صرف 15 منٹ میں کامیاب صحافی بنو


گزشتہ روز یوٹیوب پر کچھ پاکستانی چینلز کھنگالنے کا اتفاق ہوا تو یہ جاں کر بے حد خوشی ہوئی کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب کچھ بھی ناممکن نہیں رہا۔ آپ صرف دو گھنٹے میں ایک طاقتور جرنیل اور ڈیڑھ گھنٹے میں ارب پتی تاجر بننے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں۔ بہترین گلوکار بننا پونے گھنٹے کی مار ہے۔ اداکار بننے کے لیے فقط آدھا گھنٹہ درکار ہے۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ صرف 13 الفاظ یاد کر لیں تو آپ فرفر عربی بولنے لگیں گے۔ ایک حضرت نے 30 تراکیب کی مدد سے غالب کے پائے کا شاعر بننے کا طریقہ بھی بتا دیا۔ ہم نے بھی سوچا کیوں نہ نوجوان نسل کو اپنے تجربے سے فائدہ پہنچایا جائے۔ تو آؤ نوجوانو! صرف 15 منٹ میں کامیاب صحافی بننے کے گر سیکھ لو۔

ایک بہترین رپورٹر، کاپی ایڈیٹر یا اینکر بننے کے لیے نیچے دیے گئے چند فقرے یاد کر لو۔ اگر تم (اپنی یا والدین کی) غلطی سے نیوز چینلز دیکھتے ہو تو یوں بھی یہ فقرے تمہیں ازبر ہو چکے ہوں گے۔ بس انہیں دہراتے جاؤ اور کامیابی کو اپنے قدم چومنے دو۔

پیٹرول مہنگا ہونے کی خبر دینی ہو تو یاد رکھو کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں باقی ملکوں میں سادگی سے بڑھائی جاتی ہیں، یہاں مگر یہ طریقہ رائج نہیں۔ یہاں وزیر خزانہ بڑی مشقت سے پہلے پیٹرول بم بناتا ہے، پھر جہاز سے لے جا کر عوام پر گرا دیتا ہے۔ ٹھاہ۔ لو، پیٹرول 32 روپے فی لیٹر بڑھ چکا ہے۔ ناشکرے عوام کو یہ یاد کرانا نہ بھولو کہ بھارت میں اب بھی پیٹرول پاکستان سے مہنگا بکتا ہے۔

یہاں بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق آگاہ کرنے کا طریقہ بھی ذرا سائنسی رنگ لئے ہوئے ہے۔ اب اچانک بیٹھے بٹھائے عوام کو بجلی کا جھٹکا لگے گا جس سے انہیں معلوم ہو جائے گا کہ بجلی کتنے روپے فی یونٹ مہنگی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات پہلے سے تیار رکھو جن میں وہ قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ظلم قرار دیں گے۔

یہ بھی یاد رکھو کہ پاکستانی میڈیا میں ڈالر ایک کرنسی نہیں، چکور سے ملتے جلتے پرندے کا نام ہے۔ اس لیے اس کی قدر نہیں بڑھتی، اونچی اڑان جاری رہتی ہے۔ کبھی کبھار حکومت پھرتی دکھائے تو اڑتے ڈالر کے پر کتر ڈالتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس 500 پوائنٹس نیچے چلا جائے تو تاجروں کے اربوں روپے ڈبو دو۔ زیادہ حساب کتاب میں نہ پڑو۔ یہاں کون ریاضی کا اتنا ماہر ہے۔

بارش دو تین طرح کی ہوتی ہے۔ موسم گرما میں ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش ہو تو اس سے موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ صبح 10 بجے بھی بادل برسیں تو بچے، بوڑھے اور خواتین گھروں سے اور مرد حضرات دفتروں سے نکل کر سموسے پکوڑوں کی دکانوں کے آگے قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بارش تیز ہو تو نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ انتظامیہ فوراً ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتی ہے۔ بارش موسم سرما میں ہو تو اس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ہر گز نہ بھولو کہ برف باری ہو گی تو ہر چیز برف کی سفید چادر اوڑھ لے گی۔ کئی بار تو روئی کے سفید گالے بھی زمین پر اتر آئیں گے۔ اب جہاں برفباری ہو گی وہاں سیاحوں کا رش ضرور لگے گا۔ مقامی افراد کی مشکلات میں البتہ اضافہ ہو گا۔

مہنگائی سے عوام کی کمر ٹوٹے گی تو احتجاج ہو گا۔ احتجاج ہو گا تو اس میں بینرز اور پوسٹرز ضرور ہوں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان پر نعرے بھی درج ہوں گے۔ دیگر ملکوں میں شاید اشعار وغیرہ لکھ کر لانے کا رواج ہے۔ کہیں ٹریفک جام ہو تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں ضرور لگیں گی۔ یاد رکھنا کہ جرم کسی بھی مقام پر اور کسی بھی وقت پر ہو، سب سے پہلے ہڑبونگ نیوز ہی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرے گا اور عوام تک بھی پہنچائے گا۔ جو سی سی ٹی وی دستیاب نہیں ہو گی، وہ صرف اس لئے نہیں دکھائی جائے گی کہ تمہیں عوام کی خیریت نیک مطلوب ہے۔

علاقے میں کہیں گندا پانی کھڑا ہے، یا اسکول کی دیوار ٹوٹی ہے تو یہ انتظامیہ کی نا اہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ خدا نخواستہ کہیں زلزلہ آ جائے تو لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں اور دفتروں سے باہر نکل آتے ہیں۔ دو اہم شخصیات کی ملاقات ہو تو باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ضرور کرتی ہیں۔ قومی تہوار ہمیشہ ملی جوش و جذبے سے منائے جاتے ہیں۔ مذہبی تہواروں میں دینی جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔

سیاسی جماعت کی ریلی ہو یا جلسہ، تو سب سے پہلے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی چوڑائی اور اونچائی بتانا بہت ضروری ہے۔ لمبائی وغیرہ ماپنے نہ بیٹھ جاؤ۔ اپنی طرف سے اندازہ لگا لو۔ کرسیوں کی تعداد بتاؤ۔ ہر طرف پارٹی پرچموں کی بہار کا بھی ذکر کرو۔ یہ ذہن نشین کر لو کہ جلسے میں لیڈر کے خطاب سے پہلے پنڈال پارٹی ترانوں سے گونج رہا ہوتا ہے۔ کارکنوں کو اپنے لیڈر کے خطاب کا انتظار بھی بے چینی سے ہوتا ہے۔

یہ ہر گز نہ بھولنا کہ 1942 میں فلم باؤلی حسینہ کی موسیقی ترتیب دینے والے اللہ دتہ نیازی کی برسی ان کے پرستار آج بھی جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ کمبخت تھکتے بھی نہیں۔ ادھر رقیہ بیگم بھی اپنی عمر کے 85 ویں برس میں کانوں میں ویسا ہی رس گھولتی ہیں جیسا 15 ویں برس میں گھولتی تھیں۔ عوام کی طرح تم بھی مگر ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ اس لیے یوٹیوب سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں وہ گانے سنواؤ جو وہ خود بھی سن سکتے ہیں۔

اور جاتے جاتے ٹام کروز کے پرستاروں کو یہ خوش خبری دیتے جاؤ کہ وہ ایک بار پھر دھوم مچانے آ رہا ہے۔ یوٹیوب سے اس فلم کا ٹریلر بھی ڈاؤن لوڈ کر کے دکھاؤ۔

Facebook Comments HS

One thought on “صرف 15 منٹ میں کامیاب صحافی بنو

  • 01/07/2022 at 8:52 شام
    Permalink

    ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
    بہت خوب ۔ مزہ آگیا

Comments are closed.