تین اصول جو مسلم دنیا کو اپنا لینے چاہئیں – مکمل کالم


1905 کو معجزات کا سال کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سال ہے جب پچیس برس کے البرٹ آئن سٹائن نے تین مضامین لکھ کر فزکس کے ایک جریدے کو بھیجے، ان مضامین نے سائنس کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ پہلے مضمون میں آئن سٹائن نے ایٹم کی ساخت اور حجم پر روشنی ڈالی اور ثابت کیا کہ ایٹم کے بارے میں دیموکریتس کے نظریات درست تھے۔ دوسرا مضمون نظریہ اضافیت کے بارے میں تھا، یہ وہ نظریہ تھا جس نے نیوٹن کے کلاسیکی قوانین کو تبدیل کر دیا، آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ کائنات میں روشنی کی رفتار یکساں رہتی ہے، کوئی شے روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتی، مادے کو توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، وقت کوئی آفاقی شے نہیں، کائنات میں کسی مخصوص وقت کا تعین کرنا ممکن نہیں اور اس کی مثال یوں ہے کہ دو جڑواں بھائیوں میں سے ایک بھائی اگر زمین پر رہے اور دوسرا آسمانوں کی سیر کو نکل جائے تو واپسی پر زمین والا بھائی دوسرے کے مقابلے میں بوڑھا ہو چکا ہو گا۔

آئن سٹائن کے اس مضمون کے بعد فزکس وہ نہ رہی جو نیوٹن کے دور سے پڑھائی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ آئن سٹائن نے جو تیسرا مضمون بھیجا وہ کوانٹم مکینکس سے متعلق تھا، اس میں آئن سٹائن نے بتایا کہ روشنی فوٹون پر مشتمل ذرات کا مجموعہ ہے، یہ ذرات توانائی کے پیکٹ کی شکل میں ہوتے ہیں، روشنی کی فریکوئنسی کا انحصار ان ذرات کی تعداد کی بجائی ان کی توانائی پر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بات نہایت سادہ تھی مگر یہاں سے کوانٹم تھیوری نے جنم لیا اور سائنس دان ایک نئی کائنات میں داخل ہو گئے جہاں فزکس کے مروجہ قوانین کام نہیں کرتے تھے۔ اس تیسرے مضمون پر آئن سٹائن کو فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔

لیکن ہمارا موضوع آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت یا کوانٹم تھیوری نہیں، ہمارا موضوع ایک ایسا شخص ہے جس نے آئن سٹائن کو بھی غلط ثابت کر دیا۔ اس شخص کا نام جیورجس لی ماترے (Georges Lemaitre) تھا۔ یہ ایک نوجوان پادری تھا جس نے ایڈون ہبل سے بھی پہلے یہ جان لیا تھا کہ اگر ہم ایک پتھر کو فضا میں اوپر جاتا دیکھیں گے تو لا محالہ سوچیں گے کہ اس سے پہلے یہ پتھر نیچے ہو گا جسے کسی قوت کے ذریعے فضا میں دھکیلا گیا ہو گا۔ اس بات سے لی ماترے نے یہ اخذ کیا کہ کائنات بھی پہلے کسی زمانے میں سکڑی ہوئی ہوگی اور پھر کسی عظیم دھماکے کے نتیجے میں پھیلی ہوگی۔ اس نظریے کو آج ہم بگ بینگ کہتے ہیں۔

لی ماترے ایک درویش اور عاجز قسم کا انسان تھا، اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کائنات کے سکڑنے یا پھیلنے کا نظریہ سب سے پہلے اس نے دیا تھا، ہم یہ بات آج ایڈون ہبل سے منسوب کرتے ہیں۔ کائنات کے پھیلاؤ سے متعلق آئن سٹائن بھی تشکیک کا شکار تھا اور اس نظریے کا حامل تھا کہ کائنات جامد ہے، مگر پھر اس کی ملاقات لی ماترے سے ہوئی جس نے اسے قائل کر لیا کہ ایسا نہیں ہے اور بیسویں صدی کے جینئس نے بلا چوں چرا اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کائنات کو جامد سمجھتے ہوئے آئن سٹائن نے اپنی ’مساوات‘ میں کاسمولوجیکل کانسٹنٹ بھی متعارف کروایا تھا مگر اب جبکہ کائنات جامد نہیں رہی تھی تو آئن سٹائن کے خیال میں یہ ضروری تھا کہ کاسمولوجیکل کانسٹنٹ سے بھی جان چھڑا لی جائے۔ تاہم لی ماترے نے یہاں بھی اس سے اتفاق نہیں کیا اور ’آئن سٹائن کو سمجھایا‘ کہ ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں بھی کاسمولوجیکل کانسٹنٹ کی ضرورت رہے گی اور اس کانسٹنٹ کی مدد سے کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کا تعین کرنا ممکن ہو گا۔ یہاں بھی آئن سٹائن غلط تھا اور لی ماترے کی بات درست تھی۔ آج سائنس دان اس رفتار کو جان چکے ہیں۔

جب بگ بینگ کے نظریے کی بازگشت پاپائے اعظم تک پہنچی تو اس نے ایک عوامی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سائنس نے ثابت کر دیا کہ بائبل میں بیان کردہ کائنات کی تخلیق کا نظریہ درست تھا۔ یہ 1951 کی بات ہے۔ لی ماترے کو جب اس بات کا علم ہوا تو اسے بے حد تشویش ہوئی، اس نے پوپ سے رابطہ کیا اور اسے ’سمجھایا‘ کہ وہ کائنات کی تخلیق کی مذہبی تعبیر اور بگ بینگ کے باہمی تعلق پر تبصرے سے گریز کرے کیونکہ سائنس اور مذہب کو یوں خلط ملط کرنا حماقت ہے، اس نے کہا کہ بائبل طبیعات کے متعلق کچھ نہیں جانتی اور سائنس خدا سے متعلق کچھ نہیں جانتی۔ پوپ نے لی ماترے کی بات مان اور اس کے بعد کلیسا نے اس موضوع پر کبھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس ایک شخص آئن سٹائن اور پاپائے اعظم دونوں کو غلط ثابت کیا۔

یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ مسلم دنیا سائنس میں ترقی کیوں نہیں کر سکی؟ اس سوال کا جواب آئن سٹائن، لی ماترے اور پاپائے اعظم کی اس کہانی میں پوشیدہ ہے۔ آئن سٹائن نے کوانٹم مکینکس سے متعلق جب اپنا مضمون تحریر کیا تو اس میں ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں پڑھ کر لگتا ہے جیسے کوئی شخص بہت عاجزی اور ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کر رہا ہو، کہیں بھی اس نے یہ نہیں لکھا کہ ’میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں۔ ‘ اسی قسم کا طرز تحریر ہمیں ڈارون کی کتاب میں بھی ملتا ہے جس میں ڈارون نے اپنے کام کے حوالے سے کوئی کریڈٹ لینے کی بجائے جا بجا یہ کہا ہے کہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں وہ مجھ سے پہلے بھی فلاں فلاں لوگ کرچکے ہیں۔

مائیکل فیراڈے اور نیوٹن بھی ایسے ہی سائنس دان تھے جنہوں نے بلند بانگ دعوے نہیں کیے بلکہ نہایت عاجزی کے ساتھ اپنی تحقیقات دنیا کے سامنے رکھ دیں۔ لی ماترے کا بھی یہی حال تھا، اس نے تو بگ بینگ والا سہرا باندھنے کی کوشش بھی نہیں کی جس پر سوائے اس کے کسی اور کا حق نہیں تھا۔ سو میرا یہ خیال ہے کہ خدا کو عاجزی بہت پسند ہے اور وہ اپنے خزانے سے علم کے موتی اسی کو نوازتا ہے جو اس صفت کا حامل ہو۔ اسی سے جڑی ہوئی دوسری صفت اپنی غلطی تسلیم کرنا ہے۔

آئن سٹائن سے بڑا کوئی سائنسی دماغ آج تک پیدا نہیں ہوا، اگر آئن سٹائن ایک نوجوان پادری کے کہنے پر اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے تو ہم اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں، مگر حال ہمارا یہ ہے کہ چار کتابیں پڑھی نہیں ہوتیں اور اس قطعیت کے ساتھ گفتگو کرتے جیسے معاذ اللہ ہمیں الہام ہوتا ہو۔ یہ سائنسی سوچ کی نفی ہے، سائنس میں اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو سائنسی انداز فکر اپنانا ہو گا، یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ہمارا سوچنے کا انداز جاہلانہ ہو اور ہم توقع یہ کریں کہ کائنات کے راز گھر بیٹھے ہم پر آشکار ہوجائیں گے۔

آخری بات، ہمیں مذہب اور سائنس کو آپس میں گڈ مڈ کرنے کی عادت ترک کرنا ہوگی، ہر نئی سائنسی ایجاد یا دریافت کا سہرا الہامی کتب کے سر باندھنے ضرورت نہیں، سائنسی تحقیق سے روزانہ نئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں اور یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جبکہ مذہب ہمیں ایک آفاقی پیغام دیتا ہے جس میں تبدیلی کی گنجایش نہیں۔ لہذا جب بھی ہم کسی نئی سائنسی دریافت کے بارے میں یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی گئی تھیں تو ہم دراصل اپنے مذہب کی خدمت نہیں کرتے بلکہ اسے سائنس کا محتاج بنا دیتے ہیں۔

پانچ سو سال پہلے تک سائنس کا خیال تھا کہ زمین کائنات کا مرکز اور محور ہے جبکہ آج بچہ بچہ جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اگر پانچ سو سال پہلے کوئی مذہبی عالم اس بات کو اپنی الہامی کتاب سے ثابت کر دیتا تو آج وہ کہاں ہوتا؟ لی ماترے نے بھی پوپ کو یہی بات سمجھائی تھی کہ اگر اتفاقاً آج بگ بینگ کا نظریہ بائبل سے مطابقت رکھ رہا ہے تو ضروری نہیں کہ آئندہ برسوں کی سائنسی تحقیق بھی بائبل میں کہی ہوئی باتوں کے مطابق ہی ہو۔ یہ بات پاپائے اعظم کو سمجھ آ گئی تھی۔ ہمیں بھی سمجھ لینی چاہیے۔

نوٹ : اس کالم میں دیے گئے حقائق اور واقعات ماہر طبیعات Carlo Rovelli کی کتاب سے لیے گئے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 323 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments