آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کے سفر کی کہانی


اس دفعہ سفر آئس لینڈ کا تھا جہاں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہوتی ہے۔

آئس لینڈ انتہائی خوبصورت ملک ہے۔ اس کی خوبصورتی سوئٹزرلینڈ سے بھی زیادہ ہے۔ لندن میں مقیم پاکستانیوں کے لئے تو یہ انتہائی قریب ہے، شاید تین گھنٹے کی فلائٹ ہو۔ لیکن کینیڈا اور امریکہ میں مقیم لوگوں کے لئے بھی جہاز کا سفر اتنا دور نہیں ہے۔

آئس لینڈ ائر لائن اب کینیڈا اور امریکہ کے کئی شہروں سے براہ راست پروازیں ریکیاوک جو آئس لینڈ کا دارالحکومت ہے، کے لئے شروع کر چکی ہے۔

فلائٹ مکمل طور پر بھری ہوئی تھی۔ ہم ریکیاوک پر اترے جہاں امیگریشن افسر نے مجھ سے پوچھا مہر کہاں لگاؤں، تمہارے سارے صفحے اسٹامپوں سے بھر چکے ہیں۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ میں سفر کا شوقین ہوں اور اس سفر کے بعد مجھے نیا پاسپورٹ بنوانا ہے۔ خیر، افسر نے ہنستے ہوئے کسی اور مہر کے اوپر ہی اپنی مہر لگا دی اور کہا ویلکم ٹو آئس لینڈ۔

ائر پورٹ سے ہی کرائے کی گاڑی لی اور اپنے پہلے ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے جو شہر سے دو گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ بہترین شاہراہ اور سڑک تھی۔ ٹریفک کافی کم تھا اور گاڑی چلانا انتہائی آسان لگ رہا تھا۔

راستے میں جگہ جگہ آئس لینڈ کے مشہور گھوڑے نظر آئے۔ سرسبز وادیاں، سنہری گھوڑے، بھیڑ، آبشاریں، پہاڑ، آتش فشاں، گلیشئر اور چشمے۔ اسی لئے یہاں مشہور ترین سیریز گیم آف تھرونز کی کچھ قسطوں کی عکس بندی بھی ہوئی ہے۔

آئس لینڈ کے کئی مقامات پر ہی فلم تھور کی بھی عکس بندی ہوئی تھی جو کہ انتہائی کامیاب ہالی وڈ کی فلم تھی۔ اسی طرح کئی فلموں نے اپنے قدرتی مناظر، جنگی مناظر خاص طور پر جب آپ کو گیم آف تھرونز، لارڈ آف دا رنگز یا اسی طرح کی فلموں کی عکس بندی کرنی ہو تو آئس لینڈ کا انتخاب ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔

میرا گمان تھا کہ سردیوں میں سیاح یہاں کا رخ نہیں کرتے ہوں گے لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ سردیوں میں بھی اسی طرح کا رش رہتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ناردرن لائٹ دیکھنے آئس لینڈ سردیوں میں آتے ہیں۔

لیکن یہ ایک انتہائی مہنگا ترین ملک ہے۔ ریکیاوک میں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ ہے جہاں ہم نے کھانا کھایا۔ دنبے کی کڑھائی تقریباً چالیس ڈالر کی تھی۔ یہی کڑھائی کینیڈا امریکہ میں بیس ڈالر کی ہو گی۔ کرائے کی گاڑی اور ہوٹل کے کرائے بھی بہت مہنگے تھے۔ شالیمار پاکستانی ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ شاید ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی آئس لینڈ میں مقیم ہیں۔

زیادہ تر ہوٹل کیبن نما تھے لیکن انتہائی خوبصورت علاقوں میں۔ بڑی بڑی عمارتیں اور بہت عالیشان ہوٹل یہاں نہیں ملیں گے۔ کیونکہ ان لوگوں نے اپنے ملک کی قدرتی خوبصورتی کو نہیں بگاڑا۔

آئس لینڈ گھومنے کے بعد اب میرا سفر ناروے کے شہر اوسلو کا تھا جو کہ ریکیاوک سے صرف ڈھائی گھنٹے کی فلائٹ پر تھا۔ میں نے سوچا عامر لیاقت کی طرح زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، لہذا دل جو کہتا ہے چلو کر گزرو۔

اوسلو کے مرکز میں گاڑی چلانا ایک دشوار کام تھا۔ یہاں ہر طرف برقی بس، سائکل اور پیدل چلنے والوں کا رش تھا۔ یہاں کا ایڈورڈ منچ میوزیم مشہور ہے جہاں مشہور زمانہ ”دا اسکریم“ کی پینٹنگ نمائش کے لئے رکھی گئی ہے۔

اوسلو شہر میں میرا قیام صرف ایک رات تھا کیونکہ میری اصل منزل فلیم اور برجن شہر تھے جہاں ناروے کے مشہور زمانہ کروز چلتے ہیں۔ فلیم شہر چھوٹا لیکن انتہائی خوبصورت شہر ہے۔

اوسلو سے فلیم جاتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی ٹنل سے گزرنا پڑتا ہے جس کی لمبائی چوبیس اعشاریہ پانچ کلو میٹر ہے۔ اتنی لمبی ٹنل میں سے گزرنے کے بعد فوراً چائے کے لیے رکنا پڑا۔

فلیم میں ہم نے کروز اور ٹرین کے ٹکٹ لئے اور پورا دن ناروے کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

اگلا سفر برجن کا تھا۔ فلیم اور برجن شہر آپس میں گاڑی کے ذریعے دو گھنٹے کی دوری پر ہیں لیکن یہ ایک انتہائی حسین سفر ہے۔ ناروے کی ساری خوبصورتی ان کے شمالی علاقے میں ہی ہے جہاں کروز چلتے ہیں۔

فلیم اور برجن دیکھنے کے بعد ہم واپس اوسلو آئے۔ اوسلو سے سویڈن کی سرحد تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں شروع ہو جاتی ہے۔ تین گھنٹے بعد گوٹن برگ جو کہ اسٹاک ہوم کے بعد سویڈن کا دوسرا بڑا شہر ہے آ جاتا ہے۔

گوٹن برگ ایک عام سا شہر تھا لیکن کیوں کہ مجھے کوپن ہیگن بھی جانا تھا لہذا سویڈن کے شہر گوٹن برگ اور مالمو راستے میں آتے تھے۔

سویڈن کے ان دو شہروں کو بھی دیکھا اور ایک رات مالمو میں قیام کیا۔ مالمو سویڈن کا تیسرا بڑا شہر ہے جو ایک پل کے ذریعے ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن سے ملا ہوا ہے۔

مالمو اور کوپن ہیگن کو ملانے والا یہ دنیا کا سب سے بڑا پل ہے جس کا سفر تقریباً تیس سے چالیس منٹ میں ختم ہوتا ہے۔

کوپن ہیگن ایک خوبصورت اور دلکش شہر ہے۔ یہاں کا کنال سسٹم اور اس پر بنے رنگ برنگے گھر بہت مشہور ہیں۔ سائیکل چلانے کا رواج یہاں بہت زیادہ ہے۔ سائیکل والوں کے لیے الگ سے سگنل سسٹم بھی ہے۔

پورے کوپن ہیگن کو آپ دو دن میں دیکھ سکتے ہیں۔ شاہی پیلس بھی کافی خوبصورت ہیں۔

ان دو ہفتوں میں نے چار ملک دیکھے۔ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ میری امیگریشن صرف آئس لینڈ میں اترتے وقت ہوئی تھی لیکن اس کے بعد ناروے کی فلائٹ اور پھر گاڑی کے سفر کے ذریعے سویڈن اور ڈنمارک میں کوئی چیکنگ یا امیگریشن نہیں ہوئی۔

میں نے چار ملکوں میں گاڑی چلائی لیکن مجھے میری کچھ غلطیوں کے باوجود کسی نے ان پندرہ دنوں میں کوئی ہارن نہیں دیا۔ بلکہ کوئی ہارن میں نے سنا ہی نہیں۔ میں نے ان ملکوں کے لوگوں میں صرف زندگی اور خوشی محسوس کی۔

اتنی زندگی، رونق، موسیقی، سرور، سکون ان کافروں میں کہاں سے آ گیا؟
اتنی پس مردگی، بے رونقی، غصہ، احتجاج، نفرت، بے سکونی ہم مسلمانوں میں کہاں سے آ گئی؟
اس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ وہ سائنس، تعلیم، تحقیق اور اخلاقی طور پر ہم سے آگے ہیں۔

جس دن ان کے تعلیمی اداروں سے وہ سائنس داں پیدا کر رہے تھے، ٹھیک اسی وقت ہم اسلام آباد میں مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوئے ڈیڑھ سو طالب علموں کی دستار بندی کر رہے تھے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments