ہمارے ساتھ سجن نے کی بے وفائی ہے
ڈالر کی اونچی اڑان کسی طور تھم نہیں پا رہی، عوام کو اس امر کی سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت نے پیٹرول سبسڈی کو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ختم کر دیا تو اس کے باوجود ان کا اور حکومت کے درمیان معاہدہ کیوں نہیں ہو رہا، وہ مزید کیا چاہتے ہیں؟ حکومت مشکل فیصلے کرنا چاہتی ہے لیکن وہ دشوار فیصلے کیا ہیں، یہ عوام کو سمجھ میں نہیں آ رہا، انہیں تو برطرف حکومت اور حالیہ گورنمنٹ میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا، مہنگائی پہلے بھی تھی اور آج اس سے زیادہ ہے۔
پریشانی تو پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے، بلکہ بتایا جاتا ہے کہ چند مہینے نہیں بلکہ کئی برس سخت رہیں گے۔ یہ بہت ہولناک صورتحال ہوگی کیونکہ اگر یہی سب کچھ ہونا تھا اور عوام کی آزمائشیں کم نہیں کرنا تھی تو انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کیوں برطرف کرائی، اعداد و شمار کے گنجلگ دھندوں میں نہیں جاتے، کیونکہ عوام اعداد و شمار کے بجائے اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اجناس کم قیمت پر ملیں گی یا نہیں، بجلی گیس اور پانی کے بلوں میں کمی ہوگی یا نہیں، ان کی قوت خرید کب بڑھیں گی، پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہوں میں کون اضافہ کرے گا، ان کے بچے کب اچھی تعلیم حاصل کرسکیں گے اور ان کا معیار زندگی کب بہتر ہو گا۔
کہنے تو کہا جاتا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان کا فی الوقت واحد سبب سیاسی عدم استحکام ہے، جو کسی بھی سرمایہ کار یا مالیاتی ادارے کے لئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ کیا کمزور حکومت مستحکم فیصلے کر سکتی ہے جس سے ان کے سرمایہ کو تحفظ حاصل ہو۔ تو یہ سمجھنے کے لئے معاشی تجزیے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاملہ دو جمع دو، چار ہی ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کار ایسے کسی ملک میں اپنے اثاثے خطرات میں نہیں ڈال سکتا، جہاں اسے معاشی و سیاسی تحفظ نہ ملے۔
ہمیں بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی عالمی نمو اور افراط زر کے نقطہ نظر سے سرمایہ کاروں کے تحفظات نے 2002 کے بعد امریکی ڈالر کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت بھی دنیا میں ڈالر کے مقابلے میں کوئی دوسری متبادل ریزرو کرنسی کے طور پر موجود نہیں، سوئس فرانک، یورو اور سٹرلنگ نے پورٹ فولیوز میں اپنی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں جزوی فائدہ تو اٹھایا ہے لیکن ڈالر دو دہائیوں سے مضبوط سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم بتایا گیا کہ بلند افراط زر اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے امتزاج نے دنیا کی ریزرو کرنسی کی مانگ میں قدرے اضافہ کیا ہے، جیسے روس۔ یوکرین جنگ میں پابندیوں کے باعث تجارت امریکی ڈالر کے مقابلے میں متبادل کرنسی میں ہو رہی ہے۔
عوام کو ان عوامل سے کوئی سروکار نہیں اور نہ یہ ان کے لئے کوئی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ان کا شعبہ ہی نہیں کہ ڈالر بڑھتا کیوں اور گھٹتا کیوں ہے، انہیں تو معاوضہ روپوں میں ملتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ڈالر کے بڑھنے اور گھٹنے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے، یہ تو ان لوگوں کے چونچلے ہوں گے جو باہر ملک جاتے ہیں، جن کے کاروبار باہر ہیں، جن کے خاندان بیرون ملک رہتے ہیں، ہمیں تو دال روٹی خریدنے کے لئے روپوں کی ضرورت ہے او ر وہ روپیہ دے کر اشیاء خریدتے ہیں اور انہیں تنخواہ بھی روپوں میں ملتی ہے۔
اب انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ امریکی ڈالر عام طور پر کم عالمی لیکویڈیٹی کے اس ماحول میں مضبوط ہوتا ہے نیز یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ یہ تب ہی دوبارہ کمزور ہو گا جب عالمی نقطہ نظر بہتر ہو جائے گا۔ یقینی طور پر مالیاتی منطق سر کے اوپر سے گزر جاتی ہوں گی کہ کسی بھی ملک کی معیشت اور مالی حالات کی بہتری کے ساتھ قوت خرید کا براہ راست تعلق ڈالر کی شرح سے ہے اور ڈالر کا مستحکم ہونا، سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی آسان الفاظ میں کہا جائے کہ جب تک کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا اس کی معیشت کبھی بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اور اس کا وہی حال ہو گا جو سری لنکا جیسے ملکوں کا ہوا۔
عوام کو یہ سمجھانا بھی مشکل ہے کہ روس۔ یوکرین جنگ کو اپنی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے کیونکہ روس کو تو تاریخی منافع ہو رہا ہے لیکن جنگ کے مضر اثرات سے پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک یہاں تک کہ جس ملک کا ڈالر ہے وہ خود بھی متاثر ہے، یعنی امریکہ۔ گزشتہ دنوں ہی خبر آئی تھی کہ وہاں بھی پیٹرولیم مصنوعات میں تاریخی اضافہ ہوا۔ اب یہ سمجھنا واقعی مشکل ہے کہ جب امریکہ کا اپنا ڈالر ہے تو وہ خود مہنگا کیوں ہو رہا ہے، تو اسے کم ازکم عوام کی اکثریت سمجھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، اب تو یہ بھی کوئی نہیں پوچھ رہا کہ برطرف حکومت کا بیانیہ تھا کہ ان کے جانے سے حزب اختلاف کو فائدے ملیں گے، ان کی ’خطائیں‘ معاف کردی جائیں گی، لیکن سب کچھ الٹا کیوں ہو رہا ہے، ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ جیسے مالیاتی ادارے سزا دے رہے ہوں، پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کرانے کے باوجود نئے نئے مطالبات سامنے آرہے ہیں، خاص کر سی پیک منصوبوں پر ادا کی جانے والی رقوم کا حساب کتاب مانگنا تو ہمیں یہی سمجھا رہا ہے کہ معاملہ کچھ او ر ہے، دکھایا کچھ اور کیا کچھ اور جا رہا ہے۔
لیکن سب چھوڑیں، بادی النظر لگتا ایسا ہے کہ سابق وزیراعظم کو برطرف کرنے کی سزا موجودہ حکومت کو دی جا رہی ہے، نہ کوئی امریکی ریلیف، نہ کوئی فوجی امداد، نہ کوئی خیر خیرات، کچھ بھی تو نہیں، یہاں تک کہ امریکی صدر نے شہباز شریف کو بھی ابھی تک فون نہیں کیا۔ تو پھر یہ سب کیا ہے کہ موجودہ حکومت وہ سب کام کر رہی ہے جو سابق حکومت نے کرنے تھے، یا پھر انتخابات کا اعلان ہوتا تو عبوری انتظامیہ چھپ چھپاتے تمام معاملات کر لیتی، یہ آگ کے شعلے موجودہ حکومت نے کیوں منہ میں ڈالے کہ سب کچھ جلتا جا رہا ہے۔ عوام بہت سادہ ہے، اسے اس کی کوئی سمجھ نہیں کہ اتنی مہنگائی، بجلی گیس سمیت پیٹرولیم مصنوعات میں ہوش الربا اضافے کے باوجود اب بھی کون سے ’مشکل فیصلے‘ کیے جانے ہیں، وزیر خزانہ روز ٹی وی پر آ کر ڈراتے ہیں، ان سے ہم خوف زدہ ہو جاتے ہیں لیکن سابق وزراء خوش ہوتے اور شکر ادا کرتے ہیں کہ
ساڈے نال سجنا نیں کیتی بے وفائی اے
رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے
ترجمہ:
ہمارے ساتھ سجن نے کی بے وفائی ہے
رل تو گئے ہیں لیکن مزا بہت آیا ہے


