گجئی بات گجیاں پڑنے کا سبب اور اور ”لڑکی کے بھائی“۔

ایاز امیر سے لاکھ سیاسی اختلاف لیکن ان کا ذاتی پوائنٹ آف ویو، لکھنے کا انداز، ہمارے معاشرے پر نظر اور اس کی درست سمت کا تعین کرنے سے متعلق ان کا نظریہ یقیناً معیاری ہے۔
ایاز امیر پر حملہ ایک انتہائی افسوس ناک واقع ہے، اپنی گزشتہ تقریر میں جس جامعہ انداز میں اسٹیبلشمنٹ سے لے کر عمران خان تک انہوں نے سب کے لتے لیے وہ اپنے آپ میں ایک عمدہ مثال ہے، عمران خان کھسیانے ہو کر ایسے ہنستے رہے جیسے جیسے دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں کہ اب بس بھی کرو، اس کے علاوہ بھری محفل میں ان کے پاس آپشن ہی کیا تھی؟
میں جس بات کی طرف دھیان دلانا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اسی تقریب میں اینکر عمران خان نے اجے دیوگن انداز میں گنگا جل والی تقریر کی تھی لیکن حملہ ایاز امیر پر ہوا۔
تو جناب حملہ کرنے والوں کو بھی اچھی طرح پتا ہے کہ کون کسی کا بھونپو ہے اور کون گجئی بات کر رہا ہے اور گجئی بات گجیاں پڑنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جتنا بندہ معیاری ہو گا، اتنی ہی اس کی بات چبھتی ہے۔
جب انہوں نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے دماغ میں جو خباثت بھری تھی وغیرہ وغیرہ تو شاید منتظمین دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں کہ اگر ان کو نا بھی بلایا جاتا تو کام چل سکتا تھا۔
رہی بات واقعے کی تحقیق اور نوٹس لینے کی تو جناب یہ کوئی اتنی پرانی بات نہیں، صرف گزشتہ تین چار سالوں میں متعدد صحافیوں پر حملے ہوئے، انہیں اٹھایا گیا، طرح طرح کے الزام لگے اور ان پر پورے پاکستان میں ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
سوشل میڈیا برگیڈ نے ان صحافیوں کی عزت اتاری، ان کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی، جو اینکر حضرات آج بہت چیخ رہے ہیں انہوں نے الزام لگائے کہ یہ صحافی جھوٹ بول رہے ہیں، شاید لڑکی کے بھائیوں نے پیٹا ہو، ان صحافیوں کو لگنے والی گولیوں کو حملوں کی طرح جعلی گولیاں قرار دیا۔
ایاز امیر جتنے سنجیدہ اور سوبر انسان ہیں ان پر لڑکی کے بھائیوں کی طرف سے حملے کا بہانہ شاید نہ چل سکے۔
بھائی تو وہ ضرور تھے، شاید وہ منہ بولے بھائی جو صرف چند ماہ پہلے تک ایک پیج پر کافی عزیز ترین تھے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافیوں پر جتنے حملے ہوئے ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہونے، حکومت کے ملزموں کو پکڑنے کے بلند و بانگ دعوؤں اور ”بقول شخصے“ دنیا کی نمبر ون ایجنسیوں کی موجودگی کے باوجود آج تک نہ تو کوئی ملزم پکڑا جا سکا اور نہ ہی کوئی کیس حل ہو سکا اور آئندہ بھی ”قلات ڈویژن میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکان کی طرح“ یہی سلسلہ جاری رہنے کی توقع اور اسلام آباد کے اردگرد پہاڑیوں پر تیز دھوپ کے ساتھ لو چلنے کا امکان ہے۔

