در ہجو تابستان


آموں کے علاوہ گرمی کے موسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بندہ بشر ہر ایک شے سے اوازار (بیزار) حتی ’کہ اپنے آپ سے بھی نالاں رہتا ہے۔ چپ چپ ہو رہی ہے، دن میں دو بار نہاؤ اور پھر سارا دن پسینے میں نہاتے رہو۔ کوئی ڈھنگ کا خوب صورت لباس آپ نہیں پہن سکتے۔ الف ننگا ہو کر پھرنے کو جی چاہتا ہے۔ اگلے وقتوں میں دھوتی باندھ لیتے تھے اب بوجہ بے پردگی اس کی جگہ شارٹس نے لے لی ہے۔ دروازے پر دستک ہو تو مجبوراً قمیض پہن کر جانا پڑتا ہے۔

دو قدم دھوپ میں چلا نہیں جاتا۔ پورا دن باہر نکلنا محال رہتا ہے۔ بھوک کم ہوجاتی ہے۔ پیاس زیادہ لگتی ہے۔ جلد کا رنگ اور پیشاب دونوں پیلے پڑ جاتے ہیں۔

کوئی مہمان گھر میں آ جائے تو اور مصیبت ہوجاتی ہے۔ اگر اس کو اے سی والے کمرے میں سلائیں تو خود کہاں سوئیں۔ چھتوں پر سونے کا رواج عملاً مفقود ہوتا جاتا ہے۔

رفع حاجت کا ٹائم ٹیبل تبدیل کر کے ایسے وقت کرنا پڑتا ہے جب واش روم میں بیٹھے گرمی نہ لگے۔ لیکن جون جولائی کے دو مہینے ایسا وقت صرف اس دن آتا ہے جب طوفان باد و باراں کے باعث کچھ امن ہو جائے۔ ورنہ واش روم میں بھی اے سی اب ضرورت بن گیا ہے۔

مولوی اسماعیل میرٹھی کو خدا بخشے پہلے ہی وفات پا گئے اگر آج کی گرمی پا لیتے تو انہیں چوٹی سے ایڑی کے ساتھ ساتھ پسینہ بہنے کے مضمون میں کئی اشعار کا اضافہ کرنا پڑتا۔

پانی سمیت ہر شے ابل ابل پڑتی ہے یا پھر نڈھال ہو لٹک پڑتی ہے۔ سوائے جذبات کے کوئی شے ٹھنڈی نہیں رہتی۔

سورج صاحب کی بدمعاشی عروج پر ہوتی ہے۔ رات آٹھ ساڑھے آٹھ بجے تک ایسے افق کے پار اترتا ہے جیسے ولن ہیرو کو گھورتا ہوا جاتا ہے اور اس کا بس نہیں چل رہا ہوتا۔ صبح چار بجے پھر آ دھمکتا ہے۔ کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے رات کو دو بجے ہی نہ نکل آئے۔ نیند سمیت کسی بھی لذت جسمانی کی کماحقہ تشفی نہیں ہوتی۔

سگریٹ پینے والے افراد شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پنکھے کے نیچے سگریٹ ضائع ہو کر جلدی ختم ہوجاتی ہے۔ پنکھا بند کریں تو نزع کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔

بات بے بات غصہ آنے لگتا ہے۔ پانی یخ ٹھنڈا کرو تو پیا نہیں جاتا۔ گرم تو بالکل نہیں پیا جاتا۔ مکس کرنا پڑتا ہے۔

بند جوتے پہنو تو گرمی لگتی ہے۔ نہ پہنو تو پینٹ شرٹ میں بھی بندہ پینڈو لگتا ہے۔ کھلے چپل پہن لو تو چلچلاتی دھوپ پاؤں کی جلد بھون ڈالتی ہے۔

پہلے چھ ماہ کی سردی ہوتی تھی تو رنگت میں تھوڑا تھوڑا نکھار آ جاتا ہے۔ اب سردی سکڑ کر بمشکل پندرہ دن کی رہ گئی ہے تو دو ہفتے میں سال بھر کا جھلسا ہوا سانولا رنگ بھلا کیسے گورا ہو؟

ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹر ہاف کے سن بلاک پر نظر پڑی تو غور سے اس کی ڈائریکشن فار یوز اور فائدے پڑھے۔ نقصان دہ الٹرا وائلٹ سے بچاتا ہے۔ جلد کی حفاظت کرتا ہے وغیرہ۔ فوراً ہتھیلی پر نکال کر چہرے پر مل لیا۔ دفتر جو گیا تو سب ہنسنے لگے۔ ایک مخلص نے مشورہ دیا جائیں منہ دھو آئیں۔

واش روم کے آئینے میں جو دیکھتا ہوں بخدا سرکس کا جوکر لگ رہا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments