ٹینک، سول بیوروکریسی اور اکیلا عمران خان


گزشتہ روز کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے دو بیانات قابل غور ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے پنجاب پولیس کو متنبہ کیا ہے کہ وہ حمزہ شہباز کی ’غیر قانونی‘ حکومت کا حکم ماننے سے گریز کریں کرے کیوں کہ تحریک انصاف تمام افسروں کے اعمال کا ریکارڈ رکھ رہی ہے۔ دوسرے بیان میں ایک پارٹی کارکن کی جانب سے ’ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں گے‘ کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اس کی ضرورت نہیں ہے، اس وقت ہمیں قوم کے نوجوانوں اور خواتین کی ضرورت ہے‘ ۔

ورکرز کنونشن میں دیے گئے بیان سے عمران خان کو خود ہی اپنی حدود کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹینکوں کا سامنے کرنے کی خواہش کا اعلان کرنے والے کارکن کو بتایا کہ ایسے کسی قدم کی ضرورت نہیں بلکہ کارکنوں کی زندگیاں زیادہ ضروری ہیں۔ سابق وزیر اعظم کا یہ مشورہ صائب اور قابل غور ہے لیکن اس ڈائیلاگ کے پس منظر کو جاننا اور آئندہ انہی غلطیوں سے بچنا بھی اہم ہے۔ جب کسی سیاسی پارٹی کے ورکر ملک کی عسکری قوت کا مقابلہ کرنے کے نعرے لگانے لگتے ہیں تو اس سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ پارٹی کی قیادت بدحواس ہو کر اپنے کارکنوں کی رہنمائی کا حق ادا کرنے کی بجائے، انہیں تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کسی پارٹی کے قائدین جب تواتر سے جھوٹ کی بنیاد پر اپنے کارکنوں اور حامیوں کے ذہنوں کو پراگندہ کریں گے تو فطری طور سے ان میں اشتعال پیدا ہو گا اور وہ قانون شکنی کا ہر راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیوں کہ پارٹی کارکن یا کسی لیڈر کا حامی معاملات کا غیر جانبدارانہ اور حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا بلکہ کسی رہنما یا پارٹی سے عقیدت و وابستگی کی بنیاد پر اسی اقدام کو قانون سمجھتا ہے جس طرف ان کا لیڈر اشارہ کر رہا ہو۔

یہ خوش آئند ہے کہ عمران خان فی الوقت ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، اسی لئے انہوں نے کارکنوں کو ٹینکوں سے ٹکرانے کی بجائے جانوں کی حفاظت کرنے اور تعمیری کام کا مشورہ دیا ہے۔ عمران خان کا یہ رویہ حقائق کی متوازن تفہیم کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ جن ’اشاروں‘ کی بنیاد پر تحریک انصاف کے لیڈر اسلام آباد کو میدان جنگ بنانے کا اعلان کرتے رہے تھے، ان کی ’آمد‘ معطل ہو گئی ہو۔ تاہم اس تبدیل شدہ سیاسی رویہ کا اظہار تحریک انصاف کی تمام قیادت کے بیانات اور احتجاج کے طریقوں میں عیاں ہونا چاہیے ورنہ عمران خان جس جوش و خروش کو اس وقت اپنی سیاسی طاقت سمجھ رہے ہیں، وہی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔

نواز شریف کی طرح عمران خان نے بھی اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ہی فوج پر الزام تراشی کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو فوج مخالف بیانیہ ازبر کروانا شروع کیا تھا۔ امریکی سازشی نظریہ کی بنیاد پر ملک پر ’نامزد حکومت‘ مسلط کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے یا پھر فوج کو نیوٹرل ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے مسلسل یہی سیاسی پیغام عام کیا تھا کہ موجودہ فوجی قیادت امریکی نوازی کی وجہ سے شہباز شریف کی قیادت میں ان کی حکومت تبدیل کر کے اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ عمران خان خود براہ راست جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنی حکومت کے خلاف ’سازش‘ کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے یہ بیانات اس حد تک جوشیلے اور گمراہ کن تھے کہ تحریک انصاف کے جوشیلے کارکنوں نے ملک کی محافظ فوج کو ’ملک دشمن‘ قرار دینے کے سوشل ٹرینڈ چلانے شروع کر دیے۔ تاہم وقت کے ساتھ عمران خان پر واضح ہوتا چلا جا رہا ہے کہ وہ جن اشاروں یا جن عسکری حلقوں کی اعانت پر تکیہ کیے ہوئے ہیں، وہ فوج کی چین آف کمان کی روایت توڑنے میں مددگار نہیں ہوسکتے۔

افسوس کی بات ہے کہ ساڑھے تین برس تک فوج کی مدد سے ملک کی وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والا شخص کو اس حقیقت تک پہنچنے کے لئے حالات کے تھپیڑے کھانے پڑے۔ یہی نہیں بلکہ عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنی پذیرائی اور مقبولیت سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا تھا کہ وہ جب بھی چاہیں گے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کروا دیں گے یا لاکھوں لوگوں کو اسلام آباد لاکر کاروبار حیات معطل کر کے حکومت کو مستعفیٰ ہونے پر مجبور کر دیں گے۔ عمران خان کے یہ دونوں اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ نہ وہ فوج میں کوئی تفرقہ ڈالنے میں کام یاب ہوئے حالانکہ انہوں نے بعض ریٹائرڈ افسروں کے ذریعے پریس کانفرنس اور مختلف پلیٹ فارم پر احتجاج ریکارڈ کروا کے، یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی تھی کہ ملکی فوج موجودہ قیادت سے خوش نہیں ہے۔

غور کیا جائے تو یہ تاثر مسلط کرنے کا حقیقی فائدہ صرف ملک دشمن طاقتوں کو ہی ہو سکتا ہے۔ سیاسی معاملات میں فوج کو مداخلت سے روکنا آئینی بالادستی کی ایک جائز بحث ہے لیکن اس بحث کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ فوج سے سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ملکی حفاظت کے اس ادارے کو کمزور کرنے کے لئے پنجہ آزمائی کی جائے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بدحواسی کی کیفیت میں عمران خان اس غلطی کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اب انہیں اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے اپنی جد و جہد کو نعروں اور دوسروں کو کوتاہ قد قرار دینے کی حکمت عملی کی بجائے مسائل حل کرنے کے ٹھوس منصوبوں کی بنیاد پر استوار کرنا چاہیے۔ اس تبدیل شدہ حکمت عملی کا یہ فائدہ ہو گا کہ اگر مستقبل میں انہیں کبھی اقتدار حاصل ہوا تو وہ انتظامی معاملات میں ناکام نہیں رہیں گے۔

عمران خان کی ناکامی کی بنیادی وجہ ان کا تکبر، خود پسندی اور دوسروں کے بارے میں منفی تصویر کشی رہا ہے۔ انہوں نے خود اپنی دل نشین تصویر بنا کر اسے خود ہی پوجنا شروع کر دیا۔ یہ رویہ دوسروں کو بیک زبان بدعنوان اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے راسخ کیا گیا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے یہ جان کر کہ عسکری ادارے ان کے سیاسی مخالفین کو بہر صورت اقتدار سے دور رکھنا چاہتے ہیں، خود کوئی کام کرنے اور امور حکومت پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مشن کی تکمیل کا ارادہ کر لیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دور کا جائزہ لیا جائے تو سیاسی مخالفین کی کردار کشی یا انہیں جعلی مقدمات میں پھنسانے کی کوششوں کے سوا کوئی کارکردگی دیکھی نہیں جا سکتی۔ حتی کہ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے جج کے خلاف بے بنیاد ریفرنس دائر کر کے پوری سرکاری مشینری کو کسی بھی طرح عدلیہ کو ہراساں کرنے کے مقصد کے لئے استعمال کیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس غلط فہمی کا نتیجہ تھا یعنی وہ مان رہے ہیں کہ ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن ان کی پوری حکومت نے جسٹس عیسیٰ کی کردار کشی ضروری سمجھی۔ عمران خان کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کسی بھی وجہ سے ہو سپریم کورٹ نے اس بیان کے بعد عمران خان کو توہین عدالت کے الزام میں طلب کرنے اور ایک جج پر بے بنیاد ریفرنس دائر کرنے کا قصور وار قرار دینے کی کارروائی نہیں کی۔

اس سب کے باوجود عمران خان سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے طرز عمل سے باز نہیں آتے۔ ان کی ہر تقریر ان کی گزشتہ پانچ برس میں کی گئی تقریروں کا چربہ ہوتی ہے۔ ان کے پاس اپنی تعریف اور دوسروں کی برائی کے سوا کوئی موضوع نہیں ہے۔ ایسا سطحی اور کمزور طرز بیان اختیار کرنے والا لیڈر نہ ویژنری ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی بڑے قومی منصوبے کی تکمیل کا کام کر سکتا ہے۔ اب وہ خود اپنا مقابلہ ذوالفقار علی بھٹو سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بھٹو نے جمہوریت پسندی کے لئے پھانسی قبول کرلی تھی۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے سیاسی کیریئر کا آغاز ایوب خان کی فوجی حکومت کے وزیر کے طور پر کیا تھا لیکن ان کا حقیقی سیاسی رول ایوب حکومت کے خلاف عوام کی رہنمائی کرنے سے متعین ہوا تھا۔ اس کے بعد 1971 کی جنگ کے بعد انتشار کا شکار قوم اور فوج کو ایک لڑی میں پرونا اور متفقہ آئین منظور کروانا، ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ ہے۔ عمران خان قائدانہ صلاحیت اور ایثار کے معاملہ میں بھٹو کی دھول کو بھی نہیں پہنچتے۔

البتہ اگر انہیں ذوالفقار علی بھٹو سے مماثلت کا ایسا ہی شوق ہے تو انہیں مخالفین سے اختلاف کو سیاسی اصولوں تک محدود کرتے ہوئے ملک میں ہم آہنگی اور مفاہمت کے کسی بڑے منصوبے کا آغاز کرنا چاہیے۔ یا اگر وہ واقعی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فوج کی مخالفت کی وجہ سے ان کی حکومت کو زوال نصیب ہوا تو انہیں اس اصولی جنگ میں نواز شریف اور آصف زرداری سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ملک کی ساری سیاسی قوتیں فوج کو اس کے آئینی کردار تک محدود کرنے کے لئے مل کر جد و جہد کریں۔ اس کے برعکس اگر عمران خان کی فوج مخالفت کا ایک ہی نکتہ ہو گا کہ وہ کسی طرح ہراساں و پریشان ہو کر ایک بار پھر عمران خان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے تو اسے ایک تو یہ سیاسی قوتوں کی خود مختاری کی جنگ نہیں ہوگی، دوسرے ان ہتھکنڈوں سے فوج کو دباؤ میں نہیں لایا جا سکے گا۔

فوج کو نشانہ بنا کر اپنے لئے گنجائش پیدا کرنے کے مقصد میں ناکامی کے بعد اب عمران خان نے سول بیوروکریسی کو موجودہ حکومتوں کے احکامات نہ ماننے کا مشورہ دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ بصورت دیگر تمام افسروں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور عمران خان کی مرضی کے خلاف کام کرنے والے افسروں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس انتباہ کی بنیاد وہ حمزہ شہباز کی کو حکومت کو ناجائز قرار دے کر فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سول بیوروکریسی کو کسی قانونی حکومت کے خلاف اکسا کر درحقیقت ملک میں حکومتی و انتظامی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عمران خان شاید اس مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے لیکن انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ مستقبل میں انتخابات کے نتیجہ میں جب ان کے سیاسی مخالفین حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو عمران خان کے بیانات اور دھمکیوں کا ریکارڈ خود ان کے لئے درجنوں قانونی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

عمران خان ہزاروں لوگوں کو لاکھوں کا مجمع ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ نہ ہی وہ لاکھوں لوگوں کو اسلام آباد بلاک کرنے پر آمادہ کرسکے ہیں۔ اب انہیں جان لینا چاہیے کہ احتجاج جاری رکھ کر وہ موجودہ حکومت تو نہیں گرا سکیں گے لیکن اپنی سیاسی مشکلات میں اضافہ ضرور کریں گے۔ تحریک انصاف کو ملکی سیاست کا بدستور حصہ رہنے کے لئے فوری طور سے اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2239 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments