ریڈ اور وائٹ بال کرکٹرز کے لیے علیحدہ سینٹرل کنٹریکٹ کی ضرورت کیوں؟

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام


امام الحق
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جمعرات کو نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل 33 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا جس میں خاص بات یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ریڈ بال اور وائٹ بال کے کرکٹرز کو الگ الگ کنٹریکٹ ملے ہیں۔

سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے نام چیف سلیکٹر محمد وسیم نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران بتائے۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے 24 جون کو نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس مرتبہ سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد 20 سے بڑھا کر 33 کی گئی ہے۔

ریڈ اور وائٹ بال کے لیے علیحدہ سینٹرل کنٹریکٹ کی ضرورت کیوں؟

چیف سلیکٹر محمد وسیم کا اس بارے میں کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تینوں فارمیٹس میں بہت زیادہ کرکٹ کھیلنی ہے لہٰذا بورڈ چاہتا ہے کہ تینوں فارمیٹس میں اس کے پاس بین الاقوامی معیار کے کرکٹرز موجود ہوں جن کی مدد سے علیحدہ ٹیمیں تشکیل دی جاسکیں۔

محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس تینوں فارمیٹس میں مہارت رکھنے والے کرکٹرز موجود ہیں جن کے ساتھ علیحدہ ٹیمیں تیار کی جاسکتی ہیں جبکہ متعدد ممالک ایسے ہیں جن کے پاس یہ آسانی موجود نہیں ہے۔

مگر پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جنھیں ریڈ بال اور وائٹ بال دونوں کنٹریکٹس دیے گئے ہیں۔ ان میں کپتان بابراعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور امام الحق شامل ہیں۔

امام الحق نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 370 رنز بنائے تھے جس میں راولپنڈی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں شامل تھیں۔

انھوں نے ون ڈے سیریز میں دو سنچریاں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے سب سے زیادہ رنز 298 سکور کیے تھے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ان کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔

ٹیسٹ، محدود اوورز کی کرکٹ اور ایمرجنگ کیٹگری کے کنٹریکٹس

پی سی بی نے جن کرکٹرز کو صرف ٹیسٹ کرکٹ کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ان میں اظہر علی (اے کیٹگری) اور فواد عالم (بی کیٹگری) شامل ہیں جبکہ نعمان علی نسیم شاہ اور عبداللہ شفیق کو سی کیٹگری دی گئی ہے۔

بورڈ نے اس مرتبہ ڈی کیٹگری بھی متعارف کرائی ہے جن میں عابد علی، شان مسعود، سرفراز احمد، سعود شکیل اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

پہلی بار متعارف کرائے گئے وائٹ بال کنٹریکٹ میں شاداب خان اور فخر زمان کو اے کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے۔ فاسٹ بولر حارث رؤف بی کیٹگری میں شامل ہیں۔ محمد نواز سی کیٹگری میں ہیں جبکہ جن کرکٹرز کو ڈی کیٹگری دی گئی ہے ان میں آصف علی، محمد وسیم جونیئر، حیدر علی، شاہنواز دھانی، خوشدل شاہ، عثمان قادر اور زاہد محمود شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلان کردہ ایمرجنگ کرکٹرز میں علی عثمان، محمد حارث، حسیب اللہ، محمد حریرہ، کامران غلام، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا شامل ہیں۔

سرفراز احمد اور یاسر شاہ کی تنزلی

لیگ سپنر یاسر شاہ گذشتہ سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کیٹگری میں شامل تھے لیکن گذشتہ سال وہ صرف تین ٹیسٹ میچ کھیلنے میں کامیاب ہو پائے تھے جن میں صرف جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی اچھی رہی تھی۔

اس میں انھوں نے دونوں اننگز میں سات وکٹیں حاصل کی تھیں۔

وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد گذشتہ سینٹرل کنٹریکٹ کی سی کیٹگری میں تھے لیکن اس بار انھیں ڈی کیٹگری دی گئی ہے۔

ساجد خان

آف سپنر ساجد خان کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں کیا گیا

انھیں آئندہ ماہ سری لنکا کے دورے پر جانے والی پاکستانی ٹیم میں دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر ضرور شامل کیا گیا ہے تاہم محمد رضوان کی موجودگی میں انھیں برائے نام مواقع مل سکے ہیں۔

گذشتہ سال وہ صرف دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ ہی کھیل پائے تھے۔

ادھر آف سپنر ساجد خان نے گذشتہ سال زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے وہ اب تک سات ٹیسٹ میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس میں بنگلہ دیش کے خلاف میرپور ٹیسٹ میں 42 رنز دے کر آٹھ وکٹوں کی کیریئر بیسٹ کارکردگی بھی شامل ہے تاہم آسٹریلیا کے خلاف صرف ایک سیریز کی کارکردگی کی وجہ سے وہ سینٹرل کنٹریکٹ کے کھلاڑیوں میں شامل نہیں ہوسکے۔

محمد وسیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت کے تحت مزید کھلاڑیوں کو اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

کرکٹرز کو کتنے پیسے ملتے ہیں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کرکٹرز کے ماہانہ معاوضوں میں اضافہ کیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اضافہ کتنے فیصد ہے۔

پچھلے سال اے کیٹگری کے کرکٹر کو تقریباً تیرہ لاکھ پچہتر ہزار روپے ماہانہ ملے تھے۔

بی کیٹگری کے کرکٹر کو گذشتہ سال ملنے والی ماہانہ رقم نو لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو روپے تھی جبکہ سی کیٹگری کے ایک کرکٹر کو ماہانہ چھ لاکھ ستاسی ہزار پانچ روپے ملے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تینوں فارمیٹس میں کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی دس دس فیصد اضافہ کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ کنٹریکٹ میں اے کیٹگری کے حامل کرکٹر کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس سات لاکھ باسٹھ ہزار روپے سے زائد ملی تھی۔

بی کیٹگری کے ٹیسٹ کرکٹر کو ایک میچ کی فیس چار لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے تھی جبکہ سی کیٹگری میں ٹیسٹ کرکٹر کی ایک ٹیسٹ میچ کی فیس تین لاکھ اڑتیس ہزار روپے تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلی بار 2004 میں سینٹرل کنٹریکٹ متعارف کرائے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25282 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments