ماں باپ ہمارے دشمن نہین، اپنا کینوس بڑا کیجیے


کچھ دن پہلے ”ماں باپ ہمارے دشمن“ کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جاننے کی خواہش نے کالم پڑھنے پر مجبور کیا کہ شاید کچھ نیا ہو، کوئی نئی بات، نیا استعارہ، نئی تشبیہ کہ وہ رشتہ جس کا قرآن میں اللہ اپنے بعد ذکر کر رہا ہے، جس ماں کی محبت سے اپنی محبت کو تشبیہ دے رہا ہے وہ بھلا کیونکر ہمارے دشمن ہو سکتے ہیں۔ بہرحال جاننے کی جستجو کا جو حال ہوا سو ہوا لیکن دکھ، افسوس، حیرت کے ساتھ ساتھ لفظوں نے روح کو بھی برے طریقے سے جھنجوڑ کر رکھ دیا کہ کیسے ہم نے چند لوگوں کے غلط رویوں کو ماں باپ جیسی عظیم ہستیوں کے ساتھ نتھی کر دیا ہے۔

والدین کی محبت، عظمت، قربانی پر کیا بات کروں! قرآن پاک میں اللہ کا حکم موجود ہے، احادیث نبویﷺ اور ان ﷺکی زندگی قرآن پاک کے احکامات کا نچوڑ ہے۔ اللہ کے بعد اگر دنیا میں کوئی ہستی ہم بے غرض، بے لوث محبت کتی ہے تو وہ والدین ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین جیسا نہ کوئی رشتہ ہے اور نہ ہی ان کے جیسا دل اپنی اولاد کے علاوہ کسی اور کے لئے دھڑک سکتا ہے۔ یہ دنیا میں وہ مجسم وجود ہیں جو اپنی اولاد کی ہر تکلیف خود پر بخوشی لینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

مجھے نہیں پتہ مصنفہ کا اپنا تجربہ برا رہا یا چند ایک ایسی مثالیں دیکھ کر تمام والدین کے بارے میں حکم صادر کر دیا تو اس نتیجے سے پہلے یہ ضرور غور کر لیں کہ ہمارے پاس بیشک خود کو ثابت نہ کرنے کی دکھ بھری کہانی ہو، اپنا ٹیلنٹ ضائع ہونے کا رونا ہو، والدین سے ہمارے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے کا گلہ ہو لیکن وہ تمام لوگ جو بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے، کسی نے اپنا من پسند پروفیشن جوائن کیا اور نام کمایا، کسی نے ماں باپ کی صلاح مانی اور اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، کوئی نئی دنیا دریافت کر رہا ہے، کوئی تحقیقی مقالے اپنے والدین کے نام کر رہا ہے اور اب تو خواتین بھی ڈاکٹری اور معلمہ کے پیشے تک محدود نہیں ہیں، سائنسدان، پائلٹ، ائر فورس، آرمی، نیوی، اسکالر، وکیل، جج کون سا پیشہ ہے جس میں خواتین نے خود کو نہ منوایا ہو۔ ایسے میں یہ کہنا کہ والدین بچوں کو ان کا من پسند پروفیشن اختیار کرنے کا حق نہیں دیتے صریحا غلط ہے۔

ایسے بھی والدین ہیں جو کچھ باتوں میں اپنی اولاد پر دباؤ ڈالتے ہیں لیکن اس کا حل، بدتمیزی، بغاوت، نافرمانی نہیں بلکہ یہ یقین کر لیجیے کہ جو والدین، شدید گرمی، سردی، بیماری، مجبوریوں میں آپ کے لئے کھڑے ہیں وہ اپنی اولاد کو دکھی، پریشان کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ آپ جس عملی دنیا میں قدم رکھنے کے لئے پر تول رہے ہیں وہ اس سمندر کا آدھے سے زیادہ رستہ طے کر چکے ہیں۔ اپنا گھر، اپنے شریک سفر، بچے، ماں باپ، عزیز و اقارب، معاشرے میں عزت، سفید پوشی، روزگار کے حصول میں درپیش مسائل یعنی ایک ساتھ کئی محاذوں پر لڑنا بھی ہے اور کامیاب بھی ہونا ہے۔

ماں باپ کی سب سے بڑی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو ان ٹھوکروں سے بچائیں جن سے زخم وہ کھا چکے ہیں اور اولاد کو وہ آسائشیں دیں جو انہیں خواہش اور کوشش کے باوجود نہیں ملی۔ آپ کی خواہش ہے کہ والدین اولاد سے غیر فطری توقعات نہ رکھیں تو ایک منٹ کے لئے سوچئے کہ کہیں معاملہ الٹ تو نہیں ہے۔ یاد رکھیے ماں باپ اسی معاشرے کا فرد ہیں، انسان ہیں فرشتہ نہیں۔ گرمی، سردی، مہنگائی، نا انصافی، اچھی بری بات، اخراجات، بیماریاں، ناکامیاں، کامیابیاں، ضروریات، ترجیحات، ادھورے خواب، برسوں سے مچلتی خواہشیں، امیدیں حالات ان پر بھی اسی طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں جیسے اولاد پر۔ بظاہر ماں باپ کا انکار بڑی ناکامی لگتا ہے کیونکہ ماں باپ کی موجودگی میں ہمارا اصل فوکس ہم خود ہوتے ہیں، ہماری تعلیم، اسکول، گریڈز، کپڑے، فیشن، دوست، خواہشیں اور بس۔ اپنا کینوس بڑا کیجئے اپنے ماں باپ کی سوچ، ان کے وسائل اور مسائل کی طرح۔

ہمارا مشترکہ خاندانی نظام ہماری اساس تھا جس نے اس معاشرے کو تسبیح کے دانوں کی طرح ساتھ باندھا ہوا تھا، شومئی قسمت کہ اب وہ مشترکہ نظام نہیں رہا۔ اب سات منزلہ بغیر لفٹ کی عمارت کے پانچویں فلور پر تو رہنا پسند کریں گے لیکن جس گھر میں پل بڑھ کر جوان ہوئے اس میں نہیں رہ سکتے وجہ خود مختاری، آزادی، یا اپنی زندگی میں مداخلت برداشت نہیں۔ ابھی تو شادی کے بعد مشترکہ خاندان میں رہنا مشکل ہوتا ہے آہستہ آہستہ ماں باپ کے ساتھ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا جیسا کہ مغرب کا وصف ہے۔ اختیار، خود مختاری کا مطلب مادر پدر آزادی، من مانی، ضد، ہٹ دھرمی نہیں۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ ماں باپ آپ کی صحیح بات نہ مانیں وہ تو بڑی بڑی غلطیاں نافرمانیاں کرنے پر بھی اولاد کو سینے سے لگانے کا ظرف رکھتے ہیں۔

بے شک دور نیا ہے لیکن کچھ چیزیں کبھی تبدیل نہیں ہوتیں مثلاً دلیری، خوف، ایمانداری و بے ایمانی کا معیار، سزا و جزا کے مثبت اثرات، قابلیت، اچھی تربیت۔ شیر کی نگاہ سے دیکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ سانس لینا ہی دشوار کر دیں لیکن یہ ضرور ہے کہ جو تربیت کی گئی ہو اس کی لاج رکھیں اسے خود پر جبر سمجھنے کے بجائے دین و دنیا میں عزت پانے کا راستہ سمجھیں۔

یہ بھی یاد رکھیے آج ماں باپ سے جو آپ صحیح آزادی طلب کر رہے ہیں کل آپ کی اولاد غلط آزادی کو صحیح کا نام دے کر آپ کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ دیکھنے کا زاویہ مختلف ہے آج آپ اولاد کی جگہ پر ہیں کل والدین ہوں گے تو آج جو رویہ اپنا رہے ہیں اس کے فوائد و نقصانات دیکھ لیجیے۔

ماں باپ کو ایک تربیتی کورس ضرور کروایا جائے لیکن اولاد کو بھی ایک کورس کرایا جائے جس سے وہ اپنے پرائے، دوست دشمن، مخلص اور خود غرض میں فرق کرنا سمجھ سکیں۔ اگر ہم دینی تعلیم کا اصلا ً اپنے تعلیمی اداروں میں نفاذ کر پاتے ہیں تو میرا نہیں خیال کہ الگ سے کسی کورس کی ضرورت ہو گی۔ ایک اہم بات والدین اس دنیا میں اچھی بات سکھانے، سمجھانے کے لئے ہی بھیجے گئے ہیں وہ کوئی ڈرامائی کردار نہیں کہ اولاد کو میری زندگی میری مرضی کے نام پر سب کچھ کرتا دیکھتے رہیں اور کچھ نہ کہیں اور اگر یہ کسی بھی طریقے سے صحیح ہے تو ماں باپ کو بھی ایک ہی زندگی ملی ہے اگر وہ اپنی خواہشوں کے لئے اپنی اولاد کو چھوڑ دیں تو آپ خود فیصلہ کیجئے کیسا معاشرہ تشکیل پائے گا۔

ماں باپ سے بات کیجیے ان کے کچھ تجربات، خدشات، واہمے ہیں انہیں سنیئے، سمجھئے پھر اپنا مدعا سمجھائیے کیونکہ کل کسی نہ کسی صورت اولاد کو بھی انہی مسائل سے گزرنا ہے ان کے تجربات سے سیکھئے۔ انہیں وہ عزت اور مقام دیجیئے جو ان کا حق ہے یہ ناممکن ہے کہ کل زندگی میں پلٹ کر آپ کو وہی مقام اور عزت نہ ملے۔ ماں باپ نعمت ہیں ان کی موجودگی میں بہت ساری پریشانیاں ہم تک پہنچتی ہی نہیں، ان کی قدر کیجئے، دنیا کا سب سے محفوظ سائبان جو بغیر کسی میڈل یا تعریف کی چاہ میں اپنی جوانی، خواہشیں، پیسہ، طاقت، صحت اپنی اولاد پر قربان کر چکے ہیں، ان کی عزت کیجئے، ان کو مان دیجیئے، ان کا احساس کیجئے اور اپنا کینوس بڑا کیجئے۔

Facebook Comments HS