جنت میں مجھے اپنے مجازی خدا کے ساتھ نہیں رہنا


مجھے جنت میں جانے کا بہت شوق ہے، لیکن جنت میں جانے کے لیے مرنا شرط ہے، اس لیے میں اکثر سوچتی ہوں کہ مجھے جلد مر جانا چاہیے۔ پھر خیال آتا ہے جب میں مروں گی تب میرے ساتھ کیا ہو گا۔ پتہ نہیں اچھا ہو گا یا برا، لیکن جو بھی ہو، جب مرنا طے ہے تو پھر بہتر ہے جلد ہی یہ کام ہو جائے۔ دن رات کی دعائیں آخر قبول ہوئیں۔ میں اپنے بیڈ پہ کروٹیں بدل رہی تھی کہ میری موت کا وقت آن پہنچا۔ اس سے پہلے کہ فرشتہ اجل میری روح قبض کرتا میں نے اس سے کہا۔

میں جانے کے لیے تیار ہوں لیکن مرنے سے پہلے میری بس ایک خواہش ہے۔ جنت میں مجھے اپنے زمینی ( مجازی ) خدا کے ساتھ نہیں رہنا، اس لیے مجھے ایک بار وہ دکھا دو جس کے ساتھ میرا جنت میں جوڑ بنایا جائے گا۔ فرشتہ اجل یہ سن کر حیران ہو گیا، لیکن مرنے والی کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے واپس چلا گیا۔ اب میں سوچ میں پڑ گئی کہ پتہ نہیں یہ کتنی دیر میں واپس آئے گا۔ اب خدا کرے جلدی آ جائے کہ اس شخص کے ساتھ رہتے رہتے تو اب دل بھی اوب گیا، حرام ہے جو کبھی میری کوئی بات مانی ہو۔

رج کے چول نکما شخص میرے پلے بندھ گیا، میں نے ساتھ لیٹے شخص کی پشت کو بیزاری سے گھورا۔ شکر کروں گی جان چھوٹے گی اس سے ہونہہ۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے اپنے زمینی (مجازی ) خدا سے رخ پھیر لیا۔ لیکن پھر سوچا کہ اتنی جلدی آنکھیں پھیرنا اچھا نہیں۔ کہ پتہ نہیں فرشتہ اجل کو واپس آنے میں کتنا عرصہ لگ جائے، آخر یہاں سے وہاں تک کا فاصلہ بھی تو اتنا زیادہ ہے۔ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ فرشتہ اجل آ گیا ایک جوان لیکر۔

میں نے اتنے سفید رنگ کا مرد زندگی میں پہلی بار دیکھا، یقیناً گولڈن پرل لگاتا ہو گا۔ کہا اتنا گورا مرد عجیب لگتا ہے، کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ فرشتہ اجل یہ سن کر چلا گیا۔ میں تصور جاناں میں مشغول ہو گئی۔ میرا جنتی پارٹنر بھلا کیسا ہو گا، ابھی یہ سوچنے ہی لگی تھی کہ فرشتہ اجل ’آ گیا پھر جوان لے کر ‘ ۔ سوچا ایک تو اسے چین نہیں۔ میں نے احسان جتانے والے انداز میں کہا باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن قد کا حساب تم خود لگا لو۔

فرشتہ اجل پھر چلا گیا، واپس آیا تو میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ کہا حضور آپ خود سمجھدار ہیں، گھاٹ گھاٹ بندے لینے (مارنے ) جاتے ہیں، خود ہی ایمانداری سے بتائیے یہ جچے گا میرے ساتھ۔ فرشتہ اجل نے برا سا منہ بنا کے میری طرف دیکھا، خدا جانے دل میں کیا کچھ کہا مجھے، کہ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ بہت کچھ کہا ہے۔ اب جو واپس آیا تو کیا دیکھتی ہوں، ہر رنگ اور مختلف قد کے نوجوانوں کی ایک خاص تعداد ساتھ تھی، سب کو ایک لائن میں کھڑا کیا اور خود کرسی پر تشریف رکھی، اور کہا اپنی پسند بتا دو۔ کچھ سوچ کر میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا۔

فرشتہ اجل جان نکالنے لگا تو میں نے کہا بات سنو، جب میری اتنی بڑی خواہش مان لی ہے تو ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری کر دو۔ بس مجھے یہ بتا دو کہ مجھے کفن کس طرح کا پہننے کو ملے گا۔ فرشتہ اجل نے میرا موبائل اٹھایا گوگل پہ جاکر کفن کے ڈیزائن نکالے اور کہنے لگا، لو ادھر سے کر لو پسند۔ کفن تو سارے ماٹھے ہی تھے۔ میں نے کہا کسی ڈیزائنر کے کفن نکالو۔ اس نے بہت سارے ڈیزائن دکھائے لیکن مجھے تو کوئی پسند ہی نہیں آ رہا تھا۔

میں نے کہا کوئی ورائٹی نہیں۔ وہ کہنے لگا تمھارے پاس آدھ گھنٹہ ہے جو پسند کرنا ہے کرلو پھر مہلت نہیں دینی۔ میں اتنی دیر میں دوسروں کو اوپر بھیج آؤں۔ میں نے کہا ہاں جاؤ جاؤ آرام سے آنا۔ وہ گیا تو میں نے شکر کیا۔ بھلا اتنی جلدی کچھ سلیکٹ ہوتا ہے۔ میں نے سارا گوگل چھان مارا کچھ نہ ملا۔ لیکن فرشتہ اجل پھر سے میرے سر پہ آ کر سوار ہو گیا۔ اس نے کہا تمھارا وقت ختم ہو چکا لیکن تمھارے نخرے ختم نہیں ہو رہے۔

پھر اس نے خود ایک کفن ڈیزائن کیا اور کہا یہ لیٹسٹ ڈیزائن میں نے جے ایس وائے کو بناتے دیکھا تھا، ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا۔ واقعی یہ کسی مشہور ڈیزائنر کا کفن ہی ہو سکتا تھا۔ وہ جان نکالنے لگا تو میں نے ڈرتے ڈرتے کہا بس ایک آخری معصومانہ سی خواہش۔ اس نے سوالیہ نظروں سیے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا بس اتنا بتا دو میری قبر کیسے آراستہ کی جائے گی۔ اب نیا سیاپا ڈال دو ، فرشتہ اجل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میری گلا دبا دے۔

قبر کی آرائش کو کیا کرنا ہے جاکر لیٹ ہی جانا تم نے۔ میرا ڈیزائنر کفن خراب ہو جائے گا، اور پھر وہ بھی تو آئیں گے۔ میں نے شرماتے ہوئے کہا۔ وہ کون؟ وہی جن کو ابھی ابھی دل دیا ہے۔ فرشتہ اجل کو مجھ پہ غصہ آنے لگا۔ تو میں نے کہا میں جانے کو تیار تو ہوں، ں بس یہ آخری فرمائش پلیززززز۔ ایک بار پھر گوگل پا جی سے رابطہ کیا گیا، وہاں ایک سے بڑھ کر ایک قبر تیار تھی۔ دل چاہا ساری قبروں میں باری باری لیٹ جاؤں۔

لیکن ملنی تو ایک ہی تھی۔ خیر دل پہ پتھر رکھ کے صرف ایک پسند کر لی۔ اب وہ میری روح قبض کرنے کو تیار تھا۔ میں بہت خوش تھی کہ اس جہان سے جان چھوٹی۔ جب میں مر گئی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی دیکھا میرا زمینی خدا رو رہا تھا وہ بھی میرے لیے ۔ مجھے اس پر بڑی ہنسی آئی ساری عمر مجھے رلاتے رہے ہو، بچو اب رو تم بھی۔ اس کے دھاڑیں مار مار کر رونے سے مجھے بڑی کمینی سی خوشی مل رہی تھی وہ چیختا اور میں خوش ہوتی۔ جب میرا جنازہ اٹھایا جا رہا تھا تو وہ کہہ رہا تھا، رک جاؤ میں نہیں جانے دوں گا۔

مجھے یاد آیا جب یہ رات کو باہر جاتا تھا تو میں بھی یہی کہتی تھی۔ لیکن یہ رکتا تھا، جو آج میں رک جاؤں۔ میرا زمینی ( مجازی ) خدا غم سے نڈھال تھا۔ میں قبر میں جاکر لیٹی تو سیدھے طرف کی کھڑکی کھول دی گئی اور آواز آئی، یہ تم ہو، یہ جنت ہے اور یہاں سدا سے پارٹی ہو رہی ہے۔ یہاں میرا استقبال اسی نے کیا جس کو اپنا دل دے کر بھیجا تھا۔ وہ جنت کے لباس میں وجیہہ لگ رہا تھا تو میں بھی کسی حور سے کم نہیں دکھ رہی تھی۔

میں نے آشتی گلابی میکسی پہنی، ساتھ ہیل والے سینڈل، سر پہ اونچا سا جوڑا کیا اور ہم جنت کلب میں چلے گئے۔ یہ کلب بہت خوبصورت تھا۔ اس میں مختلف جوڑے کپل ڈانس کر رہے تھے کچھ شراب طہور کے مزے اڑا رہے تھے۔ کچھ خواتین اور بہت ساری حوریں اکیلی بیٹھی تھی۔ لیکن یہ کیا ساتھ لے جانے والے نے مجھے ایک کونے میں بٹھایا اور وہاں بیٹھی کسی دوسری کو ڈانس فلور پر لے گیا۔ مجھے اس پر شدید غصہ آیا۔ دل پہ پتھر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ واپسی پہ اس سے کہا دو کلو آلو لے لو چل کر چپس بناتے ہیں۔ تو کہنے لگا رہنے دو اب سونے کا ٹائم ہے۔

میں جب بھی اس سے فرمائش کرتی وہ ٹال جاتا۔ میری ایک نہیں سنتا تھا۔ ایک دن اس سے کہا سامنے والے درخت سے کھانے کے لیے جامن تو لادو۔ کہنے لگا خود لے آؤ۔ لوگ محبت میں تارے توڑ کر لے آتے ہیں یہ میرے لیے جامن توڑ کر نہ لایا یہ کوئی بات ہے۔ اس کے دوسری حوروں سے چکر بھی چل رہے تھے۔ جب خوبصورتی اردگرد ہوگی تو مرد تو پھر بہکے گا نا۔ میں اب روتی رہتی۔ مجھے اپنا زمینی خدا یاد آنے لگا وہ لاکھ ہڈ حرام سہی، لیکن میرا تو تھا۔

اس کی ہمت نہیں تھی کہ دوسری لڑکیوں کی طرف دیکھ بھی جائے۔ یہ تو ہرجائی ہے، ہر حور کے پیچھے لپکتا۔ میں اب زمینی خدا کے لیے روتی رہتی کہ جیسا بھی تھا کمبخت وہی اچھا تھا۔ ایک دن میں رو رہی تھی کہ کسی غلمان نے آ کر خبر دی کہ مجھ سے کوئی ملنے آیا ہے۔ باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں میرا زمینی خدا میرے سامنے تھا۔ اسے دیکھتے ہی میں اس سے لپٹ گئی اور کہا شکر ہے تم آ گئے ورنہ زمانہ ادھر بھی بہت خراب ہے۔ پھر میں اور میرا زمینی ( مجازی ) خدا آسمان پر ہنسی خوشی رہنے لگے۔

Facebook Comments HS