رجحان ساز شعری مجموعے ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کی تقریب رونمائی کی کتھا

خیبر پختونخوا کی اردو شاعری پر بالعموم دو شعری مزاج کے اثرات نظر آتے ہیں۔ ایک رومانوی طرز احساس اور دوسرا ترقی پسند نظریۂ شعر۔ یہاں پر ایسے شعرا بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ جو صرف مشاعرے میں داد ہی کو شاعری کی معراج سمجھتے ہیں۔ مشاعرے کی شاعری جب کتاب پر آتی ہے۔ تو وہ اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کی شاعری کا مزاج جدیدیت سے ناآشنا رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مرحوم غلام محمد قاصر یہاں کے آخری بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔جنہوں نے ستر کی دہائی کے مخصوص نو کلاسیکی لہجے کے زیر اثر شعر کہے۔ اکیسویں صدی میں خیبر پختونخوا کی شاعری کی روایت کی بنیاد سازی پر نظر ڈالیں۔ تو اسحاق وردگ اکیسویں صدی میں سامنے آنے والے شعرا میں سب سے منفرد شعری موضوعات کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ وہ غلام محمد قاصر کے بعد ناصرف اٹک پار بلکہ سرحد پار بھی اپنے جدید لہجے کی وجہ سے توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ سرحد پار کے معتبر ادبی رسائل میں ان کا کلام مسلسل چھپ رہا ہے۔
عہد حاضر کے سب سے بڑے شاعر اور شاعری کو کڑی نظر سے دیکھنے والے نقاد جناب ظفر اقبال نے بھی گزشتہ کئی برسوں میں اپنے مقبول ادبی کالم میں اسحاق وردگ کی غزلیں بطور انتخاب شائع کی ہیں۔ اسحاق وردگ کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے شعری مجموعہ شائع کرنے سے پہلے ایک بھرپور شعری فضا بنائی۔ یہ خوش نصیبی بہت کم شعرا کے حصے میں آتی ہے کہ شعری مجموعہ آنے سے پہلے ان کے اشعار نہ صرف ایک مخصوص لوکیل میں زبان زد عام ہوں بلکہ سرحد پار اور پڑوسی ممالک میں بھی اس کی گونج سنائی دے۔
بلاشبہ غلام محمد قاصر کے بعد اسحاق وردگ کے حصے میں یہ خوش نصیبی آئی ہے۔ اسحاق وردگ نوجوان ہیں اور نوجوان شعرا کے پاس روایتی رومانی موضوعات میں بھٹکنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن انھوں نے جدید حسیت اور موضوعات کو اپنا کر اپنی الگ راہ متعین کی۔ اسحاق وردگ نے سخن سرائی کو سنجیدگی سے اپنایا اور اس کے لیے انھوں نے اپنی نثر نگاری کو داؤ پر لگا دیا۔ کڑا انتخاب اور سمت کا تعین کرنا آسان نہیں ہے لیکن اسحاق وردگ زیرک نظر ہیں۔
شعریات خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے یادگار سال ٹھہرتا ہے کہ اس سال اسحاق وردگ کا پہلا شعری مجموعہ ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ شائع ہوا۔ جسے سنجیدہ ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ شعبۂ اردو گورنمنٹ سپیریئر سائنس کالج پشاور نے 31 مئی 2022 کو اس رجحان ساز شعری مجموعے کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا۔ تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار، خاکہ نگار پروفسیر خالد سہیل ملک (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج وڈپگہ پشاور) نے کی جبکہ مہمان خصوصی محقق، نقاد، ادیب ڈاکٹر سہیل احمد (پروفیسر شعبۂ اردو پشاور یونی ورسٹی) اور مہمان اعزاز پشتو کے معروف شاعر پروفیسر سید شاہ سعود (ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج پشاور) تھے۔
نظامت کے فرائض راقم قدرت اللہ خٹک (اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو گورنمنٹ سپیرئیر سائنس کالج پشاور کے حصے میں آئے۔ تقریب میں اردو زبان و ادب کے اساتذہ ڈاکٹر محمد رشید، ڈاکٹر بشیر احمد، پشتو زبان و ادب کے استاد ڈاکٹر شہاب عزیز اور فزکس کے پروفیسر ملک امداد کے ساتھ ساتھ طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں رباعی گو شاعر استاد نشاط سرحدی نے ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ اس محفل رونمائی میں ڈاکٹر سہیل احمد نے اپنے تنقیدی مضمون میں ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کو جدیدیت کا بنیاد گزار شعری مجموعہ قرار دیا۔
اور کہا کہ اسحاق وردگ نے خارجی اور داخلی کیفیات کو روانی کے ساتھ شعر کا موضوع بنایا ہے۔ کتاب میں صوفیانہ واردات کا گہرا اثر ہے۔ جس نے ان کی شاعری کو مابعدالطبیعاتی فکر عطا کی ہے۔ اسحاق وردگ کی غزل میں ایک ایسا کردار ابھرتا ہے جو ذات کے کرب میں مبتلا ہے۔ ان کو اپنی ذات تنہائی کا کوہ گراں معلوم ہوتی ہے۔ احساس تنہائی کے عالم میں وہ خود کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کرب میں ان کی حساسیت کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات کا عمل دخل بھی ہے۔
خصوصاً 9 / 11 کے بعد خطے میں دہشت گردی کے سانحات نے ان کے دل و جگر کو زخمی کر دیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد نے ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ میں سماجی شعور کے خد و خال کی طرف بھی اشارہ کیا۔ اور ان اشعار کے حوالے دیے جن میں سماجی شعور اور فرد کی نفسیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد نے اسحاق وردگ کی غزل میں فطرت پسندی کے نقوش کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ نئے سماج کی فطرت سے دوری کا دکھ ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کی شعریات کی اہم اکائی ہے۔
ان کے ہاں پرندوں، گاؤں سے دوری کے مضامین اسی کرب کا اظہار ہیں۔ گاؤں اور گاؤں کی تہذیب اسحاق وردگ کے لیے ایک ناسٹلجیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد نے اپنے مضمون میں اسحاق وردگ کی شاعری میں کہانی اور کردار کے تلازموں کو خیبر پختونخوا کی اردو غزل میں نئی رجحان سازی قرار دیا۔ اور اس رجحان کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق وردگ بنیادی طور پر ایک کہانی کار ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری کا منطقہ بھی کہانی اور کرداروں سے تعمیر ہوتا ہے۔
اور اس منطقے میں کہانی اور کردار کے مختلف رنگ بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اس تناظر میں ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کی شاعری جدید حسیات سے جڑی ہوئی ہے۔ جس میں سماج کی سچی کہانی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد نے اشعار کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر ان کی شاعری میں لطیف فضا کی تشکیل بھی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سہیل احمد نے ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کے اسلوب کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق وردگ نے جو غزل تخلیق کی ہے۔
اس میں زبان کا ذائقہ بھی بدلا ہوا ہے۔ ان کی لفظیات اپنی ساخت میں عام روایتی انداز سے مختلف ہیں۔ وردگ کی غزل موضوعاتی و اسلوبیاتی سطح پر تنوع کا مزاج رکھتی ہے۔ اور اس میں کئی منفرد رنگ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ممتاز افسانہ نگار ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اپنا تنقیدی مضمون ”عام ہو کے بھی خاص ہے صاحب“ پیش کرتے ہوئے اسحاق وردگ کو وجودیت اور احساس ذات کا شاعر قرار دیا۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے کہا کہ ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کا مطالعہ دراصل اردو شعری جدت اور جدت طرازی کا مطالعہ ہے۔
کہ وردگ خارج میں مظاہر کائنات اور اردگرد پھیلے ہوئے رشتوں میں اپنی ذات کی تلاش اور اہمیت کی کھوج لگانے والے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں تصور ذات سوالیہ نشان ہے۔ اور اسی لیے ان کے ہاں لفظ ”میں“ کے استعمال نت نئے زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کو محض مقامی تناظر میں دیکھنے سے پورا منظرنامہ نہیں کھلتا۔ یہ درون ذات پھیلی کائنات کا اظہاریہ بھی ہے۔ اور بیرون ذات لہر در لہر نیرنگیوں کا بیان بھی۔
وردگ نے موجودہ دور میں بے چہرگی کے عذاب کو بھی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اور فرد کے تشخص اور ذات کے گم شدہ اعتبار سے بھی شاعری کشید کی ہے۔ وردگ خواب دیکھنے والا شاعر ہے۔ ان کی غزل میں خواب اور تعبیر کے درمیان مبہم سی امید بھری فضا ہے۔ جس میں وہ مقامی اور عالمی سطح پر منفی رویوں کا محاسبے کو اپنا شعری منصب سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے بھی وردگ کی شاعری میں فطرت پسندی کی مختلف جہتوں کی سمت اشارہ کیا۔
”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کے اسلوبیاتی جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے کہا کہ یہ شاعری قادر الکلامی اور فکری پختگی کی عمدہ مثال ہے۔ اسحاق وردگ کے ہاں لفظی سطح پر ہی انفرادیت نہیں بلکہ وہ پورے شعر میں ایسی انوکھی بات کہ جاتے ہیں کہ وہ بڑے بڑے شعرا کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آتی۔ ان کی شاعری میں نئی فکری تازگی کی جھلک اپنا بھرپور احساس دلاتی ہے۔ وردگ کی لفظیات ان کی تخلیقی جدت اور انفرادیت کا اعلان کرتی ہیں۔
ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے کتاب ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کو روایت اور فکر و خیال کے تناظر میں رد تشکیل کی شاعری قرار دیتے ہوئے کہا کہ شعری روایت میں یہ کتاب نئی منزلوں کی بشارت ہے۔ پروفیسر اعجاز احمد نے اپنے تنقیدی مضمون ”اسحاق وردگ کی شاعری اور جدید حسیات“ میں اسحاق وردگ کے اسلوب کو تازہ کاری اور ہنروری کی عمدہ مثال قرار دیا۔ پروفیسر اعجاز احمد نے جدیدیت کے فلسفیانہ تناظر میں اسحاق وردگ کے ہاں جدید دور کے انسان اور سماج کی شکست و ریخت کے موضوعات کا جائزہ پیش کیا۔
اور کہا اسحاق وردگ کی شاعری میں جدیدیت کا رجحان کافی نمایاں ہے۔ وردگ نے اپنی ذات کو ایک استعارے اور علامت کے طور پر شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اور اس نئے موضوعات کو شعر کا حصہ بناتے ہوئے فنی تقاضوں اور شعری جمالیات کی پاس داری کی ہے۔ پروفیسر اعجاز احمد نے کہا ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ میں نئے خیالات اور نئے موضوعات کو اشاریت اور رمزیت میں پیش کیا گیا ہے۔ اور جہاں جہاں وردگ کی شاعری میں ابہام نظر آتا ہے۔
تو یہ شعری حسن کی تشکیل کرتا ہے پروفیسر اعجاز احمد نے وردگ کی شاعری میں علامت نگاری اور استعارہ سازی کے تناظر میں کہانی، کردار، خواب، سورج، چاند، فلک، خسارہ، زمین اور دیگر لفظیات کی عمدہ بنت کو سراہا۔ اور کہا کہ وردگ کے ہاں عصری شعور نے پشاور پر گزرنے والی قیامت کو روانی کے ساتھ شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اسحاق وردگ نے اپنی ریاضت اور مستقل مزاجی سے اپنی شاعری کو منوایا ہے۔ اور ان کے پہلے شعری مجموعے نے ان کے اسلوب کی انفرادیت نشان دہی کر دی ہے۔
کئی پشتو شعری مجموعوں کے خالق پروفیسر سید شاہ سعود نے اپنے تجزیے میں کہا کہ اسحاق وردگ جدید حسیات سے واقف شاعر ہیں۔ آج بھی شعرا کی اکثریت پچھلے ادوار کے موضوعات اپنی شاعری میں دہرا رہے ہیں۔ ان حالات میں وردگ کا شعری مجموعہ ردتشکیلیت، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے رویوں کا عکاس ہے۔ جو پشاور کی اردو شاعری میں نیا رجحان ہے۔ وردگ کی شاعری کی ان ہی محاسن نے ان کو سرحد پار کے ادبی حلقوں میں مقبولیت دی ہے۔ اور اسی لیے ان کو پڑھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ میسر آیا ہے۔
وردگ سامنے کی لفظیات سے نئی حسیات تخلیق کرنے والے شاعر ہیں۔ تقریب کے آخری حصے میں صدر محفل پروفیسر خالد سہیل ملک نے ڈاکٹر اسحاق وردگ کا خاکہ پڑھا اور ان کی شاعری اور شخصی خد و خال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”اسحاق وردگ جدید دور کا شاعر ہے۔ اسے ادراک ہے کہ جدید دور کے شعر کے تقاضے کیا ہیں۔ شاعری اسحاق وردگ کی حتمی ترجیح ہے۔ پاک و ہند کے ممتاز ادبی رسائل میں ڈاکٹر وردگ کی شاعری چھپتی ہے۔ پشاور کے کئی شاعروں پشاور کے محدود حلقے پر ہی قناعت کی۔ اس لیے وہ پشاور سے باہر نہیں جا سکے۔ جبکہ اسحاق وردگ نے ریاضت، مطالعے اور نئی رجحان سازی کے ذریعے دور دور تک اپنی آواز پہنچائی۔

