سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا موسم
جیسے جیسے سندھ میں بلدیاتی انتخابات قریب آرہے ہیں ہر طرف سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے، پارٹیوں میں لوگوں کا آنا جانا کسی میلے کے سماں سے کم نہیں ہے۔ اندرون سندھ کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو نظر یہی آ رہا ہے پیپلز پارٹی کے لئے میدان مارنا اس بار اتنا آسان نہیں ہو گا۔ اس بار بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو میدان اتنا صاف اور آسان نہیں ملے گا، سندھ کی قومپرست جماعتوں کے ساتھ ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے پیپلز پارٹی کو بہت ٹف ٹائم دیا ہے۔ حیدرآباد ڈویژن کے چار اضلاع پر نظر ڈالیں تو ہمیں وہاں پیپلز پارٹی کے معاملات اتنے سنبھلے ہوئے نظر نہیں آتے اور اگر پارٹی کے معاملات اسی طرح موجود رہے تو بلدیاتی انتخابات کے نتائج کچھ اور ہی نکلیں گے۔
حیدرآباد کی صورتحال
اگر حیدرآباد سے شروع ہوں تو وہاں کی موجودہ صورتحال پیپلز پارٹی کے لئے کچھ اچھی نظر نہیں آ رہی ہے، پارٹی کی اندرونی گروپ بندی نے پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفوں کے لئے میدان آسان بنا دیا ہے۔ اس وقت حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے لگ بھگ چار گروپس ہیں، جس میں ایک شرجیل میمن کا گروپ، دوسرا مولا بخش چانڈیو کا گروپ، تیسرا جام خان شورو کا گروپ اور چھوتا طارق علی شاہ جاموٹ کا گروپ۔ ایک پارٹی میں جب چار گروپس ہو تو وہاں سیاسی حریف کو کامیابی حاصل کرنے میں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئے گی۔
اس ساری صورتحال کا فائدہ ایم کیو ایم پاکستان پہنچے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان اب بھی حیدرآباد کے شہری علاقوں میں اپنی مضبوط گرفت رکھتے ہے، اسی طرح یہاں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ حیدرآباد میں قومپرست جماعتوں اور مذہبی پارٹیوں کا بھی زبردست ووٹ بینک موجود ہے، جس میں قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی، ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی پارٹی، مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علما اسلام اور سنی تحریک، ایک رائے کے مطابق اس بار حیدرآباد شہر اور دیہات میں دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کی بلدیاتی الیکشن میں مضبوط سیاسی حکمت عملی سے میدان میں اترنا پڑے گا، تھوڑی سی بھی لاپرواہی ہو تو چھوٹی جماعتیں ان کو بڑا اپ سیٹ دے سکتی ہیں۔
جامشورو ڈسٹرکٹ
بالکل اسی طرح جامشورو ڈسٹرکٹ پر نظر ڈالیں گے تو صورتحال حیدرآباد سے زیادہ دلچسپ نظر آئے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے آبائی ڈسٹرکٹ جامشورو میں پیپلز پارٹی کا سب سے مضبوط سیاسی حریف سندھ یونائٹڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ اور ان کے اپنے سابق جیالے ہیں۔ مراد علی شاہ کے بعد ڈسٹرکٹ کی سب سے بڑی قدآور سیاسی شخصیت ملک اسد سکندر کے اس وقت پارٹی قیادت سے معاملات کچھ اچھے نہیں چل رہے ہیں، اس کی اہم وجہ گزشتہ عام انتخابات میں ملک اسد سکندر کے سامنے الیکشن لڑنے والے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ڈاکٹر سکندر شورو کی پیپلز پارٹی میں واپسی کی باتیں ہیں، سننے میں آ رہا ہے کہ ڈاکٹر سکندر شورو نے پیپلز پارٹی میں واپسی کے لئے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
اطلاعات یہ آ رہی ہیں کہ پارٹی قیادت نے ملک اسد سکندر اور سکندر شورو میں معاملات حل کرنے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دیا ہے۔ اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ایک دو بیٹھک بھی ہو چکی ہیں۔ لیکن معاملات بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں نشستوں کی تقسیم پر اٹکا ہوا ہے۔ ملک اسد سکندر کسی صورت میں بھی ڈاکٹر سکندر شورو کو عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دینے کے مخالف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں اگر سکندر شورو پیپلز پارٹی میں آنا چاہتے ہیں تو عام ورکر کی طرح آئے، باقی کوئی سیٹ نہیں ملے گی۔
اس وقت ڈسٹرکٹ جامشورو میں تین صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی سیٹ ہیں، آئندہ کے الیکشن میں ملک اسد سکندر تھانہ بولا خان سے اپنے بیٹے جونئیر ملک سکندر کو ایم پی اے بنانا چاہتے ہیں، خود کوٹڑی کے حلقے سے الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں، جب کہ اپنے اتحادی صوبائی وزیر گیان چند ایسرانی کو منارٹی کوٹہ پر ایم پی اے بنانا چاہتے ہیں، اس صورتحال میں اگر پارٹی قومی اسمبلی کی سیٹ ڈاکٹر سکندر شورو کو دیتی ہے تو ملک اسد سکندر اس کے بھی حامی نہیں۔ اگر پارٹی نے ایسا فیصلہ کیا تو ملک اسد سکندر اندرونی طور پر اس اقدام کی حمایت نہیں کریں گے اور انتخابات کے سارے عمل میں نیوٹرل رہنا ہی پسند کریں گے۔
مٹیاری ڈسٹرکٹ
ڈسٹرکٹ مٹیاری کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں ہے، اس وقت مٹیاری ڈسٹرکٹ کی ایک قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کی سیٹیں پہلے ہی مخدوم خاندان کے پاس ہے اور اب ڈسٹرکٹ چیئرمین سے لے کر تینوں تحصیلوں پر مخدوم خاندان چاہتا ہے ہمارے چیئرمین آئیں، لیکن کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے سینیٹر سید محمد علی شاہ جاموٹ چاہتے ہیں ڈسٹرکٹ چیئرمین شپ ان کو ملے اور تینوں تحصیلوں کی چیئرمین شپ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو دی جائے، لیکن مخدوم خاندان اس پلان کی مخالفت کر رہا ہے، وہ چاہتا ہے ڈسٹرکٹ چیئرمین ماضی کی طرح ہمارے پاس آئے، موجودہ سیاسی صورتحال میں مٹیاری ڈسٹرکٹ میں بھی سیٹوں کی تقسیم پر پیپلز پارٹی خود تقسیم نظر آ رہی ہے اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر مخدوم خاندان کے حق میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ مخدوم ہاؤس پیپلز پارٹی کے بانیوں میں شامل ہیں، اس لیے کسی کی خواہش پر اس کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔
ٹنڈوالہیار ڈسٹرکٹ
ٹنڈوالہیار ڈسٹرکٹ کی صورتحال بھی دیگر اضلاع سے مختلف نہیں ہے۔ ٹنڈوالہیار میں بھی پیپلز پارٹی تین گروپس میں تقسیم ہے اور وہاں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک بھی موجود ہے، لیکن ماضی میں دیکھا گیا ہے ایم کیو ایم ہمیشہ پیپلز پارٹی کے کسی ایک مضبوط گروپ سے اتحاد کر لیتی ہے۔ ٹنڈوالہیار میں اس وقت ایک بچانی گروپ، دوسرا رضوی گروپ اور تیسرا پتافی گروپ ہے۔ سابق ایم این اے عبدالستار بچانی کو جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے بچانی عین وقت صورتحال تبدیل کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں صوبائی وزیر ضیا عباس شاہ رضوی کی سیاسی حکمت عملی، پارٹی مخالفین اور سیاسی حریفوں پر بھاری نظر آئی۔ ضیا عباس شاہ رضوی نے بڑی دانشمندی سے نہ صرف ڈسٹرکٹ چیئرمین شپ اپنے سیاسی اتحادی اور پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم علی محمد ولہاری کو دلوائی بلکہ شہر کی میونسپل چیئرمین شپ اور پیارو لنڈ کی چیئرمین شپ اپنے منتخب لوگوں کو دلوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس بار بھی جو صورتحال نظر آ رہی ہے وہ رضوی ہاؤس کے حق میں نظر آ رہی ہے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ بچانی ہاؤس نے پارٹی قیادت کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ اگر اس بار ڈسٹرکٹ چیئرمین شپ ہماری مرضی سے نہ دی گئی تو اس چیز کی گارنٹی نہیں دے سکتے ہمارے حامی کونسلرز آپ کے نامزد امیدوار کو ووٹ دیں گے یا نہیں۔
حیدرآباد، ٹنڈوالہیار، مٹیاری اور جامشورو کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے یہ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی کہ یہ بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی کے لئے آسان نہیں ہوں گے، سخت محنت اور منظم حکمت عملی ہی پیپلز پارٹی کو کامیاب بنا سکتی ہے، دیگر صورت پارٹی کی اندرونی گروپ بندی دیگر پارٹیوں کے لئے میدان آسان کرتی جائے گی۔


