آخر ہم کیوں نہیں؟


یہ سوال میرے ذہن میں تب سے گھوم رہا ہے جب استنبول ائرپورٹ پر بوداپست کی کنیکٹنگ فلائٹ کے انتظار میں میری ملاقات ایک ہنگیرین بزرگ سے ہوئی۔ وہ غالباً آسٹریلیا سے آرہے تھے اور میں اسلام آباد سے بوداپست کے سفر پہ گامزن تھا۔

ان بزرگوار نے گپ شپ کرتے کرتے اچانک مجھ سے ایسا سوال کیا کہ آج تک اسی سوال کے جواب کو تلاش رہا ہوں۔ کسی حد تک جواب ملے بھی ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر جواب کے ساتھ مزید نئے سوال جنم لے رہے ہیں۔

سوال ان بزرگوار کا یہ تھا کہ پاکستان سے کوئی بڑی کمپنی کیوں نہ بن سکی، یعنی گلوبل ملٹی نیشنل کمپنی۔ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد انہیں کچھ اسباب بتائے تو سہی لیکن ان کے چہرے کے تاثرات اور خود میرا دل دونوں ہی کہ رہے تھے کہ نہیں نہیں یہ نہیں کچھ اور، کچھ اور۔

خیر ان بزرگوار کی باتوں سے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کی سینئر مینجمنٹ کا حصہ رہ چکے تھے اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے۔

خیر وہ جہاز ہمیں لئے بوداپست مجارستان (ہنگری) چلا گیا وقت گزرتا رہا اور اس ایک سوال کی گونج میرے ذہن میں کبھی ہلکے دھیمے اور کبھی بہت تیز سروں میں گونجتی رہی جھنجھوڑتی رہی، ذہن کو حصول مطلب کے چکر کے گرد رقصاتی رہی۔ یہی ایک سوال میں نے کامیاب تاجروں، پروفیسروں، طالبعلموں، مقالوں اور کتابوں سے براہ راست و بالواسطہ ؛ شعوری و غیر شعوری طور پر پوچھنے کی کاوش کی۔

اس کا سطحی جواب یہ ہے کہ ہمارے پاس کاروبار کے شروع کرنے کے لئے بنیادی سرمائے کی کمی ہے مگر یہ تو مجھے فقط اپنی ناکامی چھپانے کا بہانہ لگتا ہے۔ کئی ایسی ملٹی نیشنلز موجود ہیں کہ جن کا ابتدائی سرمایہ نہ ہونے کے مترادف تھا۔ بقول حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ:

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

بہرحال ہماری کمپنیاں اتنی بڑی کیوں نہیں ہیں جتنی کہ گوگل، پراکٹر اینڈ گیمبل، ایچ پی، نیسلے اور سونی وغیرہ۔

اس سوال کے جواب مجھے کولنز اور پورس
Collins and Porras
کے مقالے بعنوان
Building Your Company ’s Vision

جو کے HBR میں چھپا تھا وہاں سے بھی ملے اور Jim Collins کی کتابوں سے بھی بہت مدد ملی لیکن اسی اثناء میں بہترین جواب ٹینو سنن داجی Tino Sanadaji سے حاصل ہوا۔ بات بہت لمبی ہو گئی اس لئے مختصراً یہ کہ گلوبل کمپنیز کے گلوبل ہونے اور بہت زیادہ تیزی سے بڑھوتری کرنے اور بہت طویل عرصے تک قائم رہنے کی اہم ترین وجوہات جو اب تک مجھے سمجھ آئی ہیں ان میں سے صرف دو کا تذکرہ یہاں کرتا ہوں۔

اس سلسلے میں کامیابی، پھیلاؤ اور بڑھوتری کے لئے اہم ترین سبب ہے کمپنی کے مالکان و بانیان  کا با بصیرت ہونا یعنی واضح طور پر اپنی کمپنی کا وژن تیار کرنا۔ اگر بانیان ہی میں بصیرت نہ ہو تو وہ اپنی کمپنی کو گلوبل کیسے بنا سکتے ہیں۔

دوسری اہم وجہ بلکہ خود میری نظر میں سب سے اہم وجہ ہے مالکان یا بانیان کا تعلیم یافتہ ہونا۔ Sanandaji نے Fortune 500 کی تیز ترین پھیلاؤ اور بڑھوتری والی کمپنیوں کی کامیابی کی وجوہات پر تحقیق کے بعد یہ کشف کیا کہ جو کمپنیاں بہت کامیاب رہیں ان کے مالکان یا بانیان بہت تعلیم یافتہ تھے اور بصیرت یا vision بھی تعلیم ہی سے حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر وجوہات پر انشاء اللہ پھر کبھی موقع ملا تو ضرور حوالۂ تحریر کروں گا۔

قوموں کی معاشی ترقی میں entrepreneurship یا اپنا روزگار کرنا بہت اہم ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز entrepreneurship میں ہی مضمر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنا کاروبار کرنے کو پسند فرمایا، سورہ قریش میں اللہ تعالیٰ نے گرمی اور سردی کے راستوں کا جو ذکر کیا ہے وہ تجارتی راستے تھے جن سے مانوس کر کے اللہ تعالیٰ نے قریش کو بھوک سے نجات دی اور خوف سے امان بھی، حضرت ہاشم علیہ السلام نے ان تجارتی قافلوں کا آغاز کیا تھا جو گرمی میں شام و فلسطین جایا کرتے اور سردی میں حبشہ و یمن۔ سوائے حضرات موسیٰ و یوسف علیہم السلام کے، خدا کے کسی پیغمبر نے ملازمت نہیں کی اور ان دو پیامبروں کی بھی ملازمت کی نوعیت بہت مختلف تھی۔

پیامبران خدا علیہم السلام نے زراعت کی، غلہ بانی کی یا تجارت کی۔ ملیکة العرب زوج خاتم النبیین حضرت خدیجة الکبریٰ علیہا السلام بہت عظیم تاجرہ تھیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیا کے عظیم و بہترین تاجر یا entrepreneur ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہی حدیث ہے کہ مال یا دولت کے 10 میں سے 9 حصے اللہ تعالیٰ نے تجارت یا کاروبار میں رکھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی بڑی گلوبل کمپنیاں بنانے کی بصیرت و ہمت عطا کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وطن سے غربت و افلاس و بے روزگاری کے مرض پہ اپنے کاروبار کے ذریعے قابو پانے کے توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاشی غلامی سے آزاد فرمائے آمین۔

Facebook Comments HS

One thought on “آخر ہم کیوں نہیں؟”

  • 10/01/2025 at 6:42 شام
    Permalink

    سر، آپ کی یہ تحریر بہت ہی جاندار اور سوچنے پر مجبور کرنے والی ہے۔ آپ نے جو انبیاء کرام کی معاشی سرگرمیوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجارت کے حوالے سے بات کی ہے، وہ واقعی ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ یہ نہ صرف دین کے اصولوں کو سمجھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے، بلکہ آج کے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک رہنمائی بھی ہے۔ ان باتوں پر غور کرنا ہم سب کی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی اپنی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں۔ اللہ ہمیں اس سوچ کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Comments are closed.