فلم کملی


پاکستانی سینما کی کہانی خاصی پرانی ہے۔ 1930 میں پہلی فلم، حسن کا ڈاکو، سے جس سفر کا آغاز ہوا، اس میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی اور لاہور سینما کے حوالے سے بڑے مراکز کے طور پر جانے جاتے رہے۔ اسی دوران اسے نہ صرف ایک انڈسٹری کا درجہ ملا بلکہ لالی وڈ کا نک نیم بھی ملا۔ عروج کے اس دور میں پاکستانی کلچر کی ایک شناخت پاکستانی سینما بھی تھی اور اس کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ نہ صرف اردو بلکہ پنجابی فلمیں بھی لاتعداد ناظرین کو اپنے سحر میں لیے رکھتیں۔

پھر مارشل لا کے دور میں سنسر شپ نے اسے نقصان بھی پہنچایا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب پاکستانی سینما گھروں کا نام و نشان مٹنے کو تھا۔ لیکن 2000 کے بعد یہ انڈسٹری پھر سے سر اٹھانے لگی۔ شارٹ فلمز کے تجربات کیے گئے۔ سینما کا مرکز کراچی میں شفٹ ہو گیا اور نوجوان فلم سازوں نے نئے موضوعات پر فلمیں بنانے کے تجربوں کا آغاز کیا۔ اس دہائی کے تجربات میں بھی بہت ورائٹی ہے۔ جس میں انفرادی تجربات کے ساتھ ساتھ بھارتی فلموں کی نقالی بھی شامل رہی، لیکن زور کمرشل فلم پر ہی رہا۔ تا کہ گزشتہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

سینما کے اس رجحان کو شان کی فلم، خدا کے لیے، نے کسی حد تک تبدیل کیا، جو ایک خاص موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کے بعد پاکستانی فلم سازوں کی توجہ اس جانب ضرور ہوئی کہ سنجیدہ موضوعات پر فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔ تاہم اولیت شان شاہد ہی کو حاصل رہی۔ اس فلم کے بعد نہ صرف کمرشل فلموں کا آغاز ہوا بلکہ پاکستان میں سینما کی تجدید نو ہوئی۔ ماڈرن، آرام دہ اور محفوظ سینما گھروں کا رواج ہوا، جہاں خواتین بھی آزادانہ آنے جانے لگیں۔

اور کچھ ہی سالوں میں نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اکیلی خاتون بھی لیٹ نائٹ شو دیکھ کر گھر آ سکتی ہے۔ ہر بڑے شاپنگ سنٹر میں ایک سینما ہے، جو پر آسائش بھی ہے اور محفوظ بھی۔ یوں سینما ہماری روزمرہ زندگی کا دوبارہ سے حصہ بن گیا۔ خاص طور پر عیدین اور خاص مواقع پر عید کا شو، وہی اہمیت رکھتا ہے جو ماضی میں ٹیلی ویژن پر فیل کے ٹیلی کاسٹ ہونے پر رکھتا تھا، یا سینما میں کسی فلم کی خاص مواقع پر ریلیز۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اچھی سے اچھی فلم بھی بلیک کے ٹکٹ، کھڑکی توڑ ہفتے کے بجائے، آن لائن بکنگ کے سہارے سہولت سے دیکھی جا سکتی ہے۔

اس دور نفسا نفسی میں، جب کہ کسی فرد کو دوسرے کی فکر نہیں، تشدد اور عدم تحفظ عام ہے، برداشت کا نشان تک معاشرے میں باقی نہیں مہنگائی اور بیروزگاری ہر گھرانے کی کمر توڑے دے رہی ہے، کتاب معاشرے کی ترجیح نہیں، پارک اور گراؤنڈ تعمیرات کی نذر ہو رہے ہیں تو سینما کی سہولت نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ بہترین ذریعہ فرار ہے۔ جہاں کوئی بھی شخص اپنے مسائل کو چند گھنٹوں کے لیے بھلا سکتا ہے۔ ( بشرط یہ کہ فلم اچھی ہو )

گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک اچھی بلکہ بہت اچھی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس کا نام ہے، کملی۔ کملی، کھوسٹ فلمز کی فخریہ پیشکش ہے، جو اپنی جگہ اس کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔ سرمد سلطان کھوسٹ نے ایک طویل عرصہ ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں کام کیا ہے اور ان کا نام ہی کسی پراجیکٹ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس کے باوجود کملی، پاکستانی سینما کی تاریخ کی ایک اہم کڑی کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اور فلم ناقدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے گی۔ کملی نے ناظرین کو نہ صرف چونکا دیا بلکہ یہ اعتماد بھی دیا ہے کہ پاکستانی سینما اس حد تک بھی جا سکتا ہے۔ سر دست جو جو نکات اس فلم میں یکسر مختلف ہیں، ان پر بات کرنا مقصود ہے :

1۔ سب سے پہلا قابل غور نکتہ تو کسی فلم کے بارے میں یہی نوٹ کیا جاتا ہے کہ اس نے انڈسٹری کو کتنا بزنس دیا؟ اس لحاظ سے کملی کامیاب فلم ہے، کیونکہ اس کی پروموشن بھرپور انداز سے کی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں تماشائیوں کی یلغار فلم کی نمائش کے پہلے ہی دن سے قابل توجہ تھی۔ ان ناظرین میں دو قسم کے عوام تھے۔ پہلی تو وہ نوجوان نسل، جو سرمد کھوسٹ کے نام اور سحر میں مبتلا ہو کر فلم دیکھنے آئی تھی۔ دوسرے وہ ناظرین جو صبا قمر کا نام دیکھ کر یہ جانتے کہ ایکٹنگ کے نام پر بہت کچھ قابل دید ہو گا۔

2۔ کہانی کی پروموشن اس انداز میں کی گئی تھی کہ سسپنس کے عنصر نے دیکھنے والوں کو جکڑ لیا تھا۔ وہ اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے جلد از جلد فلم دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ فلم کی نمائش سے قبل ہی اس کی کامیابی کی ایک اور ضمانت تھی۔

3۔ فلم دیکھنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ خواتین کی کہانی ہے، لہذا خواتین کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھنے پہنچی۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ کملی کے ناظرین کی تعداد میں سے 90 فی صد خواتین ہیں، تو غلط نہ ہو گا۔ اور اس میں ہر عمر کی خاتون شامل تھی۔

4۔ کملی ہر گز روایتی پاکستانی فلموں میں شمار نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی یہ ایک مکمل آرٹ فلم ہے۔ اس کا موضوع قابل توجہ ہے۔ انسانی جذبات و احساسات کو اس خوب صورتی سے گرفت میں لایا گیا ہے کہ فلم دیکھنے والا اس سے پیدا ہونے والی گھٹن کو بالکل محسوس نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر اسی موضوع کو قدرے مختلف انداز میں پیش کیا جا تا تو یہی موضوع متنازعہ بھی ہو سکتا تھا۔ نفسیاتی مسائل اور انسانی جذبات پر قابو پانا یا نہ پا سکنا، اس فلم کا اصل موضوع ہے۔

5۔ ضمنی طور پر کئی موضوعات پر بات کی گئی ہے، جس میں مذہبی فکر کو بھی سامنے لایا گیا ہے۔ ایسی شادیاں، جن میں شوہر لاپتہ ہو جاتے ہیں اور بیوی سالوں انتظار کرتی ہے۔ یا پھر شوہر کے لاپتہ ہو جانے پر بیوی اس انتظار سے کیسے رہائی پا سکتی ہے، ان سب سوالات کے جواب انتہائی مدلل اور متوازن انداز میں دیے گئے ہیں۔

6۔ خواتین کی زندگی کو ایک قابل توجہ انداز میں سامنے لایا گیا ہے۔ ٹیلی ویژن اور فلم دیکھنے والے عموماً پاکستانی خواتین کی دو اقسام سے ہی واقف ہیں، ایک وہ جو روتی دھوتی اور قابل رحم زندگی گزارتی ہیں۔ دوسری وہ جن کی زندگی کا اول و آخر مقصد صرف سازشیں کرنا اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی خاتون ہے تو اس کی زندگی کا مقصد محض رومانس میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ فی زمانہ اس دنیا کی عورتوں کو کیوں تصویر نہیں کیا جاتا، جہاں ہر گھر کی عورت کمانے کے لیے نکلی ہوئی ہے۔

ٹیلی ویژن میں تو ہر عورت کا کاہل روپ دکھایا جاتا ہے، جہاں اس کی زندگی سبزی کاٹتے اور ٹی وی دیکھتے گزر جاتی ہے۔ پہلی بار کسی فلم میں خواتین کا یہ روپ سامنے آیا تو ایک حیرت انگیز خوشی ہوئی۔ جہاں بلا تفریق، شہر اور گاؤں کی عورت کو کام کرتے ہوئے اور معاشی طور پر خود مختار دکھایا گیا ہے۔ بلا شبہ یہ ہمارے موجودہ معاشرے کی سچی تصویر ہے۔

7۔ حقیقت پسندی کی ایک اور مثال فلم کی ہیروئن کی تصویر کشی ہے۔ عام طور پر ناظرین اس وقت کوفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جب لوکیشن، حالات و واقعات اور دن رات کے فرق کو نظر انداز کر کے ہیروئن کو زرق برق لباس میں ملبوس اور میک اپ میں لتھڑا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ پہلی بار کسی فلم میں ہیروئین کو پہاڑوں میں بغیر ہیل کا جوتا پہن کر دیکھنا، کسی بھی ناظر کو فلم کی کہانی کے قریب کر دیتا ہے۔ ملبوسات اور اس کے ساتھ ساتھ اس قسم کی تفصیلات پر بھی ٹیم کی گہری نظر تھی، جو اس فلم کی کامیابی کی وجہ بنی۔

8۔ ان سب حقائق کے علاوہ فنی اعتبار سے جو بات سر فہرست ہے، وہ اس فلم کی فوٹو گرافی ہے۔ لوکیشن کا انتخاب تو ہے ہی خوب، لیکن ان نظاروں کو جس طور فلمایا گیا ہے، اس نے اس فلم کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

9۔ فلم کو جو امر، دیگر فلموں سے ممتاز کرتا ہے، وہ اس کے ڈائیلاگ ہیں۔ اگرچہ کردار، مکالمے، اور واقعات کسی بھی کہانی کا جزو لازم ہوتے ہیں، لیکن اس فلم میں مکالمے کم سے کم بولے گئے ہیں، اس کے مقابلے میں کرداروں کی حرکات و سکنات سے بہت سے جذبات و احساسات کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ وہ امر ہے، جو پوری فلم میں اپنے ناظر کو آنکھ جھپکنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ کوئی ایک لحظہ بھی ایسا نہیں جس میں کسی سین سے دیکھنے والے اکتا جائیں۔ نہ ہی غیر ضروری طور پر سین کو لمبا کیا گیا ہے۔ پس پردہ آوازیں ( ریڈیو) بھی معنی خیز ہے۔ اس لحاظ سے اس فلم کی کہانی بہترین ادب پاروں سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے، کیونکہ اس میں وہ تمام محاسن موجود ہیں۔

10۔ ثانیہ سعید، صبا قمر اور سرمد سلطان کھوسٹ تمام تر کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ جن کے نام پر ناظرین کی ایک بڑی تعداد نے اس فلم کو دیکھنے کے لیے سینما کا رخ کیا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ یہ فلم ان قارئین کے لیے جنہوں نے ادب کا مطالعہ کر رکھا ہو۔ جو جانتے ہوں کہ اچھے سے اچھے ادب پارے میں کچھ سوالات چھوڑے جاتے ہیں۔ کچھ چیزیں بین السطور ہونی ہی چائیں۔ کچھ باتوں کا ان کہا ہونا کتنا خوب صورت ہوتا ہے۔ ہلکی پھلکی وقت گزاری والے قارئین تو کمرشل کہانیوں سے خوش ہو جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ فلم یاد رہ جانے والی ہے، اس نے بہت سے سوالوں کے جوابات دیے اور کئی نئے سوالوں کو معاشرے کے سامنے خوب صورت اور قابل قبول انداز میں پیش کیا۔ یہی سرمد کھوسٹ کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ یہ فلم نہ صرف پاکستانی سینما کا اعتماد بھال کرنے میں کامیاب ہو گی، بلکہ بزنس کے لحاظ سے بھی کامیاب ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آنے والے وقت میں کئی ایوارڈ اس فلم کی کامیابی کا درجہ متعین کریں گے۔

Facebook Comments HS

One thought on “فلم کملی

  • 04/07/2022 at 2:32 شام
    Permalink

    واہ ۔ آپ نے بہت خوبصورت انداز سے کملی کی خاکہ کشی کی ہے۔ اب تو لازمی دیکھنی پڑیگی یہ فلم۔ بہت شکریہ

Comments are closed.