اوریا مقبول جان: وہ خواب جو پہلے پکا مسلمان اور پھر گستاخ ہونے کی گواہی بنایا گیا


ہفتہ 10 نومبر 2018 کے روزنامہ 92 کے کالم میں اوریا مقبول جان ایک خواب کا ذکر کرتے ہیں۔ کالم کا عنوان ہے ”ایک گواہی جس کی بہت ضرورت تھی“ ۔ اب پہلے گواہی کا معاملہ بھی اسی کالم سے لیتے ہیں۔ حضرت اوریا مقبول جان اس کالم میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایمان کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں

”جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے تھوڑی دیر پہلے پروفیسر ساجد میر کے حوالے سے ایک بحث نے جنم لیا۔ اس خواب کو جاننے کے بعد میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔ لیکن اس دور میں اللہ نے ایک اور صاحب ایمان علامہ زاہد الراشدی کو یہ گواہی دینے کی طاقت عطا کی اور انہوں نے کہا میں ہمسائیگی کے سبب پروفیسر ساجد میر کے الزام کی تردید کرتا ہوں جو انہوں نے ایک راسخ العقیدہ مسلمان پر لگایا۔ میرا دل اطمینان سے بھر گیا، اس لیے نہیں کہ میں کسی کے ایمان کے بارے میں فیصلہ چاہتا تھا، بلکہ اس لیے کہ رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں ان کی موجودگی اور خواب کے سچ ہونے کے بعد یہ یقین ضروری تھا کہ یہ شک ختم ہو جائے اور کوئی ان کے ایمان کی تصدیق کر دے“

خواب کا ماجرا وہ یوں بیان کرتے ہیں

”بیس سے اکیس گریڈ میں جانے کے لیے ہمیں سٹاف کالج لاہور میں چھ ماہ کا ایک کورس کرنا پڑتا ہے اس کورس میں میرے ساتھ ایک بریگیڈئیر بھی تھے جو جرنیل پرموٹ ہونے کے لیے یہ کورس کر رہے تھے۔ اس کے بعد وہ آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر کے سربراہ مقرر ہوئے۔ ان کے ایک اور بریگیڈیئر دوست ایبٹ آباد میں بلوچ رجمنٹل سنٹر کے سربراہ تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب جنرل راحیل شریف کو فوج کا سربراہ مقرر ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا تھا۔ بلوچ رجمنٹل سنٹر کے بریگیڈئیر ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اہل نظر کا رابطہ رہتا ہے اور وہ خود بھی انتہائی باشرع اور متقی انسان ہیں۔ ایک دن میرے دوست بریگیڈیئر ان سے ملنے کے لیے ایبٹ آباد گئے تو وہاں کراچی کے ایک مشہور استاد بھی موجود تھے جن کی شہرت ہی تقویٰ و ریاضت کی بنیاد پر تھی۔ انہوں نے وہاں اپنا ایک خواب سنایا کہ میں نے خواب میں رسول اکرم ﷺ کی محفل دیکھی جس میں حضرت عمرؓ فوج کے کسی ’باجوہ‘ جرنیل کو ساتھ لے کر آئے اور بیٹھ گئے، رسول اکرم ﷺ نے اسے کچھ عطا کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو جرنیل نے بائیں ہاتھ سے اسے لینا چاہا، جس پر حضرت عمرؓ نے بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دایاں ہاتھ آگے کروایا اور رسول اکرم ﷺ جو کچھ عطا کرنا چاہتے تھے وہ دے دیا گیا۔ کیا عطا کیا گیا اس کے بارے میں صاحب خواب کو کچھ علم نہیں“

یوٹیوب پر 10 مئی 2020 کو رضوان جرار کو ایک انٹرویو میں وہ اس خواب کے دیکھنے کا وقت بتاتے ہیں، ”راحیل شریف ابھی نیا نیا بنا تھا چیف آف آرمی سٹاف“ ۔ جنرل راحیل شریف 29 نومبر 2013 کو آرمی چیف بنے تھے اور تین سال یعنی 29 نومبر 2016 تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

اوریا مقبول جان اس ویڈیو میں بیان کرتے ہیں کہ

”میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی دربار ہے، تو حضرت عمرؓ جو ہیں وہ ایک شخص کو لے کے آئے ہیں جس کا نام باجوہ ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں کوئی فائل دینا چاہتے ہیں تو وہ لیفٹ ہینڈ سے لیتا ہے تو حضرت عمرؓ اس کے ہاتھ پہ مارتے ہیں کہ سیدھا ہاتھ آگے کرو، تمہیں پتہ ہی نہیں کچھ۔ تو مجھے لگتا ہے کہ وہ جرنیل باجوہ ہے کوئی فائل اس کو دی گئی ہے۔ ۔ ۔ یہ باجوہ کے آرمی چیف بننے سے چار سال پہلے کی بات ہے۔“

ان خواب دیکھنے والے ولی اللہ کی جنرل باجوہ سے ملاقات کروائی گئی۔ ”تو انہوں نے کہا پروفیسر صاحب نے کہ یہ خواب میں نے دیکھا ہے۔ تو انہوں (جنرل باجوہ) نے کہا کہ اس سے آپ کیا مطلب لیتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جو فوج ہے نہ پاکستان کی، وہ بیسکلی ایک چھوٹی سی کسٹوڈین ہے، شاید آپ کو ذمہ داری، آپ چیف آف آرمی سٹاف بن جائیں گے۔ تین سال بعد باجوہ صاحب جو ہیں چیف آف آرمی سٹاف ہو گئے“

باجوہ خواتین و حضرات ذرا دل وغیرہ تھام لیں اور احتیاطاً تجدید ایمان کر لیں کیونکہ اسی انٹرویو میں حضرت اوریا مقبول جان یہ بھی فرماتے ہیں ”یہ باجووں میں سے واحد باجوہ ہے جو قادیانی نہیں ہے“ ۔

بعض ناقدین کہیں گے کہ منٹ بھر پہلے تو اوریا صاحب نے فرمایا تھا کہ خواب اس وقت دیکھا گیا تھا جب راحیل شریف نئے نئے چیف بنے یعنی تین سال قبل، اور محض منٹ بھر بعد اس کو جھٹلا دیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ خواب جنرل باجوہ کے چیف بننے سے چار سال قبل دیکھا گیا تھا، اور آخر میں پھر تین سال بعد آرمی چیف بنا دیا ہے، تو یا تو اوریا صاحب قصداً غلط بیانی کر رہے ہیں یا ان کی یادداشت جواب دے چکی ہے۔ تو بات یہ ہے کہ روحانی معاملات میں زمان و مکان کی ویسی قید نہیں ہوتی جیسی عام دنیاوی معاملات میں ہوتی ہے۔ اس لیے تین سال کے چار سال بھی بن سکتے ہیں اور چار پل بھی۔ کرامات کے ضمن میں ایسی مین میخ نہیں نکالنی چاہیے۔

کالم میں مندرج خواب اور اس انٹرویو میں موجود خواب میں ایک اور اہم فرق بھی ہے۔ کالم میں لکھا ہے کہ ”جرنیل نے بائیں ہاتھ سے اسے لینا چاہا، جس پر حضرت عمرؓ نے بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دایاں ہاتھ آگے کروایا“ ۔ جبکہ انٹرویو میں بتایا گیا ہے کہ محض بایاں ہاتھ پیچھے نہیں کیا گیا تھا بلکہ بائیں ہاتھ پر مار کر اسے پیچھے کیا گیا اور ساتھ ڈانٹ پلائی گئی۔

ایک بظاہر تازہ ویڈیو میں وہ فرماتے ہیں کہ ”یہ خواب بنیادی طور پر آج سے کوئی چھے سات سال پہلے دیکھا گیا تھا۔ میں پڑھ دیتا ہوں۔“ کالم پڑھتے ہوئے وہ اب فرماتے ہیں

”میں نے خواب میں رسول اللہ کی محفل دیکھی جس میں حضرت عمرؓ فوج کے کسی باجوہ جرنیل کو ساتھ لے کے آئے اور بیٹھ گئے۔ رسول اکرم ﷺ نے اسے کچھ عطا کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو جرنیل نے بایاں ہاتھ سے اسے لینا چاہا۔ اس پہ ذرا سا غور کیجیے گا۔ جس پہ حضرت عمرؓ نے اسے جھٹکا اور بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دایاں ہاتھ آگے کیا۔“ آگے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں ایک خبر ہے۔ کہ فلاں آدمی کو کچھ مل رہا تھا اور فیصلے اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار سے ہوتے ہیں کہ مجھے اسسٹنٹ کمشنر لگانا ہے، ڈپٹی کمشنر لگانا ہے، (فیصلے ) اللہ تعالیٰ کے دربار سے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک اطلاع ہے۔ لیکن خبر میں ایک رویہ بتایا گیا ہے۔ کہ جو مل رہا ہے اس کو الٹے ہاتھ سے وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ بڑا خوفناک ہے۔“

پھر گزشتہ دنوں نیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں حضرت اوریا مقبول جان نے وہ کالم جسے جنرل قمر جاوید باجوہ کے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کی ”ایک گواہی جس کی بہت ضرورت تھی“ کے طور پر پیش کیا تھا، محض چار برس بعد اب اسی کالم کو ”گستاخی“ کی گواہی کے طور پر پیش کر دیا۔

”اس خواب میں نیگٹو چیز تھی بتا دی میں نے۔ کہ ایک حکم نامہ بندہ الٹے ہاتھ سے لے رہا ہے۔ پڑھیں کالم۔ اس کا مطلب کیا ہے کہ وہ توہین رسالت ہو رہی ہے وہاں پر۔“

اصل کالم میں اس جملے پر کہ ”بیس سے اکیس گریڈ میں جانے کے لیے ہمیں سٹاف کالج لاہور میں چھ ماہ کا ایک کورس کرنا پڑتا ہے اس کورس میں میرے ساتھ ایک بریگیڈئیر بھی تھے جو جرنیل پرموٹ ہونے کے لیے یہ کورس کر رہے تھے“ ، ہمارے ایک فوجی بھائی فرماتے ہیں کہ بریگیڈئیر اور جنرل لیول کے رینک میں جانے کے لیے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جیسے اداروں سے وار کورس کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر سول ادارے بھی وار کورس کروانے لگے ہوں تو دوسری بات ہے، ورنہ کہیں یہ سارا ماجرا ہی ایک خواب نہ ہو۔

جہاں تک حضرت عمرؓ کی بات ہے، تو وہ بارگاہ رسول ﷺ میں گستاخی کرنے والے شخص کا محض ہاتھ پیچھے کرنے، جھٹکنے، یا ہاتھ پر مارنے کے روادار نہیں تھے، وہ گستاخ کا سر قلم کرنے کو تلوار نکالا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی بارگاہ رسول ﷺ میں حضرت عمرؓ کی موجودگی میں معمولی سی بھی گستاخی کی جسارت کرے اور اس کی گردن خطرے میں نہ پڑے۔

صحیح بخاری جلد سوم میں ایک متواتر حدیث موجود ہے۔ اس میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”ایک بار نبی ﷺ مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہا کہ اے رسول اللہ ﷺ عدل سے کام لیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری خرابی ہو جب میں عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا، حضرت عمرؓ بن خطاب نے عرض کیا مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑادوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو“

ویسے غور کریں تو اس مبینہ خواب کا حاصل یہ ہے یہ جنرل باجوہ کو بارگاہ رسالت سے ایک شے عطا ہوئی۔ اب کیا کسی گستاخ پر بھی یہ عطا ہو سکتی ہے؟ عطا تو ان پر ہوتی ہے جو مقبول بارگاہ ہوں۔ اگر اس خواب کو سچ بھی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواب میں نشاندہی کی گئی تھی کہ جنرل باجوہ نے کوئی غلطی کی جو ہدایت پانے پر انہوں نے سدھار لی اور بارگاہ رسالت میں مقبول ہوئے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1500 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments