عمران ریاض خان جھوٹا نہیں ہے


آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ایک ایونٹ کے دوران آزاد صحافت کے موضوع پر تبادلہ خیال کی غرض سے چند مشہور صحافیوں کا پینل میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس پروگرام کی میزبانی میں کر رہی تھی مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ بحث آہستہ آہستہ میرے سوالوں پر شدت اختیار کر رہی تھی۔ اس محفل میں بیٹھے سب صحافیوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اشارتاً بہت سی پابندیوں کا ذکر کیا مگر ایک شخص ان کے درمیان ایسا تھا جس نے کیمرہ کے سامنے بہت کھلے الفاظ میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور پابندیوں کا برملا ذکر کیا۔

سیشن کے ختم ہونے کے بعد میں پرسنلی جا کر اس شخص سے ملی اس کے لہجے کی سختی اور الفاظ کی سچائی اس کو دوسرے صحافیوں سے الگ کر رہی تھی۔ عمران ریاض خان کے نام سے کون واقف نہیں مگر درحقیقت اس دن میں نے جانا کہ یہ عمران ریاض خان کون ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن کوئی کہے بھی کے عمران ریاض خان جھوٹا ہے تو میں یقین نہیں کروں گی کیونکہ انسان کا عمل اس کے کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

ہر چیز کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ جب شریف اور زرداری خاندان کو اقتدار سونپا جائے گا عمران ریاض جیسے کردار بھی پیدا ہوں گے۔ بجا طور پہ وہ پوچھتا ہے کہ کل تک جنہیں بدعنوانی کا المناک استعارہ آپ ثابت کرنے میں جتے تھے ’آج وہ تخت و تاج کے مستحق کیسے ہو گئے؟

عمران ریاض خان کا قصور یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ چوروں کو، ملک کا بیڑہ غرق کرنے والوں کو، ملک کیسے دے دیا یہ سمجھاؤ؟

صحافی ہونے کے ناتے ہمارے لیے مذمت کرنا بہت آسان ہے، جب کسی صحافی کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ حق سچ کا ساتھ دیں کیونکہ اس ملک میں مذمت کرنا آسان عمل نہیں ہے۔

اب یہ سوال تمام صحافیوں کی زبان پر ہے ان کو عمران ریاض کے سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کل تک ملک کی بربادی کے ذمہ داروں کو 22 کروڑ پاکستانیوں کا مستقبل کیوں سونپ دیا؟ آخر کیوں؟

‏‎امریکی ایسے تو نہیں کہتے پاکستانی ڈالروں کی خاطر اپنی۔ ۔ ۔ کو بھی بیچ سکتے ہیں۔

پہلی دفعہ ملک کے غداروں کو ٹکر کے لوگ ملیں ہیں، لڑائی پوری لڑے گے، جو کہتے ہیں خدا کی قسم درد ہوتا ہے، ہم نہیں مانیں گے، دل نہیں مانتا اینکر عمران ریاض خان کی بغاوت بھری تقریر کے الفاظ۔ ‏غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والی فیکٹری جب تھک ہار جائے تو ”غداری کے سرٹیفکیٹ“ بانٹنے کے ساتھ ”مقدمات“ کی تلوار لٹکا دیتی ہے۔ عمران ریاض خان بہادر آدمی ہے ان تمام ردعمل کے بارے میں وہ پہلے ہی جانتے تھا۔

پاکستان میں صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے ماضی میں مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی تشدد، کبھی قاتلانہ حملہ تو کبھی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں بیروزگار کرنے کی شکایتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

امپورٹڈ حکومت کے ابھی تو پچھلے داغ بھی نہیں دھلے تھے کہ اب آزادی صحافت پر شب خون مار کر اپنے منہ پر کالک بھی لگا لی۔ یہ بے شرم کس منہ سے الیکشن کمپین شروع کریں گے۔

پبلک اب باشعور ہے پبلک جان گئی ہے کہ پاکستان کو کس کس طرح سے لوٹا گیا۔ جس تیزی کے ساتھ عمران خان کا نظریہ عوام میں مقبول ہو رہا ہے اسی تیزی سے اس کو دبانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبر اور پیسے سے اب حکومتیں نہیں چلیں گے کیونکہ اب پاکستان جاگ گیا ہے اس میں غداروں کی کوئی جگہ نہیں۔ پاکستان زندہ باد۔

Facebook Comments HS