بھائی بھائیوں کے درد بانٹیں


سکول میں ایجوکیشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے گورنمنٹ ایجوکیشن پالیسی میں سکول کے لیے کچھ انڈیکیٹرز متعین کرتی ہے جس کے دائرہ کار میں رہ کر اساتذہ نے بچوں کو تعلیم کی دولت سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے۔ ان ٹارگٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اور ان انڈیکیٹرز کی کامیاب حصولی کو چیک کرنے کے لیے ایجوکیشنل مینیجرز ان سکولوں کا مہینے میں کم از کم دو بار وزٹ کرتے ہیں۔ موصوف بھی اسی سلسلہ میں ایک سکول میں کوالٹی ایجوکیشن کے انڈیکیٹر کو چیک کرنے سکول میں داخل ہوا تو سکول کا ماحول کافی خوشگوار اور تعلیم دوست لگا۔ ہیڈ ٹیچر نے سکول کو بہت منظم اور احسن انداز سے مینیج کیا ہوا تھا۔

ہیڈ ٹیچر کو ساتھ لے کر جب ایک کلاس روم میں داخل ہوا اور کچھ بچوں سے گزشتہ دنوں میں پڑھائے ہوئے اسباق میں سے چند سوالات کیے جس پر زیادہ تر بچوں نے تسلی بخش جوابات دیے۔ ابھی سوال و جواب کا سیشن چل رہا تھا کہ اچانک میری نظر پانچویں کلاس کے ایک طالب علم کے ساتھ بیٹھے چھوٹے سے بچے پر پڑی جو کہ مضبوطی سے بڑے بچے کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔

یک لحظہ یہ سمجھا کہ بعض بچے ویسے بھی چھوٹے قد کے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ یہ بچہ بھی پنجم کلاس کا ہی طالب علم ہو لیکن ہاتھ تھامنے کے اس انداز نے مجھے تجسس میں ڈال دیا اور میں اس طالب علم سے پوچھنے پہ مجبور ہو گیا کہ یہ بچہ کون ہے؟ اس نے آپ کا ہاتھ کیوں تھاما ہوا ہے؟

جواب میں بچے نے بتایا کہ یہ میرا چھوٹا بھائی ہے جس نے گزشتہ دو دنوں سے سکول آنا شروع کیا ہے اور سارا دن میرے ساتھ ایسے ہی بیٹھا رہتا ہے۔ اس کے جواب نے یکبارگی مجھے بائیس سال پیچھے لا کھڑا کیا۔ جس منظر میں وہ چھوٹا بچہ میں اور بڑا بچہ میرے بڑے بھائی صاحب تھے۔ جب چھٹی کلاس میں پرائمری سکول سے نکل کر ہائی سکول میں گیا تو تقریباً پہلے پندرہ دن میں اپنے بھائی کے ساتھ ہی اس کی نویں کلاس میں ایسے ہی بازو پکڑے بیٹھا ہوتا تھا۔ یہی سوالات جو میں نے اس بچے سے پوچھے تھے بائیس سال پہلے میرے بھائی کے استاد نے میرے بارے میں پوچھے تھے۔

بھائی جب ایک منٹ کے لیے بھی کلاس سے باہر جاتا تھا تو مجھے اس ماحول سے ڈر لگنا شروع ہو جاتا تھا اور جب وہ میرے پاس ہوتا تھا تو میں بالکل نارمل رہتا تھا۔

اس انجان جگہ پہ میرا بھائی ہی سب کچھ ہوتا تھا لیکن نہ جانے کیوں عمر بڑھنے کے ساتھ فاصلے کیوں بڑھنے لگتے ہیں۔ وہ پیار، اعتماد اور تحفظ کا احساس ماند کیوں پڑ جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مادہ پرستی، خود غرضی اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اندھا کر دیتی ہے جس سے ہمارے مخلص اور قریبی رشتے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اس کج فہمی میں اس بھائی کے ساتھ کلام کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتے کہ جس کو کبھی اپنا سب کچھ مانتے تھے۔

اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنوں کو دور کر کے غیروں کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھنے لگتے ہیں لیکن مصیبت میں ہمیشہ اپنا بھائی ہی ہمارے کام آتا ہے۔ کیوں کہ آپ کی تکلیف کو حقیقی طور پر آپ کا بھائی ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے اپنے بھائیوں کو کبھی بھی اپنے سے دور نا ہونے دیں۔ یہی وہ حقیقی سہارے ہوتے ہیں جو ہمیشہ خوشی و غمی میں آپ کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ چھوٹے ہیں تو بڑے کا ادب کریں اور بڑے ہیں تو چھوٹے سے پیار کریں۔

Facebook Comments HS

One thought on “بھائی بھائیوں کے درد بانٹیں

  • 27/06/2022 at 9:26 شام
    Permalink

    Mashallah bht Alaa coloumn hai

Comments are closed.