نظام بچائو، عوام کو عزت دو


تصورات کی دنیا کتنی دلکش اور حسین ہے۔ نہ خیالات پر ٹیکس لگتا ہے اور نہ ہی خواب دیکھنے پر ڈیوٹی۔۔۔ نہ خوابوں کے محل تعمیر کرنے پر خرچہ نہ ہی خیالی پلاو بنانے میں دقت۔۔۔

مگر اب خواب بھی سستے نہیں رہے کہ نیند ہی نہیں آتی۔ نیند آئے گی تو خوش کن خواب ہوں گے۔ یہ ’رات بھر نیند کیوں نہیں آتی‘ صرف غالب کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو مہنگائی اور مستقبل کے خدشات کا شکار ہے۔

انقلاب فرانس کا یہ جملہ تاریخ کے اوراق میں آج بھی رقم ہے کہ ٹیکسوں، بے روزگاری، غربت، مذہب اور طاقتور حلقوں کے ستائے عوام کے دکھ کی روٹی اور سکھ کے سالن سے لاعلم ملکہ یہ کہتی سنائی دی کہ روٹی نہیں تو کیا ہوا عوام کیک اور پیسٹری کھا کر پیٹ کی آگ بجھا کیوں نہیں لیتے؟

صورتحال آج بھی مختلف نہیں کہ کبھی چائے کی ایک پیالی کم کرنے اور کبھی ایک روٹی کم کھانے کے مشورے پھر اسی دور کی جانب لے جاتے ہیں۔

محلوں میں فانوس کی روشنی تلے بسنے والے غریب کی کٹیا کے جلتے بجھتے دیے کا غم کیسے جان سکتے ہیں، بھرے پیٹ انقلاب کے نعرے لگانے والی خالی آنتوں کی آوازوں کو کیسے سن سکتے ہیں۔ جھوٹے وعدے کرنے والے رہنما بچوں کی سچی خواہشوں کو جھوٹی تسلیوں سے بہلانے والے والدین کے درد کا احساس کیسے کر سکتے ہیں۔

معاشی بحران کے ذمہ داران خاکی ہیں یا نوری، مستقل حکمران ہیں یا عارضی، ماضی قریب کے حکمران ہیں یا بعید کے۔۔۔ ذمہ دار تین سو کنال میں رہتے ہیں یا سرکاری محل میں، سوال یہ ہے کہ دن بہ دن کمزور معیشت نیوکلئیر ریاست کے باسیوں کو انجانے معاشی خوف کا شکار بنا رہی ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست کہ آگے بڑھنے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھنا ضروری ٹھہرا کہ ہم نے خود کے ساتھ کیا کیا ہے؟

ہم اپنی بربادی کا نوحہ پڑھتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا احاطہ بھی کر لیں تو کیا ہی اچھا ہو گا۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے پتھر کے ہو جانے کا خوف مستقبل کے خدشات کا راستہ نہ روک لے اس کا ادراک اب کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ستر برس پیچھے جانے کی قطعا ضرورت نہیں۔ گذشتہ بیس سال کی پالیسیوں کا احاطہ کافی ہو گا۔

جغرافیائی مجبوریوں کو بہانہ بنا کر کہاں کہاں معاشی خودمختاریوں کا سودا ہوا، کہاں کہاں مفادات کے تحفظ کے لیے ذاتی سودا بازی کی گئی اور آج بھی کی جا رہی ہے۔

کب کب بند کمروں میں بیٹھی اشرافیہ عوام کے فیصلے کرتی رہی، کیسے کیسے طاقتور ادارے عوامی خواہشات کو کچلتے رہے، عوام کے نام پر خواص منتخب کیے جاتے رہے اور ہائبرڈ نظام کے ذریعے ملک تجربہ گاہ اور عوام لیباریٹری کے بے بس، بے اختیار بے زبان بنا دیے گئے۔ اس سچائی کا ادراک اب کرنا ہو گا۔

جناب! اب بھی وقت ہے کہ قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے جس میں ہر ادارہ اپنی خود احتسابی کرے اور ملک کی معاشی سلامتی کو لاحق خدشات کا جائزہ لے۔ سچائی کمیشن ماضی کی غلطیوں کا احاطہ کرے اور مستقبل کے میثاق معیشت کے ایک ایجنڈے کو تشکیل دے۔

اس سلسلے میں گذشتہ حکومت کی جانب سے کیے گئے آئی ایم ایف معاہدے کو قانونی تقاضوں کے عین مطابق پارلیمان میں پیش کیا جائے تاکہ عوام حقائق سے آشنا ہوں۔

نظام سے بیزار عوام کو امید دلانے کی ضرورت ہے۔ حالیہ کراچی کے انتخابات یا عمران خان جیسے ’مقبول رہنما‘ کی احتجاجی کالوں میں عوام کی عدم دلچسپی اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ عوام نظام سے نالاں ہیں۔

اس سے پہلے کہ بھوکے عوام محلوں پر ٹوٹ پڑیں، سیاسی اور طاقتور اشرافیہ الزام کی سیاست سے نکل کر عملی معاشی پالیسی ترتیب دے، نظام بچائے اور عوام کو عزت دے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments