آخر نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟


آج کل جدھر بھی جائیں، بازار کی دکانوں میں جائیں یا پھر ہوٹلوں میں، کسی سرکاری دفتر میں جائیں یا پرائیویٹ ادارے میں، ہسپتال جائیں یا کسی پارک وغیرہ میں، کسی چائے کے کھوکھے پر بیٹھیں یا اعلی شان ریستوران میں، تقریباً ہر جگہ ایک ہی تحریر دیکھنے کو ملتی ہے۔

” اپنے قیمتی ساز و سامان کی حفاظت خود کریں، عملہ اور انتظامیہ کسی بھی قسم کے نقصان کے ذمہ دار نہ ہوں گے“ ۔

تحریر کے الفاظ مختلف شکلوں میں ہو سکتے ہیں۔ الفاظ کی کمی بیشی بھی ممکن ہے لیکن مفہوم بخوبی یہ ہی واضح کرنا ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی قسم کے نقصان کی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتے۔

بلکہ اکثر اوقات تو پولیس اسٹیشن کے باہر دیواروں پر بھی یہ ہی الفاظ بطور اشتہار نظر آتے ہیں کہ اپنی گاڑی/موٹر سائیکل کی حفاظت خود کریں کسی بھی قسم کے نقصان کے ذمہ دار۔

حتی کہ بیشتر سرکاری دفاتر میں بھی اندر دیواروں پر لگے پوسٹر پر بھی یہ ہی پیغام آویزاں ہوتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو درج بالا تمام اداروں، محکموں، پبلک پلیسز وغیرہ پر کام کرنے والے عملے اور انتظامیہ سے زیادہ فرض شناس کوئی بھی نہیں کہ انھوں نے بڑی باخوبی یہ پیغام لوگوں تک پہنچا دیا کہ اپنے سامان کی حفاظت خود کریں۔ لیکن اگلی بات بڑی اہم ہے کہ کسی بھی قسم کے نقصان کے ذمہ دار ہم نہ ہوں گے۔

اگر کسی ادارے یا دفتر کا عملہ اور انتظامیہ اس جگہ ہونے والے نقصان کے ذمہ دار نہیں، تو پھر ذمہ داری کس کی ہوئی۔ یونیورسٹی میں بھی ہوسٹل سے لے کر کیفے ٹیریا تک ہم جیسوں کو یہ ہی پیغام دیکھنے کو ملتا ہے کہ اپنے موبائل، قیمتی سامان، بائیک، گاڑی وغیرہ کی حفاظت خود کریں نقصان کی صورت میں یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار نہ ہو گی۔ چلو جی! مان لیا یونیورسٹی کے اندر کسی بھی نقصان کی ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ نہ ہو گی۔

تو پھر یہ یونیورسٹی کی انتظامیہ آخر ہے کیوں؟ یہاں سیکیورٹی گارڈز کیوں موجود ہیں؟ سیکیورٹی آخر کس کی ہو رہی ہے اور کیوں ہو رہی ہے؟ کیونکہ طلبا کے نقصانات کی ذمہ دار تو انتظامیہ نہیں، پھر انتظامیہ طلبا کے علاوہ کس کو پروٹیکٹ کر رہی ہے، کس کی پراپرٹی طلبا کی پراپرٹی سے زیادہ اہم ہے۔ چلیں یہ تو بات یونیورسٹی کی ہو گئی۔

اب کسی بھی محکمے یا ادارے میں دیکھتے ہیں وہ چاہے سرکاری ہو یا پرائیویٹ وہ بھی نقصان کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں، ارے بھائی یہ سب کیا ہے؟ آپ اگر کسی کے سامان کی ذمہ داری نہیں قبول کرتے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اپ اس کا کام ایمانداری اور ذمہ داری سے کریں گے۔ اگر اس جگہ ہونے والے نقصان کے ذمہ دار متعلقہ لوگ نہیں، تو پھر کون ہے، بس اتنا ہی بتا دیں۔

دراصل سارے معاملے کے پیچھے اصل معاملہ کچھ اور ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک کو دیکھا جائے تو وہاں معاملے کی نوعیت یکسر مختلف ہے وہاں عدل کا نظام ہے ہر شخص ہر ادارہ اپنے اپنے لیول پر ذمہ دار ہے۔ اگر آپ شہری ہیں تو قوانین کی پابندی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے جب قوانین کی پابندی ہو گی تو نقصان بھی نہیں ہو گا اگر بالفرض کوئی حادثہ ہو بھی جائے تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاست اپنے سر لیتی ہے اور اس پورے معاملے کو انجام تک پہنچاتی ہے۔

اگر اپ کسی ہوٹل یا ریستوران میں چلے جائیں تو آپ کے سامان کے ساتھ ساتھ آپ کو سیٹسفائے کرنے تک کی ذمہ داری وہ بخوشی اپنے سر لیتے ہیں، کسی پرائیویٹ دفتر میں جائیں یا سرکاری ادارے میں، آپ کے سامان کے ساتھ آپ کے تمام تر معاملات کی ذمہ داری متعلقہ فورم اپنے سر لیتا ہے اور اسے بخوبی انجام بھی دیتا ہے۔ وہاں رول آف لا ہے۔ اکاؤنٹابلٹی اور ٹرانسپیرینسی ان کی کور ویلیوز ہیں اور ان کور ویلیوز کو وہ صرف سائن بورڈز پر تشہیر تک ہی محدود نہیں کرتے بلکہ اپنے ہر ہر عمل، پراسس میں یقینی بناتے ہیں۔

اس کے برعکس اپنے وطن عزیز میں ریاست کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے کتراتی ہے ریاست پہلے تو ریاست ہونے کے اپنے اس فرض سے ہی بھاگتی ہے بدلے میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کل اوپر سے لے کر نیچے تک سسٹم سب کو غیر ذمہ دار بننے کی آزادی دے دیتا ہے ظاہری بات ہے جب سسٹم چلانے والے ذمہ دار نہیں تو سسٹم میں چلنے والے کیسے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ یہاں سارا مسئلہ سسٹم کا ہے سسٹم ہی لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ چوری کریں اسی باعث وہ چوری ہونے والی شے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کرتا، آخر چوری کی ضرورت ہی کیوں پیش آئے، چور بھی تو اسی ریاست کے شہری ہیں۔

چوری چکاری، بھتہ خوری، دہشتگردی وغیرہ جیسے جرائم اسی معاشرے میں پنپتے ہیں جہاں ریاست لوگوں کو وہ سب دینے میں ناکام ہو جائے جو کسی کی بھی بنیادی ضروریات ہو سکتی ہیں۔ جب لوگ چند ٹکڑوں کی خاطر لڑنے جھگڑنے، مرنے مارنے پر اتر آئیں تو سمجھ لیں لوگ مجبور ہو چکے ہیں بلکہ انھیں سسٹم نے فورس کیا ہے کہ وہ جرائم کا راستہ اختیار کریں۔

ملک کے موجودہ حالات کے پیشے نظر وہ دن دور نہیں جب بڑے پیمانے پر لوگ روٹی کے لیے ایک دوجے سے بھڑتے پھریں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments