راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی بس کھائی میں گرنے سے 19 افراد ہلاک
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں بلوچستان کے ضلع شیرانی کے قریب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی سدا بہار کوچ کمپنی کی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 19 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں دو ڈرائیور اور کنڈکٹر بھی شامل ہیں۔
حادثے کا مقام دانہ سر کا پہاڑی علاقہ بتایا جاتا ہے جو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں واقع ہے۔
ریسیکو 1122 ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق حادثہ اتوار کی صبح کوئی ساڑھے تین بجے پیش آیا تھا۔ حادثہ کی وجہ روڈ پر بارش کی وجہ پھسلن بتائی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والے مسافر بس کو حادثہ تیز رفتاری اور پھسلن کے سبب پیش آیا۔
اس مسافر بس میں 33 افراد سوار تھے۔ زخمیوں اور لاشوں کو ژوب اور قریب کے علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
سپر سدا بہار کپمنی کے مطابق دانہ سر کا علاقہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں پر بارش کے دوران پھسلن پیدا ہوجاتی ہے۔
’یہ حادثہ بھی پھلسن کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ ڈرائیور نے موڑ کاٹتے ہوئے بریک لگائی تو گاڑی بس پھلسن کے سبب سے گہری کھائی میں جاگری تھی۔‘
حادثے کے مقام سے منظر عام پر آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس سڑک سے کافی گہرائی میں ایک کھائی میں جا کر گری جس کی وجہ سے اموات کی تعداد زیادہ ہوئی۔
امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے ایک ریسیکو اہلکار کے مطابق بس کافی بلندی سے نیچے گری تھی اور حادثہ جس وقت پیش آیا اس وقت کسی حد تک اندھیرا تھا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو بھی جائے مقام پر پہچنے میں مشکلات پیش آئی تھیں۔
ریسیکو اہلکار کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو سڑک تک پہنچانے کا آپریشن کوئی پانچ گھنٹے تک جاری رہا تھا۔
واضح رہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے میں بارشوں کی وجہ سے دریاوں اور ندی نالوں میں طغیانی بھی آئی ہوئی ہے۔
سپر سدا پہار کمپنی کے مطابق بس میں سوار اکثریت طالب علموں اور افغان شہریوں کی تھی۔ طالب علم تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کے سبب اپنے آبائی علاقوں کو جارہے تھے جبکہ افغان شہری واپس افغانستان جارہے تھے۔ دونوں ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی سے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مون سون پاکستان میں داخل: معمول سے زیادہ بارشیں کیوں متوقع ہیں؟
’زخمی شخص تڑپتا رہا، سب ویڈیو بناتے رہے‘
جنرل بپن راوت اور اہلیہ کی ہلاکت: جائے حادثہ کے قریب موجود عینی شاہد نے کیا دیکھا؟
ریسیکو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق لاشوں کو گہری کھائی سے نکالنے کا کام ابھی مکمل ہوا ہے جن کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ کچھ لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ کچھ کی شناخت کا عمل ہسپتالوں میں جاری ہے۔
ژوب سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نور الحق کے مطابق ان کے پاس کم از کم 11 زخمی افراد لائے گے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔
ریسیکو اہلکار کے مطابق بارشوں میں اس مخصوص سڑک پر اکثر حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔
لیکن انھوں نے کہا کہ ’یہ حادثہ اپنی نوعیت کا بڑا حادثہ ہے۔ میری سروس کے تین سال کے دوران اس روڈ پر کسی حادثے میں اتنی زیادہ انسانی جانیں ضائع نہیں ہوئی ہیں۔‘


