بوسنیا کی چشم دید کہانی (5)

بیسویں صدی کی دنیا میں کسی ملک کے عروج و زوال کی داستان کو کسی ایک شخص کی زندگی اور موت سے شاید ہی اتنی گہری نسبت ہو جتنی کہ یوگوسلاویہ کی مارشل ٹیٹو سے۔ دوسرے لام کے ملبے سے ابھر کر اس ملک نے نہایت قلیل عرصہ میں ناقابل یقین ترقی کی اور اقوام عالم کے درمیان اپنی ایک حیثیت بنائی۔ لیکن مارشل ٹیٹو کی آنکھیں بند ہوتے جو دھند چھائی، جب چھٹی تو ایسی ویرانی سامنے تھی کہ جس کا احوال سنانے کا حوصلہ غزالاں بھی نہ کر پائیں۔
یوگو سلاویہ چھ جمہوریاؤں اور دو صوبوں پر مشتمل ملک تھا۔ اس میں 32.2 فی صد سرب 19.6 فی صد کروایٹ 9.8 فی صد مسلمان 9 فی صد البانوی 7.3 فی صد سلوینی 5.6 فی صد میکیدونی وغیرہ آباد تھے۔ سلوینیا، سربیا، کروایشیا، بوسنیا ہرزیگووینیا، مانٹینیگرو اور میکیدونیا اس کی چھ جمہوریائیں تھیں جبکہ کوسوو اورvovedenia اس کے دو صوبے۔ یہ پانچ قومیتوں، چار زبانوں اور تین مذاہب کا وطن کہلاتا تھا۔ اس میں آباد تین بڑی قومیتیں سرب، کروایٹ اور مسلمان تھیں۔
سلووینیا پہلی جمہوریہ تھی جس نے ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ بلغراد سے بہت دور انتہائی مغرب میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی آزادی کی راہ میں مرکز کی طرف سے کوئی قابل ذکر رکاوٹ نہ ڈالی جا سکی۔ چنانچہ جون 1992 میں سلووینیا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اقوام عالم میں شامل ہو گیا۔ اس روش کو نشان منزل بنانے والی اگلی جمہوریہ کروایشیا تھی جو سرب فوج کے ساتھ پنجہ آزمائی کے بعد آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
اب بوسنیا ہرزیگووینیا نے اس راہ پہ چلنے کی ٹھانی۔ سلوینیا اور کروایشیا کی آزادی میں جس عنصر نے نتیجہ خیز کردار ادا کیا وہ ان جمہوریاؤں کی آبادی کی اکثریت کا ایک قومیت سے تعلق اور ایک مذہب یا فرقے کا پیروکار ہونا تھا۔ بوسنیا ہرزیگووینیا کا معاملہ بالکل جدا تھا۔ اس ریاست میں 43.7 فی صد مسلمان، 31.4 فی صد سرب اور 17.3 فی صد کروایٹ آباد تھے۔ 1992 میں اعلان آزادی کی عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے جب ریفرینڈم کا انعقاد ہوا تو سربوں نے اس کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے سرائیوو کو نشانے پہ رکھتے ہوئے اگمان کی پہاڑیوں پر مورچے سنبھال لیے ۔ پھر اسی شام اس چار سالہ جنگ کا آغاز ہوا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے تباہ کن جنگ ثابت ہوئی اور جس میں طاقتور نے کمزور کے ساتھ حساب بیباک کرتے ہوئے ایسی بے حسی روا رکھی کہ انسان اور درندے کی تفریق مشکل ٹھہری۔ سرب جن کی متحدہ یوگوسلاویہ میں اکثریت تھی آرتھوڈکس عیسائی تھے۔ مسلمانوں کے بعد تیسرے نمبر پہ کروایٹس کی اکثریت تھی جو کیتھولک عیسائی تھے۔
مختلف قومیتوں کی طرف سے آزادی کی تحریکوں کے آغاز سے قبل پورے یوگوسلاویہ میں مذہب یا عقیدہ معاشرتی تفاعل میں منفی عنصر کے طور پر فعال کردار ادا کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں قومیتوں میں مشترکہ شادیوں کا رواج عام تھا اور یہ شادیاں مرد یا عورت کسی کے لیے بھی رشتہ ازدواج میں بندھن کے لیے تبدیلی عقیدہ کا باعث کبھی بھی نہ بن پائی تھیں۔ یہی وہ رواداری تھی جو بعد میں سب سے بڑی سزا بن گئی۔ جب نسل اور عقیدے کی بنیاد پر علاقوں کی تقسیم عمل میں آئی تو خاندان بھی تقسیم ہوئے اور ایسے نوے فی صد جوڑوں کو اپنی زندگی کی قیمت کے طور پر اپنے مختلف العقیدہ جیون ساتھی کو خیرباد کہنا پڑا۔
ایسی کوئی خبر تو نہیں ساکنان شہر
دریا محبتوں کے جو بہتے تھے تھم گئے
ریفرینڈم کی شام گولوں اور بارود کی جو بوچھاڑ اگمان کی پہاڑیوں سے سرائیوو پہ شروع ہوئی جب اس کی گرم ہوا دوسرے علاقوں تک بڑھی تو کروایٹ جو شروع میں سربوں کے خلاف مسلمانوں کے شانہ بشانہ برسر پیکار تھے وہ بھی مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ سربوں کی پیٹھ پر بچا کھچا یوگوسلاویہ تھا اور کروایٹوں کی پیٹھ پر حال ہی میں وجود میں آنے والا کروایشیا۔ دونوں بوسنیا کے دعویدار تھے اور اس کے زیادہ سے زیادہ حصے پر بزور شمشیر قبضہ کرنے کے خواہاں۔
یوں یہ جنگ بستی بستی قریہ قریہ پھیلتی چلی گئی۔ ہار اور ہجرت ہر علاقے میں بسنے والی اقلیت کا نصیبہ بنی۔ کہیں یہ اقلیت سرب تھی، کہیں کروایٹ اور کہیں مسلمان۔ بوسنیا جو متحدہ یوگوسلاویہ کی وہ جمہوریہ تھی جہاں مذہبی اور نسلی ہم آہنگی سب سے زیادہ تھی اب انتقال آبادی کے سبب سرب، کروایٹ اور مسلمان اکثریتی علاقوں میں تقسیم ہوئی۔
سثولک بھی ان بستیوں میں ایک تھی جو کئی نسلوں سے ان قومیتوں کی مشترکہ دنیا تھی۔ جنگ کے بعد بوسنیا کا جو نقشہ وجود میں آیا اس کے مطابق نئے انتظام کے تحت ہرزیگووینا میں یہ آخری قصبہ تھا جس سے کچھ کوس ادھر ریپبلکا سربسکا شروع ہو جاتی تھی۔ 1991 کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں کی کل آبادی 18545 نفوس پر مشتمل تھی۔ یہاں 43 فی صد مسلمان، 33 فیصد کروایٹ اور 21 فی صد سرب آباد تھے۔ یہ قصبہ ہرزیگووینا کے صدر مقام موسطار سے تقریباً 30 کوس کے فاصلے پر ایک وادی میں واقع تھا۔
اس کے وسط میں پہاڑی پر موجود قلعہ کی بوسیدہ دیواریں اس بات کی گواہی دیتی تھیں کہ یہ بستی ماضی میں بھی تاریخ کے نرم گرم ادوار سے گزری ہے۔ قصبے سے جڑا ہوا دریائے بریگاوا بہتا تھا جو عثمانی حکمران خاندان کی وسیع و عریض رہائش گاہ بیگووینا کی دیواروں کو چھوتا ہوا قصبے میں داخل ہو تا تھا۔ یہ بیگوا کے محلے کے پاس پہنچ کر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ اس کی ایک شاخ قصبے کے بیچوں بیچ گزرتی تھی جبکہ دوسری قصبے سے ملحق کھیتوں کا رخ کرتی تھی۔
جنگ سے پہلے کا سٹولک قدیم اور جدید معاشرت کا ایک خوبصورت امتزاج تھا۔ اب دنیا اور تھی۔ مسلمان اگرچہ یہاں اکثریت رکھتے تھے لیکن ہمسائے میں واقع کروایشیا کی مدد کی وجہ سے مقامی کروایٹوں کا مقابلہ ان سے نہ ہو سکا۔ یوں ان کی اکثریت نے یہاں سے ہجرت کر کے مشرقی موسطار میں پناہ لی۔ شہر کی مشرقی سمت واقع محلہ اذونووچی ( اب اس کا نام ایک کروایٹ ہیرو کے نام پر کنیز مھیلیہ سٹریٹ تھا) میں مسلمانوں کے لگ بھگ دو سو گھر تھے جن میں سے اب ایک بھی آباد نہ تھا۔
اکثر گھر تباہ شدہ تھے۔ محلے کے شروع میں ایک بڑی مسجد تھی جسے سلطان سلیم نے 1519 میں تعمیر کرایا تھا۔ اس مسجد کو اس انداز سے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا کہ وہاں اس کا ملبہ تک موجود نہیں تھا۔ یہ میدان اب اول شب زغرب جانے والی بس کے اڈے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ رات کو ازونووچی میں تاریکی کا مکمل راج ہوتا تھا اور یہاں گشت کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ ناصر کاظمی کا یہ شعر یاد آتا تھا۔
جہاں تنہائیاں دم توڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
سٹولک اب مکمل طور پر کروایٹ قصبہ تھا۔ اس کی موجودہ آبادی 8250 افراد پر مشتمل تھی۔ ڈیٹن سمجھوتے کے تحت جن چار قصبوں میں تباہ شدہ گھروں کی محدود حد تک تعمیر نو کرنے کے بعد اصل آبادکاروں کو واپس لا کر بسانے کا ارادہ کیا گیا تھا سٹولک ان میں سے ایک تھا۔
وطن ملا تو گلی کے لیے بھٹکتا رہا
گلی میں گھر کا نشاں ڈھونڈتا رہا برسوں
باقی تین قصبے بوگونیو، جیسی اور ٹراونک تھے۔ بوگونیو اور ٹراونک میں علی الترتیب دو سو اور ایک سو گھروں کی تعمیر نو ہونا تھی۔ یہاں کروایٹ مہاجرین کو واپس لوٹنا تھا۔ جبکہ جیسی اور سٹولک میں دو سو اور ایک سو گھر مسلمان مہاجرین کی واپسی ممکن بنانے کے لیے مرمت کیے جانے تھے۔ سٹولک میں ہماری آمد کے کچھ ہفتوں کے بعد ہی یو۔ این۔ ایچ۔ سی۔ آر کی طرف سے محلہ ازونووچی میں ایک سو گھروں کی مرمت کا کام شروع ہو گیا۔
اس منصوبے کو پائلٹ پروجیکٹ کا نام دیا گیا۔ پھر یہ راز بھی ہم پہ جلد آشکار ہو گیا کہ سٹولک میں آئی۔ پی۔ ٹی۔ ایف سٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ اسی پائلٹ پروجیکٹ کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے یو این کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کی دنیا میں جہاں شر ہو ہمارے لیے باعث خیر ہوتا ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے مزید نوکریوں کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
واہ ری دنیا، واہ رے زمانے

