تعصب اور حسد کی آگ

ہمارے معاشرے کا عمومی مزاج اور نفسیات یہ ہیں کہ کسی دوسرے کی ترقی، خوشحالی اور آسودگی برداشت ہو ہی نہیں پاتی۔
کوئی کسی بھی لحاظ سے کچھ آگے بڑھے تو موضوع بحث بنا دیا جاتا ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ کوئی اپنا کیا اور پرایا کیا، دوست کیا اور دشمن کیا، سب ایک ہی راگ الاپنے میں جت جاتے ہیں۔
پہلے پہل تو لوگ انگشت بدنداں اضطراب لئے پوچھتے پھیر رہے ہوتے ہیں کہ۔
یہ رتبہ کیسے ملا؟ یہ کاروبار کب اور کیسے شروع ہوا؟
یہ گاڑی کہاں سے آئی؟ یہ بنگلہ کیسے بنا؟ یہ شادی کہاں اور کیوں ہوئی؟
جب بے قراری اور بڑھ جائے تو پھر موصوف کی پوری تاریخ کنگال کے رکھ دیا کرتے ہیں۔ بندہ کیا ہے، اس کا خاندانی بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ زندگی کیسی گزاری، کھاتے پیتے کیا رہے؟
آگے بڑھ کر یہ تجسس، اضطراب سراسر نفرت اور تعصب کی روپ دھار لیا کرتا ہے اور لوگ اس بیچارے کی ناکامی، تباہی اور زوال کے لئے بے چین، بے قرار اور منتظر رہ کے ”سکون“ پانے کے لیے نئی نئی کہانیاں گھڑ لیا کرتے ہیں، نئے نئے شوشے اور شگوفے چھوڑ دیا کرتے ہیں اور دو قدم آگے بڑھ کر قیاس آرائیاں کر کر کے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا طوفان بھی برپا کر دیا کرتے ہیں۔
اس سب کچھ کی بنیاد۔
احساس کمتری، احساس برتری، بغض، کینہ، حسد، نفرت، تعصب اور سب سے بڑھ کر کم ظرفی۔
ایسے لوگوں کے لئے ان کی جلن اور حسد کی آگ میں جلنا ہی کافی ہے۔
اللہ کے بندو،
رب کی تقسیم پہ راضی ہو جائیے
جو قسمت میں ہیں اسی پہ قناعت کیجئے
حسد نہیں خواہش رکھ کے محنت کیجئے
دوسروں کے حوالے سے سوچ سوچ کے ہلکان ہونے کی بجائے اپنے لئے خوشی کا سامان ڈھونڈ لیجیے اور منفی ذہنیت، حسد اور تعصب کا جو بھاری بوجھ لاد رکھا ہے اسے اتار پھینک کر آسان، اطمینان اور سکون کی زندگی گزار لیجیے۔

