انڈیا میں مسلم خواتین کو ملازمت کے حصول میں تفریق کا سامنا: ‘تم حجاب پہنتی ہو، یہاں ملازمت کی امید مت رکھو‘

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


انڈیا مسلم خاتون
فائل فوٹو
تبسم ( فرضی نام) انڈیا کے شہر ممبئی کی ایک ڈاکٹر ہیں۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے کئی ہسپتالوں اور کلینکس میں ملازمت کے لیے درخواستیں دیں۔ میڈیکل کی تعلیم انھوں نے بہت اچھے نمبرز کے ساتھ مکمل کی تھی، اس لیے انھیں جلد ہی ملازمت مل جانے کی امید تھی۔

انھوں نے کئی اداروں میں درخواست دی لیکن انھیں کہیں سے مثبت جواب نہیں آیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں نے سوچا کہ شاید دوسرے امیدوار مجھ سے قابل ہوں، وہ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہوں شاید اسی لیے مجھے نہیں لیا ہو۔‘

’کچھ دن بعد میں نے ایک پرائیوٹ کلینک میں درخواست دی۔ وہ میرے کالج کے ایک سابق پروفیسر چلا رہے تھے۔ ان کی اہلیہ نے مجھے بتایا کہ تم حجاب پہنتی ہو اس لیے بعض مریضوں کو اس پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس لیے تم یہ امید مت کرو کہ تمہیں یہاں ملازمت مل جائے گی۔‘

‘مجھے اس وقت احساس ہوا کہ مجھے ملازمت کے لیے کالز کیوں نہیں آتی تھیں۔ جہاں جہاں میں نے خود جا کر درخواست جمع کرائی تھی وہاں سے مجھے کالز نہیں آئیں اور جہاں میں نے آن لائن ایپلیکیشن بھیجی تھی یا جہاں انھوں نے مجھے نہیں دیکھا تھا وہاں سے کالز تو آئیں لیکن انٹرویو کے بعد مجھے نہیں لیا جاتا۔‘

یہ کہانی صرف تبسم کی ہی نہیں۔ لکھنؤ کی نائلہ (فرضی نام) کو تو ایک سکول کے استقبالیہ پر ہی بتا دیا گیا تھا کہ اگر یہاں ملازمت کرنی ہے تو سکارف اتارنا ہو گا۔

نائلہ نے بتایا کہ ‘میں نے ان سے کہا کہ اگر یہ آپ کی پالیسی ہے تو جاب ایپلیکیشن کی شرائط میں اس کا ذکر ہونا چاہیے۔ کچھ دن بعد سکول سے فون آیا کہ آپ امتحان کے لیے کال لیٹر لے جائیں۔ میں وہاں دوبارہ نہیں گئی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھے جاب نہیں دیں گے۔‘

انڈیا میں مسلم خواتین، خاص طور سے وہ لڑکیاں جو حجاب پہنتی ہیں، اکثر ملازمتوں میں تفریق کا ذکر کرتی ہیں اور ملازمتوں میں ان کی نمائندگی بہت کم ہے۔

گزشتہ دنوں انڈیا کے ایک غیر سرکاری ادارے ‘لیڈ بائی‘ نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملازمتوں میں 47 فیصد مسلم لڑکیوں کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے یعنی جتنی بھی مسلم لڑکیاں ملازمت کے لیے درخواست دیتی ہیں ان میں سے تقریباً نصف کو مسلم ہونے کے سبب ملازمت نہیں ملتی۔

انڈیا مسلم خاتون

فائل فوٹو

لیڈ بائی‘ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روہا شاداب نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کی ورک فورس میں مسلم خواتین کی نمائندگی اور ممکنہ تفریق کے بارے میں کوئی مطالعہ نہیں کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ‘منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں صرف سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلم خواتین کی نمائندگی پر نظر ڈالی گئی تھی۔ ہماری پہلی ایسی کوشش ہے جس میں ملازمتوں میں مسلم خواتین کو درپیش چیلنجز کا مطالعہ کیا گیا ہے۔‘

ڈاکٹر روہا شاداب کے مطابق اس مطالعے سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہندو لڑکیوں کے مقابلے 47 فیصد مسلم لڑکیوں کو ملازمت کے لیے کال نہیں آئی۔

ڈاکٹر روہا نے بتایا کہ اس مطالعے کے لیے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا ۔

‘ابتدائی کیرئیر کی ملازمتوں میں درخواست دینے کے لیے ایک رزیومے تیار کیا گیا۔ یہی بائیو ڈیٹا جاب کے لیے حبیبہ علی اور پریانکا شرما کے نام سے بھیجا گیا۔ 10 مہینے کی مدت میں جاب سرچ کی کئی سائٹس پر دستیاب مختلف نوکریوں کے لیے الگ الگ ایک ہزار درخواستیں حبیبہ کے نام سے اور ایک ہزار درخواستیں پریانکا شرما کے نام سے دی گئیں۔ ان درخواستوں میں لڑکیوں کی تصویریں نہیں لگائی گئی تھیں۔‘

‘اس طریقہ کار سے تفریق کی شرح واضح طور پر سامنے آ گئی، جو 47 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہندو خاتون درخواست کنندہ کو 208 جگہوں سے مثبت جواب ملا جبکہ اس کے مقابلے مسلم خاتون کو صرف 103 کالز ملیں۔ یہی نہیں ملازمتیں دینے والی کمپنیاں ہندو خاتون کے تئیں زیادہ پرخلوص تھیں اور 41 فیصد سے زیادہ کمپنیوں نے پریانکا سے فون پر رابطہ کیا جبکہ صرف ساڑھے بارہ فیصد ریکروٹر نے حبیبہ سے فون پر رابطہ قائم کیا۔‘

انڈیا مسلم خاتون

اس مطالعے میں ایک اور بات سامنے آئی کہ مسلم خاتون کے ساتھ تفریق کی شرح شمالی انڈیا میں کم یعنی 40 فیصد تھی جبکہ مغربی انڈیا میں 59 اور جنوب میں 60 فیصد تھی۔

ڈاکٹر روہا کہتی ہیں کہ یہ مطالعہ ورک فورس میں مسلم خواتین کو درپیش چیلنجز کا پہلا جائزہ ہے لیکن یہ مکمل جائزہ نہیں۔

‘ہمیں نہیں معلوم کہ اگر رزیومے میں مسلم لڑکی حبیبہ کی حجاب میں کوئی تصویر لگا دی گئی ہوتی تو اس کا کیا نتیجہ ہوتا۔ ہم نے شرما ٹائٹل کے ذریعے پریانکا کی ایک برہمن لڑکی کے طور پر شناخت کی تھی۔ اگر اس کی جگہ کسی دلت لڑکی کا نام ہوتا تو شاید رزلٹ کچھ اور ہوتا لیکن اس مطالعے سے یہ واضح ہے کہ مسلم خواتین کے ساتھ ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر تفریق ہو رہی ہے۔‘

لیڈ بائی فاؤنڈیشن مسلم خواتین کو کاروبار، تجارت اور کارپوریٹ شعبے میں آگے جانے کی تربیت دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلم خواتین کے ساتھ تفریق کیوں؟

کرناٹک میں حجاب پر پابندی: ’جب لوگ اپنی مذہبی رسومات پر عمل کر سکتے ہیں تو ہم پر پابندی کیوں؟‘

’جب ظلم بڑھے گا تو آوازیں اٹھیں گی اور خواتین کا آگے آنا لازمی ہے‘

‘نہ صرف ہماری سیاست بلکہ معاشرہ بھی مسلم مخالف ہے‘

لیڈ بائی فاؤنڈیشن کی ‘بائس ان ہائرنگ‘ یعنی ‘بھرتیوں میں تعصب‘ کے عنوان سے اس رپورٹ پر سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے تبصرے کیے ہیں۔

امت ورما نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اس سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف ہماری سیاست بلکہ معاشرہ بھی مسلم مخالف ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘یہ مطالعہ ورک پلیس میں مسلم مخالف روش کو بہت معقول طریقے سے سامنے لایا ہے۔‘

آمنہ نے لکھا کہ ‘یہ آنکھ کھولنے والا سروے ہے۔ مسلم خواتین کو ہر صنعت اور سطح پر تفریق کا سامنا ہے۔‘

واضح رہے کہ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تفریق کے سبب ملکی معیشت بہترین تربیت یافتہ ذہنوں سے محروم ہو رہی ہے اور مختلف تنظیمیں، تحقیقی ادارے اور انفرادی طور پر لوگ ایک موزوں ماحول بنا کر ملازمتوں میں مسلم خواتین کا حصہ بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25282 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments