تحفظ خاندان وقت کی اہم ضرورت


خاندان کسی بھی معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ ہے جس معاشرے کا خاندانی نظام جتنا مضبوط ہو گا وہ معاشرہ اتنا مضبوط اور ایک درست سمت کی طرف گامزن رہے گا اور جس معاشرے میں خاندانی نظام جتنا کمزور ہو گا وہ معاشرہ اتنا ہی تنزلی کا شکار رہے گا۔ کسی بھی معاشرے میں مادی کلچر (یعنی انسانی سہولیات کے وسائل جنہیں ٹیکنالوجی بھی کہتے ہیں ) بہت تیزی سے ترقی کرے اور غیر مادی ثقافت (جس میں تمام انسانی اقدار بھی شامل ہیں ) ست روی کا شکار ہوں اس معاشرے میں ایک ثقافتی خلا پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں نہ ختم ہونے والی سماجی بیماریاں اور نفسیاتی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کے تدارک کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔

آج ہم بحیثیت قوم ثقافتی خلا اور روحانی تنزلی کا شکار ہیں اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں آج انسان کی مادی ترقی دیکھ کر انسانی عقل ششدر رہتی ہے کہ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں انسان نے حیرت انگیز ایجادات کر کے یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنی آسانی کے لیے کوئی بھی چیز مسخر کر سکتا ہے لیکن معاشرے کو وہ انسانی اقدار نہیں سمجھا سکا کہ کیسے ان مسخر شدہ چیزوں کو انسانی فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے بجا کہا تھا

ڈھونڈھنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

مندرجہ بالا کیفیت کے نتیجے میں ایک ثقافتی خلا پیدا ہوا اور معاشرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ اب ایسے میں من حیث القوم ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ قوم کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک مثالی معاشرہ دے سکیں جس کے اندر ہماری آنے والی نسلیں ذہنی، روحانی و نفسیاتی مسائل سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو واضح طور پر انسانیت کے زوال کی بدترین مثال پیش کرتے ہیں۔ چاہے وہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے خودکشی کا رجحان ہو، قتل ہو یا ریپ، اغوا ہو یا نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے بے راہ روی کا رجحان ہو سب انسانی معاشرے کی تنزلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

بے شمار ایسے واقعات ہیں جو معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، جن کا احاطہ ایک تحریر میں ممکن نہیں ہے۔ جہاں معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر ادارے میں اصلاح کی از حد ضرورت ہے وہاں خاندانی نظام کی بگڑتی صورتحال کو درست کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس ترتیب اور منظم طریقے سے پاکستان میں خاندانی نظام کو خراب کیا جا رہا ہے اس پر صاحبان فکر اور ارباب اقتدار کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے اس وقت دعا زہرا، نمرہ کاظمی اور دینا کا کیس قابل ذکر ہیں۔ خصوصاً دعا زہرا کا کیس جو اس وقت میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ دعا زہرا کے کیس نے ہمارے معاشرے کی اصل ساخت اور ذہنیت کو آشکار کیا ہے۔ ہم نام نہاد مسلمان کتنی اخلاقی پستی کا شکار ہیں اس کو جاننے کے لیے دعا زہرا کا ایک کیس کافی ہے۔ اس کیس میں مرکزی کردار والدین کا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ سماجی تربیت کو روز اول سے اپنے برنامے میں شامل رکھیں۔

اولاً والدین کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس خاندانی نظام کو بچانے کے ایسی حکمت عملی اپنائیں اور ایسی تربیت کریں کہ شرمندگی کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔ فرض محال اگر کوئی اولاد ایسی نافرمان نکلتی ہے تو معاشرے کے دوسرے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کریں تاکہ خاندانی نظام بچایا جا سکے۔ دعا زہرا کے کیس میں پاکستان کے بہت سے اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

مثال کے طور پر ایک بچی گھر سے غائب ہو کر ہفتوں تک لاپتہ رہتی ہے اور والدین کی طرف سے مطلع کرنے کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے ایک کم سن بچی کراچی سے لاہور پہنچ جاتی ہے لیکن کسی ایجنسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف والدین ذمہ دار ہیں یا ٹیکسی ڈرائیور؟ نہیں معلوم؟ ایک بچی بغیر ولی و وارث کے نکاح کرتی ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے ولی و وارث کے بغیر نکاح جائز نہیں لیکن نکاح پڑھانے والے دو نمبر مولوی سے پوچھنے والا کوئی نہیں اس کو سزا نہیں ملتی۔

ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں نکاح کو فوراً قبول کر کے کیا پیغام دے رہی ہیں یہ قابل غور و قابل افسوس ہے۔ مختصراً یہ کہنا مشکل نہیں کہ ملک کی عدالتیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اب قوم کی وہ تمام بیٹیاں جو گھر سے والدین کو رسوا کر کے بھاگ جائیں ہم ان کے تحفظ کے لیے کھڑی ہیں ان فیصلوں سے خاندانی نظام جتنا کمزور ہو چکا ہے اور مزید کتنا کمزور ہو گا اس کا اندازہ لگانے کے لیے اہل علم اور ارباب اختیار کو غور کرنا ہو گا ورنہ خاندان ٹوٹتے رہیں گے اور ہم ہاتھ ملتے رہیں گے۔

جہاں خاندانی نظام کو کمزور کرنے میں دیگر اداروں کا کردار ہے وہاں میڈیا کا کردار بھی بہت منفی ہے۔ جہاں ایسی غیر اسلامی و غیر شرعی شادیوں کو نشان عبرت بنانا تھا وہاں کچھ سستی شہرت کے دلدادہ میڈیا پرسنز نے اپنی ریٹنگ بڑھانے اور چند ٹکوں کے عوض اس قبیح فعل کو بہادری کے طور پر پیش کر کے نوجوان نسل کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ خاندانی نظام کی جھنجھٹوں میں پڑنے سے بہتر ہے مدر پدر آزاد ہو کر والدین کو رسوا کریں۔ اس کیس میں مذہبی اداروں کا کردار بھی افسوس ناک ہے کسی بھی مفتی، واعظ اور علامہ کو یہ توفیق نہیں ملی کہ اس طرح کی مفسد اور قبیح شادی کی مذمت کر سکیں اس عمل سے یوں لگا کہ خاندانی اور اسلامی روایات جہنم میں جائیں آپ کا جب دل چاہے خاندان کو رسوا کریں اور اپنے نفس پرستی اور ہوس رانی کی آگ بجھائیں۔

معاشرتی اداروں کے اتنے منفی کردار کے بعد اس خاندانی نظام کو بچانا یقیناً ایک آسان عمل نہیں ہے لیکن اہل علم اور متدین افراد کو اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے ایک منظم انداز میں کام کرنا ہو گا اور قانون بنانے والے اداروں کو یہ بات سمجھنا ہو گا کہ وہ ایسی قانون سازی کریں کہ خاندانی نظام سے کھلواڑ کرنے والے نشان عبرت بن جائیں اور کسی کی جرات نہ ہو کہ وہ سر عام اسلام اقدار و قوانین کی دھجیاں اڑاتا پھرے جس طرح زینب قتل کیس میں قوم کے پریشر سے قاتل کو مختصر عرصے میں نشان عبرت بنایا گیا اس طرح کے فیصلوں کی اشد ضرورت ہے وما علینا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر جعفر امان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments