نذر محمد راشد نے ”ایران میں اجنبی“ کے دوسرے حصے کو کانتو کس وجہ سے کہا ہے؟
نذر محمد راشد نے ”ایران میں اجنبی“ کے دوسرے حصے کو کانتو کس وجہ سے کہا ہے؟ ”کانتو“ ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب ”پریوں کی کہانی“ ہے۔ اگرچہ پریوں کی کہانیاں بنیادی طور پر بچوں کے لیے لکھی جاتی ہیں، لیکن ان کی فنی قدروں سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگر چہ پریوں کی کہانیوں کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے، لیکن اس صنف میں سراب، خیال، جادو اور خواب جیسے عناصر ہوتے ہیں۔ ”ایران میں اجنبی“ کی نظمیں کس حد تک پریوں کی کہانیوں کی خصوصیات کو ظاہر کرتی ہیں؟
سب سے پہلے، پریوں کی کہانی میں ایک احساس تکمیل کے لئے ایک آغاز اور ایک اختتام کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ”ایران میں اجنبی“ میں، راشد ”نوشیروان عادل کی داد گاہیں“ کے ساتھ اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔ کہانی ترقی کرتی رہتی ہے اور ”تیل کا سوداگر“ پوری کہانی کا اہم موڑ ہے۔ یہ کہانی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب راشد ایک نئے ایران کا خواب دیکھتے ہیں جس میں ”آدم نو“ کسی پر انحصار کیے بغیر اپنے پر امیدی مستقبل کا خاکہ بناتے ہیں۔
پریوں کی کہانیوں کو اکثر تاریخی تناظر میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ ”ایران میں اجنبی“ میں، راشد تاریخی شخصیات اور داستانوں کے استعمال کے ذریعہ سامعین کو مخصوص تاریخی دور میں واپس لاتے ہیں، مثلاً ”نوشیرواں“ ، ”شیریں فرہاد“ اور ”امیر خسرو“ ۔ جیسے معروف تاریخی لوگوں اور ہیروز کے ناموں کے استعمال کو ایک ادبی حکمت علمی تصور کرتے ہیں جس سے کہانی کو تاریخی موڑ ملتا ہے۔ تاریخی قلعوں، برج و فصیلوں اور مزار جیسے عناصر نظم کے تاریخی دلچسپی کو مزید بڑھاتے ہیں۔
پریوں کی کہانی میں جوش اور تجسس کا احساس پیدا کرنے کے لئے پراسراریت کا ماحول پیش کیا گیا ہے۔ ”ایران میں اجنبی“ میں آسیہ کو ”عنکبوت کے جال“ میں پھنسی ہوئی ایک غافل ”مہ جبین“ کے مانند تصور کیا جاتا ہے۔ وہ ”زرتشت“ کی نجات کا انتظار کر رہی ہے جس کا جادو اس پر ڈالی گئی لعنت کو ختم کر سکتا ہے۔ یہاں صوفیانہ عناصر اور حقیقی عناصر دونوں کا تخلیقی امتزاج نظموں کے ادبی مزاج کو بلند سے بلند تر کرتا ہے۔
آخر میں، پریوں کی کہانی قارئین کو اخلاقی پیچیدگی میں ڈالنے کے بجائے ان میں کوئی اخلاقی ابہام پیدا نہیں کرتا ہے۔ ”ایران میں اجنبی“ میں، ہم مختلف کرداروں کے درمیان ہونے والے شدید تضاد دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، نظم ”من و سلوٰی“ میں ”درویش بزرگ“ اور ”نوشیروان“ فارس کی سخاوت اور ایمانداری کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ کردار ”فرنگی راہزن“ اور ”سیہ پوست“ مغربی طمع کی علامت ہیں۔ نیز، نظم ”تیل کے سوداگر“ میں ایک اور دلچسپ تضاد دیکھا جا سکتا ہے، جب راشد ایران کو ایک بوڑھا آدمی قرار دیتے ہیں جس کی ”خمیدہ کمر“ پر ایک ہوشیار امریکی تیل کا سوداگر بیٹھا ہوتا ہے۔ اس قسم کی خصوصیت نہ صرف مزاحیہ بلکہ حقیقی ستم ظریفی کا تاثر پیدا کرتی ہے۔
راشد نے مغرب کے خلاف اپنی تنقید کو پیش کرنے کے لیے اس ادبی صنف کو کیوں اختیار کیا ہے؟ میرے خیال میں ہم راشد اور اقبال کا موازنہ کر کے کوئی اشارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر چہ نذر محمد راشد اور علامہ اقبال دونوں مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والے سیاسی اور نظریاتی کشمکش پر زور دیتے ہیں، یہاں ان کے اسلوب بیان میں کافی فرق ہے۔ جبکہ اقبال مشرقی معاشرے کو مغربی ثقافتی بالادستی میں الجھا ہوا دیکھ کر فن خطابت شورش کے ذریعہ اس کو اسلامی قوم کی تشکیل اور اہمیت پر قائل کرتے ہیں، راشد کا خیال یہ ہے کہ طنزیہ انداز بیان مغرب کی سازشوں اور منافقت کا انکشاف کر سکتی ہے، جو خاموشی سے مشرقی معاشرے کے اخلاقی نظام کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔
اگر اقبال قائل کرنے کی ادبی جمالیات کی بنیاد پر اپنے آپ کو ممتاز کرتے ہیں تو راشد دلیل پیش کرنے کی ادبی طاقت کی بنیاد پر اپنی ساکھ بناتے ہیں۔ اگر اقبال عظیم الشان تھیٹر میں ایک مقرر کی مانند ہیں، تو راشد محلے کے قصہ گو ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں اقبال کے سامعین دانشور طبقہ ہے، وہیں راشد کے سامعین عام لوگ ہیں جب راشد نے اپنی پریوں کی کہانی (کانتو) کے ذریعہ قارئین کے ساتھ احساس قربت پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔


