۔ یہ بچی 1997 سے عدالتی فیصلے کے بعد عمران خان کے زیر کفالت ہے۔ دوسرا نکاح 2015 میں 63 سالہ عمران خان نے 42 سالہ ریحام خان سے کیا اور اسی سال ہی علیحدگی ہو گئی۔

تیسرا اور تاحال آخری نکاح 2018 میں 66 سال کی عمر میں عمران خان نے 44 سالہ بشریٰ وٹو سے کیا جو تاحال قائم ہے۔ اس نکاح کی خاص بات یہ ہے کہ بشریٰ وٹو صاحبہ کا ایک روحانی حوالہ ہے، وہ ایک مبینہ پیرنی یا روحانی معالجہ ہیں۔ اور اسی حوالے سے عمران خان صاحب کا ان کی طرف آنا جانا تھا۔ 2018 میں بشریٰ وٹو صاحبہ، بشریٰ مانیکا تھیں اور پاکپتن کے خاور مانیکا کے نکاح میں تھیں اور ان دونوں کے پانچ بچے تھے۔ پھر 2018 میں ان کی خاور مانیکا سے علیحدگی ہو گئی اور اسی سال عمران خان صاحب سے نکاح کر لیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 37 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments