چائے: جناب احسن اقبال نے کیا غلط کہا؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ فیشن اور مجبوری بن چکا ہے کہ ہم نے ہر حال میں اپنے مخالف کی بات کی مخالفت ہی کرنی ہے چاہے وہ بات کتنی ہی معقول کیوں نہ ہو۔ اور اگر اس مقصد کے لیے آپ نے مبینہ طور پر کچھ بندے پیسے دے کر بھرتی بھی کر رکھے ہوں تو سمجھو کہ مخالف زندہ درگور ہو گیا۔ ان ”آن ڈیوٹی“ اصحاب کے علاوہ رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے نام نہاد ”نظریاتی“ بھی اس مہم میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایک اچھے بھلے بندے کو برا بنا کر اس کو اس کے گھر تک چھوڑ کے واپس آتے ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال بھی چند روز پہلے ایک ایسی ہی بات کر کے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ”مجاہدین“ کی سنگ باری کی زد میں آ گئے۔ طوفان میں اگرچہ کچھ کمی آ چکی ہے، لیکن ہتھیلیاں ابھی بھی کنکریوں سے خالی نہیں ہوئیں، موقع ملتے ہی پھر پھینک دیتے ہیں۔ جناب احسن اقبال نے ملک کی کمزور معاشی صورت حال کے پیش نظر قوم سے چائے کے استعمال میں کمی کی اپیل کی تھی، اور اس کے پیچھے ایک خاص وجہ تھی:
دستیاب مستند اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 سے لے کر جون 2021 تک یعنی گزشتہ مالی سال کے دوران ہم نے 1300 کروڑ یعنی 13 ارب روپے کی چائے کی پتی درآمد کی۔ فرض کریں ہمارے اندر راتوں رات کوئی انقلاب برپا ہو جاتا ہے یا ہماری جینز میں کوئی ایسی تبدیلی آ جاتی ہے کہ ہم جناب احسن اقبال کی بات کو معقول سمجھتے ہوئے واقعی چائے کا استعمال پہلے کی نسبت نصف کر دیتے ہیں تو ذرا غور کریں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
ہم ایک سال میں تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کی بچت صرف چائے کے کم استعمال کی وجہ سے کر سکیں گے۔ ہمارے خیال میں پاکستان جیسے ملک میں صرف ایک چیز کے استعمال میں کمی سے اتنی بچت کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ اگر سیاسی مخالفت اور مخالف کی ایسی تیسی کرنے کی مبینہ با معاوضہ ڈیوٹی کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ کر سوچا جائے تو انہوں نے کون سی غلط اور انوکھی بات کی کہ سوشل میڈیا پر ان کی درگت بنا دی گئی؟ ہنگامی حالات میں افراد اور حکومتوں کی طرف سے ایسے اعلانات اور اپیلیں معمول کی کارروائی ہی سمجھی جاتی ہیں۔
پنجاب کے ایک ادیب، بیوروکریٹ اور سابق وزیر اعلیٰ (شاید نگران) شیخ منظور الٰہی اپنی کتاب ”سلسلۂ روز و شب“ میں لکھتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی تعمیر نو کے لئے توانائی بچانے کی ضرورت پڑی تو بجلی سے پانی گرم کر کے نہانے کی ممانعت کر دی گئی۔ بقول ان کے جرمنی میں مقیم ان کے بھائی نہانے کی شدید ضرورت کے وقت اسی حکم نامے کی وجہ سے جنگل میں جا کر لکڑیوں سے پانی گرم کر کے نہاتے۔ ہمارے ہاں کوئی ایسا حکم نافذ کیا جاتا تو پہلے اس کا مذاق اڑایا جاتا اور پھر دھڑلے سے اس کی خلاف ورزی کی جاتی۔ ابھی چند دن پہلے ایک برطانوی خاندان کی رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ ناموافق معاشی حالات کی وجہ سے وہ سب روزانہ نہانے کی بجائے باری باری ہفتے میں زیادہ سے زیادہ ایک بار نہاتے ہیں۔
ہمیں جناب احسن اقبال کی اپیل یا بیان پر صرف ایک ہی اعتراض ہے کہ وہ اپیل کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے صرف چائے ہی نہیں کچھ دوسرے حکومتی اخراجات میں کمی کے لئے عملی اقدامات کا نہ صرف اعلان کرتے بلکہ ان کا نفاذ بھی یقینی بناتے۔ عوام کو یہ بھی اعتراض ہے کہ صرف ہم ہی کیوں اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں، حکمران بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ یہ مطالبہ بالکل جائز اور وقت کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں خاص طور پر مغربی ممالک میں حکمران، افسران اور عوامی نمائندے بھی عوام کے ساتھ ”غم روزگار“ میں شریک ہوتے ہیں۔
دوسری جنگ کے دوران برطانیہ میں اگلے مورچوں میں لڑنے والے سپاہیوں اور افسران کو زیادہ مقدار میں انڈے فراہم کرنے کے لیے پورے ملک میں دوسری اشیاء کے ساتھ ساتھ انڈوں کی بھی راشننگ کرنی پڑی۔ گھر کے ایک فرد کو صرف ایک ہی انڈا مل سکتا تھا۔ وزیراعظم چرچل بھی اپنے حصے کا صرف ایک ہی انڈا حاصل کرنے کے مجاز تھے۔ ایک دن چرچل کو اپنے پسندیدہ اسپینش آملیٹ کے لیے پورا مرغی خانہ اپنے لیے حاضر کروانے کی بجائے اپنی بیٹی اور بیوی سے ان کے حصے کے انڈوں کا ہدیہ قبول کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس خاص آملیٹ کے لیے تین انڈوں کی ضرورت ہوتی تھی ( مقتدا منصور، ایکسپریس نیوز، 25 ستمبر 2016 ) ۔ اگر حکمران ایسے ہو جائیں تو پھر عوام بھی خوشی خوشی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
کسی معقول بات پر عمل کرنا یا نہ کرنا ایک الگ موضوع ہے لیکن اس کی مخالفت محض اس لیے کرنا کہ یہ ہمارے مخالف نے کی ہے، کسی بھی لحاظ سے قابل تعریف نہیں۔ یہاں تو مخالفت بھی ایسی ہوئی کہ اللہ کی پناہ۔ ان کی ٹرولنگ کرتے ہوئے ان کو بقراط، سقراط، ارسطو، افلاطون پتا نہیں کیا کچھ کہا گیا۔ ان کی میمز بھی بنائی گئیں اور اس مہم میں ”محمود و ایاز“ ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ یہی بات اگر عمران خان نے کہی ہوتی تو پھر مخالفت کرنے والے انہی اصحاب کے نزدیک یہ عقل و دانش مندی کا ایسا فرمان قرار پاتی کہ آسمانی صحیفے سے بس تھوڑی سی ہی کم ہوتی۔
نوٹ: ابھی تو شکر کریں کہ ہوٹلوں اور ڈھابوں پر چائے بنانے والے ہر دفعہ نئی پتی استعمال کرنے کی بجائے پرانی پتی بھی استعمال کرتے ہیں، ورنہ چائے کا درآمدی بل 13 ارب سے بھی بڑھ جاتا۔ جعلی پتی بنانے والے بھی ہمارے ”محسن“ ہیں کہ ان کی طرف سے ہونے والی مقامی سپلائی کی وجہ سے ہمارا قیمتی زرمبادلہ ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔


