سو سال قبل ایجاد ہونے والا بلڈوزر کس طرح انڈیا میں جبر کا نشان بن گیا؟


A bulldozer is being used to demolish the illegal structures of the residence of Javed Ahmed, a local leader who was allegedly involved in the recent violent protests against Bharatiya Janata Party (BJP) former spokeswoman Nupur Sharma's
مسلمان سیاسی کارکن جاوید محمد کے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا
بلڈوزر کی ایجاد سو سال قبل ہوئی اور دنیا بھر میں یہ تعمیراتی کاموں کے استعمال کیا جاتا ہے جن میں گھر، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ بلڈوزر انڈیا کی انتہا پسند ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے ہاتھوں میں اقلیتی مسلم برادری کے گھروں اور روزی روٹی کے ذرائع کو تباہ کرنے کا ہتھیار بن گئے ہیں۔

کھدائی کرنے والی یہ بڑی سی دیوقامت مشین انڈیا میں کہیں اور اتنی متحرک نظر نہیں آ رہی جتنی یہ انڈیا کی سیاسی لحاظ سے اہم شمالی ریاست اتر پردیش میں دکھائی دے رہی ہیں۔

گذشتہ اتوار کو بلڈوزر ایک مرتبہ پھر پریاگ راج شہر (سابقہ الہ آباد) میں متحرک نظر آئے جہاں حکام نے سیاسی کارکن جاوید محمد کے گھر کو چند لمحوں میں مسمار کر دیا اور الزام لگایا کہ یہ مکان غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس دعوے کی جاوید محمد کے اہل خانہ نے تردید کی ہے۔

ناقدین نے کہا کہ اس مکان کو مسمار کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ مبینہ طور پر غیر قانونی تھی بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاوید محمد حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے اور انھیں اس کی سزا دی گئی۔

جاوید محمد کا گھر گرائے جانے سے ایک روز قبل پولیس نے انھیں گرفتار کیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ بی جے پی کے سابق ترجمان نپور شرما کی جانب سے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصروں کے خلاف مسلمانوں کے شہر میں پرتشدد مظاہروں کے پیچھے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں۔

اس سے قبل نپور شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا لیکن مظاہرین ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بی جے پی رہنماؤں نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قانون کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔‘

بی جے پی مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں کی مسمار کرنے کی مہم کا موازنہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی اسی نوعیت کی کارروائیوں سے کیا جا رہا ہے۔ انڈیا کے اندر ان کارروائیوں پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں اس پر خبریں شائع ہو رہی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری کارروائیوں پر قانون کی ایک مہینے سے چادر چڑہانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور قانون کی روح کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔

انتہائی غیر معمولی طور پر انڈیا میں سابق ججوں اور ممتاز قانون دانوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے بلڈوزروں کا استعمال ناقابل قبول اور قانون کی بالادستی کے صریحاً خلاف ورزی ہے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے استدعا کی کہ مسلمانوں کے خلاف سرکاری جبر اور تشدد کو بند کیا جائے۔

Yogi Adityanath's supporters with toy bulldozers

یوگی آدتیہ ناتھ کے حمایتی ان کی انتحابی ریلی میں بلڈوزر کے کھلونے لے کر شریک ہوئے

انڈین ایکسپریس اخبار میں سخت الفاظ میں لکھے گئے کالم میں سابق وفاقی وزیر کپل سبل نے لکھا کہ ‘بلڈوزر کی غیر قانونی ڈھانچوں سے کوئی مناسبت نہیں ہے بلکہ اس کی مناسبت اس بات سے ہے کہ میں کون ہوں اور میں کس کے حق میں کھڑا ہوں۔’

"میں عوامی سطح پر جو کچھ کہتا ہوں اس کی مناسبت ہے۔ اس کی مناسبت میرے عقائد، میری برادری، میرے وجود، میرے مذہب سے ہے۔ اس کی میری اختلاف رائے کی آواز سے مناسبت ہے۔

جب ایک بلڈوزر میرے گھر کو زمین پر گرا دیتا ہے تو وہ نہ صرف اس ڈھانچے کو مسمار کرنا چاہتا ہے جو میں نے تعمیر کیا تھا بلکہ بولنے کی میری ہمت بھی مسمار کرنا چاہتا ہے۔ "

بلڈوزر کے استعمال کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے اور اعلی عدالت نے کہا ہے کہ "ان کا استعمال قانون کے مطابق ہونا تھا اور انتقامی نہیں ہوسکتا۔’

اس سال کے اوائل میں جب میں اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی کوریج کر رہی تھی تو میں انتخابی مہم میں کچھ مناظر دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ اس وقت وزیر اعلی یوگی آدتیا ناتھ دوبارہ منتخب ہونے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ وہ انتخابات جیتے اور اب اپنی دوسری مدت پوری کر رہے ہیں۔

ایک جلسے میں ان کے حامی کا ایک گروپ پیلے رنگ کے کھلونے کے بلڈوزر لے کر آیا تھا۔

کھدائی کرنے والی مشینیوں کے پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ماڈل ہوا میں لہراتے ہوئے انہوں نے ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے رقص کرتے ہوئے نعرے بلند کیے ’بلڈوزر والا بابا پھر سے آئے گا۔‘

’بلڈوزر بابا‘ مقامی پریس کی طرف سے مسٹر آدتیہ ناتھ کو دیا گیا نام تھا، لیکن یہ ان کے مرکزی حریف اکھلیش یادو کے ایک ریلی میں استعمال کرنے کے بعد پکا ہو گیا۔

A protest in Delhi against demolitions

ناقدین کا کہنا ہے کہ بلڈوزروں کو مسلمانوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

مسٹر یادو نے تو اسے تضحیک آمیز انداز میں استعمال کیا تھا، لیکن سینئر صحافی شرت پردھان کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی نے اسے اپنے فائدے میں بدل دیا ہے کیونکہ اس سے ان کے مضبوط شخص کے امیج میں اضافہ ہوتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ بہت سے قصبوں میں مسٹر آدتیہ ناتھ کے انتخابی جلسوں میں بلڈوزر کھڑے کیے جاتے تھے اور ان کے جیتنے کے بعد ان مشینوں کی انتخابی کامیابی پر جشن میں ریاستی اسمبلی کی عمارت کے سامنے پریڈ کرائی گئی۔

سینئر صحافی آلوک جوشی کا کہنا ہے کہ مسٹر آدتیہ ناتھ نے پہلی بار بلڈوزر کو کسی کو سزا دینے کے لیے دو سال قبل بدنام زمانہ مجرم وکاس دوبے، جس پر آٹھ پولیس اہلکاروں اور گینگسٹر سیاست دان مختار انصاری کو قتل کرنے کا الزام تھا، ان کے گھر مسمار کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

ان کی جائیدادوں کو مسمار کرنے کی ویڈیوز قومی ٹیلی ویژن پر دوبارہ چلائی گئیں اور حکومت نے ‘مجرموں کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے‘ پر شہریوں کی طرف سے کچھ پذیرائی حاصل کی۔

مسٹر جوشی کا کہنا ہے کہ ’اب اسے اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین خصوصا مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے حربے کے طور پر تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

سہارنپور اور پریاگ راج میں انہدام سے قبل مسٹر آدتیہ ناتھ نے ایک میٹنگ کی صدارت کی جہاں انہوں نے کہا کہ بلڈوزر ’مجرموں اور مافیا‘ کو کچلتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: ’پولیس کریک ڈاؤن میں مسلمانوں کے گھر منہدم کرنا غیر قانونی ہے‘

’بلڈوزر کی سیاست‘ پر شاہین باغ ایک بار پھر خبروں میں

‘زیادہ پریشان کیا گیا تو میں خود کشی کر لوں گی’

’یوگی ادتیہ ناتھ خدا نہیں ہیں‘

مسٹر پردھان کا کہنا ہے کہ ’مضبوط انتظامیہ کی علامت‘ سے حکومت نے اب بلڈوزروں کو ’ایک طاقتور ہتھیار‘ میں تبدیل کر دیا ہے، جس نے ملک کے قانون کو ختم کر دیا ہے اور اسے مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت انگیز سیاست کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

’ایک غنڈہ برتاؤ اس طرح کرتا ہے۔ یہ کہنے کے مترادف ہے، ’تم مجھ پر پتھر پھینکو، میں تمہارا گھر مسمار کر دوں گا۔ میں آپ کے پورے خاندان کو سبق سکھادوں گا۔‘

’لیکن ملک کا قانون آپ کو کسی کی جائیداد پر بلڈوزر چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر خاندان کا کوئی فرد قتل کرتا ہے تو کیا آپ اس کے لیے پورے خاندان کو پھانسی دے سکتے ہیں؟ لیکن یہ ایک ایسی حکومت ہے جو استغاثہ، جج، جیوری اور جلاد کے طور پر کام کر رہی ہے۔‘

بلڈوزروں کے استعمال کے نتیجے میں عالمی سطح پر شور مچ سکتا ہے لیکن مسٹر جوشی کا کہنا ہے کہ اس سے مسٹر آدتیہ ناتھ کو بے پناہ سیاسی فائدہ ہوا ہے اور یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے منظوری بھی حاصل کرلی ہے۔

گذشتہ دسمبر میں ریاست کے دورے کے دوران مودی نے کہا تھا، ’جب بلڈوزر مافیا کے اوپر سے گزرتا ہے۔۔۔ یہ غیر قانونی عمارت کے اوپر سے گزرتا ہے، لیکن جو شخص اس کی پرورش کر رہا ہے وہ درد محسوس کرتا ہے۔‘

وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد ریاست مدھیہ پردیش اور دارالحکومت دہلی میں سال کے اوائل میں مذہبی تشدد کے بعد بلڈوزر کا استعمال کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور چھوٹے کاروباروں کو تباہ کرکے غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

’کوئی عدالتی حکم یہ نہیں کہتا کہ کسی کا گھر مسمار کر دیا جائے، چاہے اس نے کوئی جرم کیا ہو اور جرم ثابت ہونے کے بعد بھی۔ جوشی کہتے ہیں کہ چنانچہ جب حکام بلڈوزر بھیجتے ہیں تو اس میں بنیادی طور پر ایک سیاسی پیغام ہوتا ہے۔ جو کوئی بھی ہمارے خلاف احتجاج کرے گا اسے بلڈوز کر دیا جائے گا۔‘



Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp